اردو نظم کے لیے ایک تاریخی دستاویز

نقاط تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: نقاط (کتابی سلسلہ) نظم نمبر

مرتب: قاسم یعقوب، زاہد امروز

معاونت: احمد اعجاز

قیمت: 600 روپے

صفحات: 904

ناشر: نقاط مطبوعات، بی - 240 سٹریٹ، سعید کالونی، مدینہ ٹاؤن، فیصل آباد

پاکستان میں باقاعدہ ادبی جرائد آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں، جو ہیں ان میں بھی باقاعدگی نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو جنرل ایوب خان کا وہ مارشل لا جو 1958 میں لگا اور اخبارات و جرائد نکالنے کے لیے ڈیکلئریشن لینا ناممکن ہو گیا اور نئے اخبارات و جرائد نکلنا بند ہو گئے۔ اس سلسلے کی بد ترین شکل جنرل ضیا الحق کے دور میں سامنے آئی اور پھر اسی دور میں یہ سلسلہ اس طرح ختم ہوا کہ اخبارات و جرائد کا ایک سیلاب آ گیا۔ لیکن کچھ ہی سال بعد پھر یہ آزادی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی اور اب صورتِ حال کم و بیش پھر سے ویسی ہی ہے۔

اسی عرصے کے دوران کتابی سلسلے شروع ہوئے جو ایسے ادیبوں ن شروع کیے جو پہلے سے موجود ادبی رسالوں میں نہ تو اپنے لیے کوئی جگہ پاتے تھے اور نہ ہی اپنی خیالات کے لیے۔ اب جو کتابی سلسلے جاری ہیں وہ اس موقف کا خاصا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے کئی لکھنے والوں نے ادب اور ادیبوں میں اپنے لیے جگہ بنائی ہے، وہ خود ادیب کیسے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔

نقاط کے نام سے جاری کتابی سلسلے کی یہ دسویں کتاب ہے اور اس میں دستیاب معلومات کے مطابق اسے سال میں دو بار شایع کیا جاتا ہے۔ اس کے مرتبین میں قاسم یعقوب تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں اور زاہد امروز تعلیم کے آخری مراحل میں ہیں۔

اس کے پیش لفظ نما تحریر کے دو حصے ہیں پہلا قاسم یعقوب نے اور دوسرا زاہد امروز نے لکھا ہے۔ قاسم یعقوب نے اپنے حصے میں شاعری کی تین ہئیتیں قبول کرتے ہیں: غزل، نظم اور گیت۔ ان کے مطابق غالباً اقبال کے بعد صرف راشد اور مجید امجد ہی دو مکمل نظم نگار ہیں۔ ان کے انداز سے مجید امجد سے ان کی غیر معمولی عقیدت کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔

خیر، ان کا مرتب کردہ یہ نظم نمبر انہی معنوں میں میرا جی سے شروع ہونے والی نظم کا بقول ان کے ایک ’اوورویو‘ ہے۔

زاہد امروز نے اپنے حصے میں بتاتے ہیں کہ ’ہم نے کوشش کی ہے کہ نئی نظم خصوصاً 60 کے بعد کی پاکستانی اردو نظم کا تجزیہ کیا جائے‘ لیکن انہیں نقادوں سے معاصر نظم پر نہ لکھنے کے رویّے کی شکایت ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اسی باعث اس نظم نمبر کو مرتب کرنے میں خاصا وقت لگا اور کئی اہم پہلوؤں پر زیادہ مواد شامل نہیں کیا جا سکا۔

ان کی شکایت بجا محسوس ہوتی ہے۔

اس کتاب میں ایک مباحثے سمیت تقریباً اڑتیس مضامین اور تجزیے ہیں اور پچیس تراجم سمیت تقریباً دو سو اکیاون شعری تخلیقات ہیں۔ مضامین کے حصے میں پہلا حصہ نظم کے نظری مباحث کے نام سے ہے، دوسرا حصہ معاصر منظر نامہ نظری مباحث کے عنوان سے ہے، تیسرا حصہ، نئی اردو نظم: نیا مطالعہ، جب کے دیگر حصوں میں اردو نظم کی تعمیری جہات، ن م راشد اور اختر الایمان کی نظموں کے جائزے اور اردو نظم کے توسیعی امکانات کے عنوانات سے ہیں۔

