تیسرا کراچی جشنِ ادب گیارہ فروری سے شروع

امینہ سید، آصف فرخی، شریلا گھوش اور مارٹن فریئر پریس کانفرنس کے بعد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امینہ سید، آصف فرخی، شریلا گھوش اور مارٹن فریئر پریس کانفرنس کے بعد

کراچی جشنِ ادب 2012 میں اردو، سندھی، پنجابی، پشتو، انگریزی، جرمن اور فرانسیسی میں لکھنے والے 145 ادیب، شاعر اور دانشور شریک ہوں گے۔

گزشتہ دو جشنوں کی طرح اس بار بھی تخلیقی تحریروں کے ورکشاپ، مباحثے، مذاکرے، خطبے، کتابوں کی نمائش، کتابوں کی رونمائی، موسیقی، فلموں کی سکریننگ، اور مشاعرہ ہوگا۔ جس کے دوران پاکستان اور بیرون پاکستان سے آنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کا موقع میسر آئے گا۔

تیسرا کراچی لٹریری فیسٹیول یا جشنِ ادب گیارہ فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ دو دن جاری رہنے والے اس جشن میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان بھر سے ادیب، دانشور اور شاعر شریک ہوں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، او یو پی، برٹش کونسل اور آصف فرخی کے اشتراک سے ہونے والے اس فیسٹیول کے انعقاد کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے او یو پی کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے کہا کہ اس فیسٹیول کے انعقاد سے نہ صرف مختلف زبانوں کی ہمہ جہتی سامنے آتی ہے بل کہ مختلف ہئیتوں میں لکھنے جانے والے ادب کے ذریعے پاکستان کے تاریخی تناظر کوسمجھنے میں مدد ملتی۔

پریس کانفرنس میں امینہ سید کے ساتھ، نقاد، مترجم اور افسانہ نگار آصف فرخی، برٹش کونسل پاکستان کے پروگرام ڈائریکٹر مارٹن فریئر، اور جنوبی ایشیا میں برٹش کونسل کی ڈائریکٹر آرٹس شریلا گھوش بھی موجود تھیں۔

اس موقعے پر برٹش کونسل کے مارٹن فریئر نے کہا کہ ’کراچی لٹریری فیسٹیول تخلیقی سرگرمیوں اور کتابوں کے ذریعے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو زبانوں اوران ثقافتوں اور رشتوں پر تبادلۂ خیال کا موقع دے گا جو ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو ناول نگار ایم ایچ نقوی اور منیزہ نقوی

آصف فرخی کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے ایک ایسا نادر موقع تصور کرتے ہیں جس کا ایک اہم کردار ہے۔ ہم اسے ایک ایسی کھڑکی سمجھتے ہیں جس کے ذریعے دنیا پاکستان کی حقیقتوں کو دیکھ سکتی ہے اور ان سے ایک رشتہ قائم کر سکتی، جب کہ خود پاکستان اس سب حالات کا سامنا کر سکتا ہے جو دنیا بھر میں ہو رہے ہیں‘۔

برٹش کونسل جنوبی ایشیا کی شریلا گھوش نے کہا کہ ’کراچی جشنِ ادب پاکستان اور اس خطے میں لکھے جانے والے ہم عصر فکشن اور نان فکشن کی اصل قوت کو سامنے لانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور جس طرح پاکستان کے کئی ادیبوں نے دنیا بھر میں ایک مستحکم ساکھ بنائی ہے اُس سے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ یہ جشن ادیبوں کی نئی نسل کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہو گا اور ان میں بھی اپنے جوہر سامنے لانے کی تحریک پیدا کرے گا‘۔

اس بار برطانیہ کے انعام یافتہ موّرخ اور ادیب ولیم ڈالریمپل جشن کے کلیدی سپیکر ہوں گے۔ وہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مسلمان دنیا کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

جشن میں اس بار انگریزی لکھنے والے جو ادیب شریک ہو رہے ہیں ان میں حنیف قریشی، وکرم سیٹھ، شوبھا دیو، اناتول لیوین، ایم ایچ نقوی، سدھارتھ دیو، عائشہ جلال، منیزہ نقوی، احمد رشید، کاملہ شمسی، محمد حنیف، محسن حامد اور مرزا وحید سرفہرست ہیں۔

جب کہ اردو کے ادیبوں میں انتظار حسین، زہرہ نگاہ، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، افتخار عارف، عذرا عباس، فاطمہ حسن، احمد فواد، شاہدہ حسن، حارث خلیق اور علی اکبر ناطق کے نام نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں