ٹام،ڈک اینڈ ہیری: ایک بار دیکھنا ضروری

ٹام، ڈک اینڈ ہیری تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹام، ڈک اینڈ ہیری کا ایک ٹنظر

شاہ شرابیل کا نیا سٹیج ڈراما ٹام ، ڈک اینڈ ہیری کراچی کے ڈراما نقادوں کو پسند نہیں آیا، آنا بھی نہیں چاہیے، کیوں کہ جب کسی مزاحیہ ڈرامے کو صرف تفریح کے چند گھنٹوں کی بجائے بہت سارے مقاصد اور بہت زیادہ توقعات کے ساتھ مختلف موڈ میں دیکھا جائے تو اس کا نتیجہ مایوسی کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا۔

انگریزی اور بیس فیصد پنجابی کا مکسچر یہ ڈراما رے کونّے اینڈ مائیکل کے ڈرامے سے ماخوذ ہے۔ ماخوذ اس لیے کہ اس میں تھوڑی سی تبدیلیاں اداکاروں کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہیں۔ البانیہ و کوسوو کے غیر قانونی تارکینِ وطن کی جگہ سکھ تارکینِ وطن دکھائے گئے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی کم و بیش اصل کے مطابق ہے: اس میں ٹام، ڈک اور ہیری تین بھائی ہیں۔ ان میں ٹام شادی شدہ ہے۔ ٹام (مصطفیٰ چنگیزی) اور اس کی بیوی لنڈا (مریم انصاری) ایک بچے کو اپنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ کہانی اس دن کی ہے جب بچوں کو دینے کا فیصلہ کرنے والے ایجنسی کی نمائندہ ٹام اور لنڈا کے گھر یہ دیکھنے کے لیے آنے والی ہے کہ وہ اور ان کا گھر اپنائے جانے والے بچے کے لیے مناسب بھی ہے یا نہیں۔

جب ٹام اس فکر میں ہے کہ ایجنسی کی نمائندہ مسز پوٹر (رابعہ لغاری) کے سامنے ساری باتیں اس طرح ہوں کے وہ مطمئن جائے، ٹام کا بھائی ڈک سمگل شدہ سگریٹوں اور اور شراب کے ساتھ وارد ہوتا ہے ، ابھی وہ اس مشکل پر ہی قابو نہیں پاتا کہ ڈک اُسے یہ بتاتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک سکھ سردار سوراج سنگھ (ثاقب سمیر) اور اس کی نواسی ، روپ کور، (موزینہ ملک) بھی آئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور مشکل ٹام کا بھائی ہیری (منیب الرحمان) اپنی بظاہر نیک نیتی سے پیدا کرتا ہے۔ وہ ہسپتال میں کام کرتا ہے اور وہاں سے انسانی اعضا کی بڑی تعداد ایک بڑے تھیلے میں بھر کر لے آتا ہے ۔ اس کا منصوبہ یہ ہے کہ اگر ان اعضا کو اس مکان کے باغ میں دفن کر دیا جائے جس میں ٹام رہ رہا ہے تو اس سے مکان کی جو بدنامی ہو گی اس کے نتیجے میں ٹام وہ مکان کو کہیں کم قیمت پر خرید سکے گا اور مسز پوٹر پر اُن کا اچھا اثر پڑ سکے۔

Image caption شرابیل اس سے پہلے، تماشیوں کو کھینچنے والی کامیاب پیشکشیں کر چکے ہیں۔

ان مضحکہ خیز مشکلات اور ان پر قابو پانے کی مضحکہ خیز کو ششوں میں یہ سارا دن گزرتا ہے۔ اس میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب گھر کے باہر مشکوک انداز میں کھڑی وین کو دیکھ کر کانسٹیبل ڈاؤنز (ڈیوک رُتھ سائمن) پوچھ گُچھ کے لیے گھر میں آ جاتا ہے اور سوراج سنگھ اور روپ کور کے لیےجعلی پاسپورٹ بنانے والا طے شدہ رقم کی جگہ دُگنی رقم کا مطالبہ کر دیتا ہے اور اس کی نیت روپ کور پر خراب بھی ہو جاتی ہے۔