ان تمام حصوں جو مضامین ہیں ان میں ایسے شاعروں کی نظموں کے جائیزے بھی ہیں جو مرتبین کے طے کردہ معیار کے مطابق نظم کے شاعر نہیں بنتے۔ یہ معیار غالباً کچھ شدت پسندانہ اور نامناسب سا ہے اور اس سے نظم کی مجموعی صورتِ حال کو سمجھنے میں کسی فائدے کی بجائے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے لیکن مرتبین کو اپنی آزادی کے استعمال کا پورا حق ہے۔

اس کتاب میں دو سو اٹھائیس نظمیں اور پچیس تراجم ہیں۔ تراجم کے حصے میں پابلو نیرودا، نزار قبانی، ہانس بورلی، رلکے، یئٹس، آڈن اور جان اشبری کے نظمیں ہیں۔

مضامین کے حصے میں تمام ہی مضامین انتہائی سنجیدگی سے لکھے گئے ہیں اور نہ صرف بہت سے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ بہت سے ایسے سوالات کو بھی اٹھاتے ہیں جو نئی بحثوں کو تحریک دیں گے۔

ای مباحثے کے تحت کی جانے والی گفتگو سے شرکائے بحث کا اظہارِ علمیت اور ذوقِ گفتگو نظم پر بھاری پڑتا محسوس ہوتا ہے جو ظاہر ہے کہ شاعر اور نظم دونوں کے حق میں اچھا نہیں۔

اس کتاب کا ایک اہم حصہ میرا جی، ن م راشد، مجید امجد، اختر الایمان، وزیر آغا، مختار صدیقی، انیس ناگی، محمد سلیم الرحمٰن، ضیا جالندھری، جیلانی کامران، اختر حسین جعفری، آفتاب اقبال شمیم، عبدالرشید، ستیہ پال آنند، ساقی فاروقی، سرمد صہبائی، احسان اکبر، علی محمد فرشی، وحید احمد، رفیق سندیلوی، افضال احمد سید، جاوید انو، انوار فطرت، ذیشان ساحل، نصیر احمد ناصر، پروین طاہر اور ابرار احمد کی نظموں کا انتخاب ہے۔

اس حصے میں بھی ایسے شاعر ہیں جو مرتبین کے قائم کردہ معیار کے مطابق خالص یا محض نظم لکھنے والے نہیں ہیں اور کئی ایسے شاعر نہیں ہیں جن کے بغیر نظم کے کسی جائزے کو مکمل نہیں کہا جا سکتا اور ان میں نمایاں ترین چند نام افتخار جالب اور عباس اطہر، فہمیدہ ریاض اور نسرین انجم بھٹی کے ہیں جن سے چشم پوشی کی جائے تو اعتبار پر ضرور حرف آئے گا۔

پھر اگر نظم کی بات ہو گی تو کشور ناہید کے نام کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان تمام باتوں کے باوجود نقاط کا یہ نظم نمبر یقینی طور پر تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں شامل دو سو اٹھائیس سے زائد نظمیں معاصر نظم اور اس کے ماضی قریب کے بارے میں خاصا مناسب اوور ویو فراہم کرتی ہیں اور محض چھ سو روپے میں اگر اتنا کچھ پڑھنے کو مل جائے تو ادب کے قاری کو تو یقیناً خوشی ہی ہو گی۔

ایک اور بات جو اس کتاب کے حوالے سے بڑی اہم ہے کہ اس میں پروف ریڈنگ کی غلطیں بہت ہی کم ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرتبین اور ان سے تعاون کرنے والوں نے اس پر کتنی توجہ دی ہے۔

نقاط کے اس شمارے یا کتاب کا ٹائیٹل بھی خاصا معنی خیز اور دلچسپ ہے۔ ہم نے اس شکل کے بارہ سنگھے کے بارے میں تو سنا تھا لیکن اتنے سینگوں والے ہرن نما جانور کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا تھا لیکن عمار انجم نے اردو نئی نظم کی عکاسی کی ہے واقعی اردو کی نئی نظم ایک ایسا ہرن یا ہرن نما جانور ہے جس کے سینگوں کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے شمار نہیں کیا جا سکتا جسے کوئی ایسا درخت جس ہر شاخ سے ایک نئی شاخ نمو پاتی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان میں نظم کے حوالے سے ادبی جریدوں نے بہت زیادہ نظم نمبر شایع نہیں کیے اور جو کیے ان سب میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن نقاط کا یہ نظم نمبر ایک ایسی تاریخی دستاویز ہے، جس کے کئی پہلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن سنجیدگی اور معیار کے حوالے سے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں