کچھ دُکھ، کچھ اداسی، کچھ احتجاج اور کچھ محبت

تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: اوجاگل اکھین جا سپنا (جاگتی آنکھوں کے سپنے)

شاعرہ: امر سندھو

صفحات: 99

قیمت: 400 روپے

ناشر: عورت زاد، ویمن ریسرچ اینڈ پبلیکیشن۔ قاسم آباد، حیدر آباد، سندھ۔ پاکستان

یوں تو آپ بہت سارے لوگوں سے ملتے ہیں، انھیں دیکھتے ہیں، جاننے لگتے ہیں پھر بھی وہ الگ، دور قدرے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں۔ جب بھی ان کا نام آتا ہے، کہیں اچانک ان سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کی یاد ایسے تازہ ہو جاتی ہے جیسے کوئی بہت ضروری بات جو ذہن سے اُتر گئی تھی اور یاد کرنے پر بھی یاد نہ آتی تھی۔ ایسی ہی امر سندھو ہیں، جنہیں میں ایک عرصے سے جانتا ہوں۔

وہ کون ہیں؟ کہاں رہتی ہیں؟ کیا کرتی ہیں؟ میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا، بس یہ کہ ایک لڑکی ہیں جو ایکٹوسٹ ہیں، لیفٹسٹ ہیں، قوم پرست ہیں، شعر کہتی ہیں۔ کئی ایک نششتوں میں انہیں سننے کا موقع بھی ملا لیکن کبھی کوئی ایسا تاثر قائم نہیں ہوا جو ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے، اپنا احساس دلاتا رہتا ہے، ایک گونج سی باقی رہ جاتی ہے جس کی۔ جب کبھی اس کا خیال آتا تو بھی وہ کبھی پوری طرح یاد نہ آتیں۔ صرف ان کی آنکھیں یاد آتیں اور مسکراہٹ۔ ان دونوں کے پیچھے ایک بے چینی اور اُداسی سی، جسے میں کبھی کوئی نام نہیں دے سکا اور اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔

ایک عرصے بعد مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ سندھ یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتی ہیں اور باقاعدہ شاعری بھی کرتی ہیں۔

امر کی اسی کتاب کے ذریعے میری امر سے ملاقات ہو رہی ہے اور ایسی کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں انہیں کسی حد تک جانتا ہوں، بس ایک حد تک۔ مجھے یہ امر سندھو بہت اچھی لگی ہے۔ اب میں کسی حد تک جان گیا ہوں کہ ان کی آنکھیں اور مسکراہٹ کیوں یاد آتی تھی۔ اب میں نے ان کی آنکھوں کی چمک اور مسکراہٹ کے پیچھے روشن اُس اُداسی کو نظموں میں دمکتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ اب میں نے کسی حد تک جان لیا کہ وہ کیا چیز ہے جو جاتے ہوئے اُداسی سی چھوڑ جاتی تھی۔

ابھی ان کی نظموں میں ان کا لہجہ نہیں آیا لیکن وہ آ گئی ہیں۔ یہ نظمیں نہ تو چیخ رہی ہیں نہ چلّا رہی ہیں، بس آہستہ آہستہ بات کر رہی ہیں اور ایسے جیسے کسی کو فاصلے سے کچھ بتا رہی ہوں یا جیسے کسی سے فون پر بات کر رہی ہوں اور سوچ رہی ہوں یہ باتیں قریب اور سامنے رہ کر نہیں کی جا سکتیں۔ یہ باتیں کچھ دُکھ، کچھ اُداسی، کچھ احتجاج اور کچھ محبت میں بھیگی ہوئی ہیں۔

آپ بھی دیکھیں:

میں تمھاری مسافت بنوں گی / اور تمہارے ہی قدموں سے / اپنے آپ کو ناپوں گی

٭ ٭ ٭

جو شام / تیرے پاس سے اُداس لوٹ کر آئی تھی/ میں نے / آج شام کی چائے / اس کے ساتھ پی ہے