ڈرامے کا مزاح ہال میں بیٹھے اکثر لوگوں لوگوں کو پسند نہیں آیا جب کہ کچھ لوگ قہقہے بھی لگاتے رہے۔ غالباً اس کی وجہ ڈرامے میں درپیش مسئلے سے تماشائیوں کی لاتعلقی ہے۔ مسئلہ ایسی سماجی نوعیت کا ہے کہ جو برطانوی سماج کی داخلی ساخت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور برطانیہ میں بھی ایشیائی تارکین وطن کی جگہ اسے انگریز شہری ہی زیادہ بہتر طور پر محسوس کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں تھیٹر دیکھنے والے ان تماشائیوں کا بھی اس مسئلے سے تعلق پیدا ہونا آسان نہیں جو برطانیہ اور اس کے داخلی سماجی مسائل سے آگاہ ہوں۔

یہاں کچھ لوگوں کہ ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر دوسرے انگریزی ڈرامے یہاں کامیابی کیوں حاصل کرتے رہے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ایسے ڈراموں میں غالباً ایسے مسائل ہوئے ہیں جو تمام تقافتوں کے مشترک عوامل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے شرابیل نے اس ڈرامے میں سکھ اور عرب کردار ڈالے ہیں۔

جہاں تک اداکاری کا تعلق ہے تو اس ڈرامے کا تمام تر انحصار چنگیزی پر ہے جو ابتدا سے انجام تک تمام وقت سٹیج پر رہتے ہیں اور طویل طویل مکالمے ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کردار کو انتہائی بھر پور اندا زسے ادا کیا ہے اور مستقبل میں وہ یقیناً ایک بھر پور اور بڑا اداکار بننے کے تمام امکانات رکھتے ہیں۔ ذیشان شوکت اور منیب نے بھی عمدہ کام کیا ہے لیکن انھیں کچھ اور محنت کرنا ہو گی۔ موزینہ ملک اور محمد اشرف عبدالرحمان بھی اپنے کرداروں میں عمدہ تھے۔ موزینہ ملک کا انداز زیادہ فطری اور زیادہ امکانات کا اظہار کرتا ہے۔ دوسرے اداکاروں میں سائمن کے سوا سب اوسط یا اس سے کچھ کم ہی کہلا سکتے ہیں۔

شرابیل اس سے پہلے، تماشیوں کو کھینچنے والی کامیاب پیشکشیں کر چکے ہیں۔ میں نے ان کی وہ پیشکشیں نہیں دیکھیں لیکن ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ لوگ ان کا ذکر اب بھی کرتےہیں۔

Image caption ڈرامے میں ڈانس بھی ہیں لیکن وہ ڈانس نہیں جو عام طور سٹیج ڈراموں میں پیش کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے ایک وڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ سٹیج ڈراما اب زبانوں سے بلند ہو چکا ہے۔ میں ان کی اس بات سے متفق ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تماشائی تقافتوں سے بلند ہو چکے ہیں۔

رے اور مائیکل کا یہ ڈراما تو برطانیہ میں بھی زیادہ کامیاب نہیں ہوا تھا اور اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ جب یہ ڈراما ہوا تھا تو بہت ساری تبدیلیاں آ چکی تھیں لیکن اس کے باوجود بھی ڈراما کامیاب ہو سکتا تھا جیسے خود شرابیل نے امپرووائی زیشنز کی ہیں اور تضاد کو ایک نئی شکل دی ہے ، تو اصل بات تضاد کو ایک نئی شکل دینے کی ہے، ایک ایسی شکل جو تماشائیوں کو بار بار ڈراما دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کامیڈی میں تو اس کی ضرورت اُس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اسے ایک مختلف ثقافت میں پیش کیا جا رہا ہو۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس میں مصالحہ ڈالا جانا چاہیے۔ یہ میوزیکل نہیں ہے ، اس لیے زیادہ مشکل ہے۔ لیکن وہ ڈائریکٹر اور ایک طرح سے نیم مصنف بھی ہیں، وہ زیادہ بہتر طور پر سوچ سکتے ہیں کہ وہ اس ڈرامے میں اور کیا تبدیلیاں کر سکتے ہیں جن سے اس ڈرامے کا بنیادی مسئلہ بھی تبدیل نہ ہو اور اس کی کشش بھی اور بڑھ جائے۔ اس کے لیے جنسی اوور ٹونز اور ایکشنز پر انحصار تن آسانی بھی ہے اور خراب تاثر بھی پیدا کرتی ہے۔ میں سیکسی حرکات اور مکالموں کے خلاف نہیں لیکن طاقتور جواز کے حق میں سو فیصد ہوں اور شاید یہی بات تخلیق اور لچر پن میں فرق پیدا کرتی ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود ٹام، ڈک اینڈ ہیری مجموعی طور پر ایک ایسا ڈراما ہے جسے سٹیج ڈرامے دیکھنے والے تمام شائقین کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں