شاعری کی دو نئے دعوے دار

تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: ذرے وچ خدائی

شاعر: سہیلہ

قیمت: 150 روپے

صفحات: 96

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز۔ بُک سٹریٹ۔ 2 / 46 مزنگ روڈ۔ لاہور

سہیلہ، سہیل پیٹرک کا قلمی نام ہے۔ انہوں نے پاکستان میں فلسفے اور الہیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آسٹریا سے پِیس سٹڈیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پنجابی میں شاعری کرتے ہیں اور انگریزی میں۔ یہ ان کے 1998 میں شائع ہونے والے شعری مجموعے کا دوسرا ایڈیشن ہے لیکن اس میں 2011 تک کی شاعری بھی شامل ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن میری نظر سے نہیں گزرا لیکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس میں کچھ کمی بھی کی ہو۔

ان کی انگریزی شاعری کا بھی ایک مجموعہ ’بی انگ نتھنگ‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ادب اور شعر کو بامعنی ہونا چاہیے۔ سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک سارے اساتذہ یہی سبق دیتے ہیں۔ اس کے بعد نظریاتی لوگ آ جاتے ہیں، فلسفے کے وکیل اپنی اپنی منطقوں اور دلائل کی تلواریں سونت کر کھڑے ہو جاتے ہیں، نقاد بھی اُسی کو سراہتے ہیں جو ان کے علم اور پہنچ کی حدود میں ہو۔ ان سب نے مل کر بڑی حد تک شاعری کو ہی نہیں، تمام ہی فنون کوقابو میں کر لیا ہے۔

شاعری انسانی تخلیق کا معراج ہے۔ انتہائی تخلیقی فکشن، رقص، مصوری، ڈرامہ یہاں تک کہ فلم بھی جب اپنی معراج کو پہنچتی ہے تو شاعری بن جاتی ہے۔ خارجی داخلی آہنگ، ریدھم، تکنیکیں، اسلوب اسی معراج تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں اور انفرادی پہچان کو اجاگر کرنے کے وسیلے ہیں، معنی کی تشکیل اور بیان کے نہیں۔ معنی اضافی ہوتے ہیں اور بے معنویت کا تصور، بالعموم مخصوص معنی کے تقاضوں اور رسائی کی عدم موجودی سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر معنی تخلیق پر سوار ہو جائیں تو تخلیق تخلیق نہیں رہتی، رہتی بھی ہے تو ادنیٰ درجے کی۔

تخلیق وہ آئینہ ہوتی ہے جس میں ہر دیکھنے والے کو اپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے لیکن یہ وصف دیکھنے والے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔

سہیلہ کی شاعری کا بڑا حصہ معنی اور مقصد سے بھرا ہے۔ یہ ان کی آزادی ہے کہ وہ شاعری کو مقصد کے لیے استعمال کریں یا نہ کریں۔

لیکن 2011 میں انہوں نے جو کچھ لکھا ان میں ایسی مختصر نظمیں بھی ہیں جن سے لگتا ہے کہ وہ شاعری کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ شعر کل کا حصہ بنتے محسوس ہوتے ہیں۔ آپ بھی دیکھیں:

راز: رب دا راز، وچ نماز، اندر وجن، لکھاں ساز

بجھارت: جو کجھ میری گل، اوہ کجھ میرا پھل، جو کجھ میری ذات، اوہ کجھ میرا حل

دھیان: جتھے تیرا دھیان، اوتھے کُل جہان، عرش فرش نیں اک، جیویں رب انسان

بی: ایدھر اودھر کیہ، اندر تیرے بی، آُگی جا توں آپ، اپنا جیونا جی

چوہڑا: اپنا آپی ہو، جیویں پُھل خوشبو، دل دا چوہڑا بن، اندر دا گند دھو

مجھے سہیلہ کی شعری اصل یہی لگتی ہے اب یہ فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ شعری باطن کی حرمت افضل ہے یا تعلیمی و منصبی۔ سہیلہ کو نجم حسین سید کا قرب بھی حاصل ہے اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کا قرب ہو اور ان کا رنگ نہ چڑھے۔

یہ کتاب سانجھ پبلیکیشنز نے شائع کی ہے اور بہت خوبصورت شائع کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: نئے دنوں کا سراغ

شاعر: اسلم شاہد

قیمت: 240 روپے

صفحات: 160

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز۔ بُک سٹریٹ۔ 2/46 مزنگ روڈ۔ لاہور

شاعری کے اس مجموعے کے تین وکیل ہیں۔ تینوں کا احترام اور اعتبار کسی تعارف کا محتاج نہیں، اردو ادب پڑھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو انہیں نہ جانتا ہو۔ منو بھائی، شہزاد احد اور عطا الحق قاسمی۔