٭ ٭ ٭

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ احساس ہی بہت توانائی دیتا ہے کہ مستقبل امر جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا، اور ہمیں کیا چاہیے۔

میری باری آنے سے پہلے ہی / وقت میرا کھیل ختم کر چکا تھا / وہ جنگ / جو لڑے بغیر ہاری گئی / وہ میرے اندر ہے / میں نے تو اپنے سائے تک کو نہیں بتایا ہے / کہ میرے خوابوں اور نظموں کی آخری آرام گاہ کہاں ہے۔

میں نے اپنی بوئی ہوئی / دعاؤں کے کھیت میں / فقط ببول اُگتے ہوئے دیکھے ہیں

٭ ٭ ٭

تم / میرے ہر جنون کا ساحل ہو / اور ساحل کا اپنا ایک تقدس ہے / تب ہی تو / ساحل پر ہمیشہ ننگے پاؤں ہی چلا جاتا ہے / میرے پاس پیاس ہے / کیا تم دریا بنو گے؟ / میرے پاس تھکن ہے / کیا تم میری / چھاؤں بنو گے؟

امر سندھو، سندھی میں لکھتی ہیں۔ ان کی شاعری کو اردو میں عطیہ داؤد نے منتقل کیا ہے۔ وہ امر سندھو کو بھی جانتی ہیں اور ان کی زبان کو بھی۔ اس کا پیش لفظ فہمیدہ ریاض نے لکھا ہے، جس میں کچھ مایوسی اور فکر مندی ہے لیکن یہ امر کی شاعری کے بارے میں نہیں ہے:

’اپنی زندگی کے طویل سفر میں، مجھے چند لڑکیاں ایسی ملی ہیں جن کے لیے میرے دل نے خوفزدہ ہو کر بار بار پوچھا ہے کہ ان کا انجام کیا ہو گا؟ وقت ان کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا زمانہ انہیں مسل اور کچل کر رکھ دے گا؟ شاید یہ میری سن رسیدگی کی کمزوری ہو جسے تجربے کا حاصل سمجھ بیٹھی ہوں۔ میں ان کے پیارے روشن چہرے دیکھ کر یہ کیوں نہیں سوچتی کہ یہ زمانے اور وقت کے ساتھ کیا کریں گی‘۔

مجھے فہمیدہ کی زبان سے ایسے باتیں اچھی نہیں لگتیں، شاید میں انہیں بزرگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس میں تو شک نہیں کہ میں انہیں اس وقت اردو کی سب سے بڑی شاعرہ سمجھتا ہوں۔ شاعرہ ہی نہیں شاعر بھی۔ اگر ہم درجے بندیوں کو عمروں کی قید سے آزاد کر دیں تو کون ہے جو فیض کی کمی کو پورا کرتا دکھائی دیتا ہو۔

امر سندھو کے بارے ان کی فکر مندی محض بزرگانہ اور ایک کمزور لمحے کی گرفت ہے۔ مجھے تو یہ احساس ہی بہت توانائی دیتا ہے کہ مستقبل امر جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا، اور ہمیں کیا چاہیے۔

امر سندھو کی کتاب کو خدا بخش ابڑو نے السٹریٹ کیا ہے اور بہت ہی عمدہ کیا ہے۔ کیا شاعری کو اتنا خوبصورت اور عمدہ چھپنا چاہیے؟ اس کا جواب خود امر سندھو ہی کو اپنے نظریات کی روشنی میں، کسی اور کو نہیں خود اپنے آپ کو دینا ہو گا۔

ممکن ہے اس کتاب کو شایع کرنے والوں نے جس مارکیٹ کو ذہن میں رکھا ہو اس کے حوالے سے چار سو روپے زیادہ نہ ہوں لیکن چار سو روپے خاصے ہوتے ہیں۔ کیا نہیں ہوتے، امر؟

اسی بارے میں