موت کی کتاب: کتاب کی موت نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نام کتاب: موت کی کتاب

مصنف: خالد جاوید

قیمت: 260 روپے

صفحات: 160

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

شعبہ آثارِ قدیمہ کے ماہر پروفیسر والٹر شیلر کو ایک پاگل خانے کے کھنڈرات کی تحقیقات کے دوران ایک مسودہ ملا جو دو سو سال سے بھی قدیم تھا۔ یہ مسودہ ایک معدوم زبان میں تھا لیکن ان کے ایک دوست نے جس کا شجرہ محقق گارساں ژاتاثی سے جا ملتا تھا اس کا ایک مشینی ترجمہ تیار کر لیا۔

شیلر کا کہنا ہے: ’اس کتاب کو شائع کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسے پڑھ کر شاید کسی کو اس زمانے کے انسانوں کے جذباتی، انفرادی یا اجتماعی مسائل اور ان کے دکھ سکھ کا کوئی سراغ حاصل ہو ورنہ یہ کتاب نہ تو گرگٹہ تل ماس کی کسی تاریخی جہت پر روشنی ڈالتی ہے اور نہ ہی ادبی نقطۂ نظر سے یہ کوئی قابلِ ذکر کتاب قرار دی جا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے ڈچ رائٹنگ کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ ڈچ رائٹنگ کی اصطلاح ان تحریروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو نشے کے زیر اثر لکھی جاتی ہیں۔

یہ وہی متن ہے جسے خالد جاوید نے اپنے ناول کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ انیس اوراق پر مشتمل ہے، آپ آسانی کے لیے اوراق کو باب یا حصے بھی کہہ سکتے ہیں۔ خالد نے قاری سے کہا ہے کہ اسے یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جب چاہے، جہاں سے چاہے اس کتاب کو پڑھنا بند کر دے، اسے کھول کر ہی نہ دیکھے یا اسے بہا دے، میرے دل میں اس کے آزادانہ عمل سے کسی قسم کا افسوس یا کدورت پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔

بات اسی پر ختم نہیں ہوتی خالد جاوید نے روسو اور والٹر بنجامن کے جو ٹکڑے نقل کیے ہیں ان میں بھی اسی بات پر اصرار کیا گیا ہے جو شمس الرحمان فاروقی نے کہی ہے:

’یہ کوئی بہت آسان کتاب نہیں ہے۔ اس کو پڑھنے اور برداشت کرنے کے لیے ہمیں ادب اور افسانے کے کئی مروجہ تصورات کو پسِ پشت ڈالنا ہو گا۔ ’موت کی کتاب‘ جیسی تہ دار اور پھر سوچ پر مائل کرنے والی کتابیں روز روز نہیں لکھی جاتیں‘۔

یہ سب کیوں؟

اس پر بات سے ذرا پہلے میں اس ناول کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ ایسا ناول نہیں کہ جس کی کہانی مختصر نہ کی جا سکے۔ اس کے کئی حصے ایسے ہیں کہ انہیں کم کرنے سے بھی ناول پر فرق نہیں پڑے گا۔

ناول اپنے مرکزی کردار کے بیان پر مشتمل ہے، بیان کا لفظ میں یہاں محض آسانی کے لیے استعمال کر رہا ہوں۔ مرکزی کردار میں بے خوابی، وحشت، جنون، جنسیت، مرگی، آتشک اور جذام اور دیوانگی تک سب جمع ہیں۔ اس کی ماں میراثن ہے، باپ زمیں دار خاندان کا شہوت پرست، جسے شادی کے بعد گھر سے الگ رہنا پڑ رہا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی بیوی کے ایک بھگوڑے فوجی سے ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے۔ اس کا رویہ وہی ہے جو ایسے میں ایسی بیوی اور بیٹے سے ایسے آدمی کا ہو سکتا ہے۔