منو بھائی کا کہنا ہے کہ ’عام لوگوں کے خوابوں اور جذبوں کو عام لوگوں کی زبان میں، آسان انداز میں بیان کرنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اسلم شاہد نے یہ مشکل کام بہت آسانی، سلیقے، اور اتنی ہی خوبصورتی سے سر انجام دیا ہے۔ ان کی شاعری کی ایک نمایاں خوبی کفایتِ لفظی ہے جو شعروں کے معنی اجاگر کرنے کے علاوہ انہیں بہت زیادہ پُر اثر بنا دیتی ہے اور یوں ’نئے دنوں کا سراغ‘ آنے والے دنوں کی پیش گوئی بن جاتا ہے۔ اسلم شاہد کی شاعری زیتون کی انتہائی نرم و نازک جڑوں کی طرح سنگِ مرمر کی رگوں میں اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘۔

شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ ’اسلم شاہد چوں کہ بڑے دھارے کے ساتھ سفر نہیں کرتےلہٰذا ان کی انفرادیت بہت حد تک قائم رہتی ہے۔ اپنے عہد میں رواں دواں مضامین کو انہوں نے بھی باندھا ہے مگر ان کا لہجہ اور طرزِ بیان ان کی اپنی ہے۔ انھوں نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہےاور اس کی تلخ و شریں حقیقتوں کو نہایت نفاست اور عمدگی کے ساتھ اپنی شاعری میں سمویا ہے‘۔

عطا الحق قاسمی کی پیش گوئی ہے کہ ’کفایت لفظی اور رمزیہ انداز اس شاعری کا خاص حسن ہے، اسلم شاہد کو یہ ہنر آتا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں بڑے سے بڑا خیال کیسے پیش کرنا ہے۔ اس پر مستزاد ان کا منفرد اسلوب ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے اور بہت آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا یہی مخصوص آہنگ و اسلوب بہت جلد ان کی پہچان بننے والا ہے‘۔

ایسے میں جب کہ غزل کا ہی نہیں نظم کا میدان بھی خالی اور ادھڑا ہوا سا دکھائی دیتا ہے اور سب کو ایک ایسے شاعر کی تلاش ہے جو بڑے دھارے کے ساتھ سفر نہ کرتا ہو، اس کا لہجہ اور طرزِ بیان اپنی ہو، زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں کو نفاست اور عمدگی کے ساتھ اپنی شاعری میں سمو سکتا ہو، عام لوگوں کے خوابوں اور جذبوں کو عام لوگوں کی زبان اور آسان انداز میں بیان کر سکتا ہو، کفایت لفظی اور رمزیہ انداز کی اس شاعری کا خاص حسن ہو اور اس کا منفرد اسلوب اسے اس کے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہو۔

اب اگر تین پڑھے لکھے، سمجھ دار، شعر کا فہم رکھنے والے کسی نئے شاعر کے بارے میں یہ کہیں کہ اس میں یہ سب خوبیاں ہیں تو ہمیں ضرور ان پر اعتبار کرنا چاہیے کیوں کہ شاعری اور ادب میں ہی نہیں زندگی میں بھی ایک اعتبار کے سوا کیا ہے۔

ادب کے لوگ جب کسی کے بارے میں بیان دیتے ہیں تو اپنے آپ کو بھی داؤ پر لگاتے ہیں، ایک زمانہ تھا کہ کچھ بزرگوں کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے فلیپ ہی نہیں پیش لفظوں کے بھی دو چار نمونے سائیکلو سٹائل کرا کے رکھے ہوئے ہیں اور جیسا آدمی آتا ہے اس کے حساب سے تھوڑا سا رد و بدل کر کے دے دیتے ہیں لیکن منو بھائی، شہزاد احمد اور عطا الحق قاسمی ان میں سے نہیں ہیں۔

اس لیے آپ کو اسلم شاہد کی شاعری پڑھنی چاہیے اور خود فیصلہ بھی کرنا چاہیے۔

میری مشکل یہ ہے کہ میں اسلم شاہد کی شاعری کو منو بھائی، شہزاد احمد اور عطاالحق قاسمی کی ساری باتوں کے باوجود محسوس نہیں کر سکا۔

یہ کتاب بھی سانجھ نے چھاپی ہے اور اچھی کتابیں چھاپنے پہ ان کی بڑھتے ہوئے کمال کی گواہی ہے

بہت ممکن ہے یہ دونوں کتابیں شاعروں، ادیبوں اور نقادوں کے لیے اہم نہ ہوں لیکن سماجی سوچ پر نظر رکھنے والوں اور عام پڑھنے والوں کے لیے ان میں ضرور کچھ ہے۔

۔

اسی بارے میں