مہدی حسن کی طبعیت سنھبلنے لگی

Image caption حکومت پاکستان مہدی حسن کو تمغہ امتیازاور تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے

پاکستان کے نامورگلوکار مہدی حسن کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے اور اب انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے کمرے میں منتقل کردیاگیا ہے۔

مہدی حسن گزشتہ کافی عرصے سے فالج کے عارضے میں مبتلا ہیں۔گزشتہ دنوں سانس کی تکلیف کے باعث انہیں کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کیاگیا تھا۔

مہدی حسن کے فرزند عارف مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد اب ہوش میں ہیں، ان میں بات کرنے کی سکت تو نہیں ہیں تاہم وہ باتیں سمجھ رہے ہیں۔

واضع رہے کہ بھارت کی ریاست راجھستان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش کی تھی۔ عارف مہدی کا کہنا ہے کہ پہلے مہدی حسن کی طبیعت کچھ سنبھل جائے اس کے بعد اس بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے۔

چوراسی سالہ پاکستانی گلوکار مہدی حسن جنہیں شہنشاہ غزل بھی کہا جاتا ہے راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی گائیکی پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبول ہے۔

عارف مہدی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے ابھی انہیں بیرونِ ملک علاج کا مشورہ نہیں دیا ہے، حکومت کے حکام ان سے رابطے میں ہیں اگر ضرورت پڑی تو مہدی حسن کو بیرونِ ملک بھی لے جایا جاسکتا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مہدی حسن پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گذارے، ان دنوں انہوں نے سائیکل پنکچر بنانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔

اسی عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا، سنہ انیس سو تریپن کو انہیں ریڈیو پاکستان میں ٹھمری گانے کا موقعہ ملا جس کے بعد ان پر کامیابی کے دروازاہ کھلتے گئے۔

انہوں نے پاکستان کی فلموں کے لیے بھی کئی گیت گائے، سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار لوگوں کے پسندیدہ ترین گلوکاروں میں ہوتا تھا۔

حکومت پاکستان انہیں تمغہ امتیازاور تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔

اسی بارے میں