مرکزی کردار کو پہلی بار سرعام تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا گیا جب اسے اپنی چھت سے، قدرے بڑی عمر کی لڑکی کو جنسی اشارے کرتے دیکھا گیا۔ بچپن ہی سے باپ بیٹا نفرت کی زنجیر سے بندھے ہیں، بیٹا باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ ان حالات میں ایک جھگڑے کے بعد ماں غائب ہو جاتی ہے، بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ تبدیل ہوتا ہے لیکن زیادہ نہیں۔ جب بیماریاں اور بد فعلیاں بہت بڑھیں تو دوا دارو اور انڈے تعویزوں کے بعد حل کے طور پر شادی کر دی گئی، جب کوئی چیز نہیں بدلی تو پاگل خانے پہنچا دیا گیا جہاں بجلی کے جھٹکوں سے علاج ہوا۔ اس کے بعد ہی اس پر پیدائش سے پہلے کا وہ منظر منکشف ہوتا ہے جو تب کا ہے جب اسے ماں کی کوکھ میں آٹھواں مہینہ تھا اور اس کے باپ نے جبراً جنسی آسودگی حاصل کی تھی۔

مرکزی کردار خود کشی کا ذکر بہت کرتا ہے لیکن شروع سے آخر تک خود کشی نہیں ہوتی، وہ باپ کو قتل کرنے کی بات بچپن ہی سے شروع کرتا ہے اور اسے ایک بار قتل بھی کرتا ہے لیکن خیال میں۔ وہ اپنی ماں کو آخری بار فوجیوں کے قبرستان میں دیکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کا رویہ باپ سے تبدیل نہیں ہوتا۔

یہ ناول اپنی ساخت میں سریندر پرکاش کی کہانی ’دوسرے آدمی کا ڈرائینگ روم‘ اور انور سجاد کے ناول ’خوشیوں کا باغ‘ سے قریب ہے۔ سریندر پرکاش نے ’دوسرے آدمی کا ڈرائینگ روم‘ جیسی کہانی دوبارہ نہیں لکھی بلکہ ’بجوکا‘ کی ساخت پر چلے گئے، انور سجاد نے بھی ’خوشیوں کا باغ‘ کے بعد شاید زیادہ نہیں لکھا۔ اس کے علاوہ بھی مجھے دوستویفسکی کے ’نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ‘ اور صادق ہدایت کے بلائنڈ اوول‘ کی یاد آئی۔

موت کی کتاب کی نثر اور اسلوب، مرکزی کردار کی اپنی ہر بات اور اپنے ہر تعلق سے لاتعلقی کی ’صحیفۂ ایوب‘ سے مماثلت نہیں بنتی جیسا کہ شمس الرحمان نے امکان ظاہر کیا ہے، اس میں تعلق سے لا تعلقی ہے، اُس میں لا تعلقی سے تعلق ہے۔ اس میں مرکزی کردار بتدریج محسوسات سے عاری ہو رہا ہے۔

خالد جاوید کا کہنا ہے کہ شمس الرحمان فاروقی نے ’جگہ جگہ املا اور زبان کی غلطیاں ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ ناول کی نوک پلک درست کرنے میں بھی مجھے حد درجہ اپنا تعاون بخشا‘۔

مجھے ان کے اس بیان پر شبہ نہیں لیکن اس ناول میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا نظر انداز ہونا صرف یہ بتاتا ہے کہ شمس الرحمان نے جب یہ ناول دیکھا ہو گا تو ان کی طبیعت یقیناً ٹھیک نہیں رہی ہو گی ورنہ تو ان کی نظر سے یہ باتیں محو ہو جانا کسی صورت ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مضمون بھی اس شدت کا حامل نہیں جو ان سے مخصوص ہے۔

اس لیے میرا خیال ہے کہ خالد جاوید کو یہ ناول اب ایک دو بار خود بھی پڑھنا چاہیے اور اپنا ناول سمجھ کر نہیں کسی ایسے کا ناول سمجھ کر جسے وہ کوئی رعایت دینے پر تیار نہ ہوں۔ کاش یہ کام شمس الرحمان فاروقی نے کیا ہوتا۔

میں نے خالد جاوید کے افسانے اور دوسری تحریریں نہیں پڑھیں لیکن اس ناول سے ان کے تمام تر امکانات بہت واضح ہیں۔ عام طور پر ناول نگار ایک بار شائع ہو جانے کے بعد ناول میں ترمیم و اضافہ نہیں کرتے لیکن میں اس کے خلاف ہوں اور خود اپنے دونوں ناولوں کو از سرِ نو لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

عام قارئین کے لیے یہ ناول مشکل ہو گا اور اسے ایک بار پڑھنا یقیناً کافی نہیں ہو گا لیکن شاعری کی طرح پڑھنے سے مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب عمدہ چھپی ہوئی ہے لیکن پروف ریڈنگ مزید توجہ چاہتی ہے۔

اسی بارے میں