غزل اندر غزل: جنسی جمالیات، جنسی کیفیات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صابر ظفر کے مجموعے کی یہی خوبی ہے کہ انھوں نے حرفِ برہنہ سے گریز کرتے ہوئے بھی جنسی جمالیات کے متعدد زاویوں کو غزل کا حصہ بنا دیا ہے: پروفیسر انصاری

پروفیسر سحر انصاری کا کہنا ہے کہ صابر ظفر کے مجموعے کی یہی خوبی ہے کہ انھوں نے حرفِ برہنہ سے گریز کرتے ہوئے بھی جنسی جمالیات کے متعدد زاویوں کو غزل کا حصہ بنا دیا ہے۔

نام کتاب: غزل اندر غزل

شاعر: صابر ظفر

صفحات: 144

قیمت: 150 روپے

تقسیم کار: سٹی بُک پوائنٹ، نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

صابر ظفر ایک جانے پہچانے غزل گو ہیں، ان کی غزلوں کا یہ انتیسواں مجموعہ ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ ’ابتدا‘ 1974 میں شایع ہوا تھا۔ اس دوران ان کے تین ایسے مجموعے بھی آئے جن میں گیت بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ان کی غزلوں کے چھ انتخاب بھی شایع ہو چکے ہیں جن میں سے ایک ’صابر ظفر کی مزاحمتی شاعری‘ کے نام سے شایع ہوا ہے۔ گویا اس مجموعے میں جمع کی گئی غزلوں کے سوا باقی غزلیں دوسری نوع کی۔

غزل اندر غزل، میں پانچ بزرگوں کی آرا بھی شامل ہیں جو تینتیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ سب ہی بزرگ صابر ظفر کو پچھلے چالیس سال سے جانتے ہیں۔

پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر عبدالکریم خالد، جلیل ہاشمی اور فراست رضوی سب ہی اگر پوری اردو دنیا کے نہیں تو کم از کم کراچی کے ضرور جانے پہچانے لوگ ہیں۔ سب نے صابر ظفر اور ان کی غزلوں کے حوالے سے مختلف معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے لیکن ان میں پروفیسر سحر انصاری ایک ایسے ہیں جنہوں نے اس مجموعے میں شامل غزلوں کی موضوعاتی اور کیفیاتی علٰیحدگی کو دیکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجموعہ ’غزل اندر غزل‘ ایک اور رنگ ڈھنگ کا حامل ہے۔ اس میں صابر ظفر نے لفظیات کے پیرائے تو وہی رکھے ہیں جو انہیں پسند ہیں لیکن موضوعات اور کیفیات میں توجہ جنسی جمالیات اور جنسی تجربات پر زیادہ ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’صابر ظفر کے مجموعے کی یہی خوبی ہے کہ انھوں نے حرفِ برہنہ سے گریز کرتے ہوئے بھی جنسی جمالیات کے متعدد زاویوں کو غزل کا حصہ بنا دیا ہے‘۔

سحر انصاری نے باقی کام پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان غزلوں کو پڑھیں اور یہ طے اور محسوس کریں کہ صابر ظفر کی جنسی جمالیات اور کیفیات، جنسی جمالیات و کیفیات کی روایت اور تاریخ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں۔

میں جنسی جمالیات اور کیفیات کے معاملے میں بالکل کورا ہوں، اس لیے میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اردو ادب کا خانہ اس نوع کی جمالیات کے حوالے سے کم و بیش خالی ہے اور اس حوالے سے جو بھی ہے وہ خاصا لجلجا اور بیمار سا ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال میرا جی کی شاعری ہے جس پر جنسی ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے، ان کی شاعری کس حد تک جنسی ہے یا نہیں ہے اس سے الگ ان پر جس طرح بات کی گئی، اس کے بعد کسی نے اس طرف قدم رکھنے کی ہمت نہیں کی۔ اگر سلسلہ میرا جی سے آگے چلتا تو ضرور کچھ بالغ، کچھ صحت مند اور کچھ توانا رویّوں کی توقع ہو سکتی تھی اور ہمیں اس نوع کی جمالیات کے بارے میں بھی کچھ جاننے کا موقع ملتا۔

اب اگر پروفیسر سحر انصاری یہ کہہ رہے ہیں صابر ظفر نے جنسی جمالیات اور تجربات پر توجہ دی ہے تو میرے لیے یہ ضرور بڑی بات ہے اور شاید ان سب لوگوں کے لیے بھی ہو گی جو اردو کو بالغ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صابر ظفر ایک جانے پہچانے غزل گو ہیں، ان کی غزلوں کا یہ انتیسواں مجموعہ ہے

سحر انصاری کا یہ کہنا اس لیے انتہائی اہم ہے کہ انہوں اپنی ساری عمر دنیا بھر کا ادب پڑھنے پر صرف کی ہے اور وہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ جنسی جمالیات اور کیفیات نے ادب میں کیا کیا کرشمے دکھائے ہیں۔ وہ یہ بات محض روا روی میں نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے صابر ظفر کی اس کتاب پر جو لکھا ہے، اس کا ایک ایک لفظ احتیاط اور ذمہ داری کا اظہار کر رہا ہے۔

پاکستان میں اردو کا معاملہ خاصا ڈھیلہ اور ناتواں ہے اور اس کی وجہ ہماری معاشرتی ساخت ہے جس نے صرف لوگوں کو ان لفظوں سے ڈرایا ہے جو جنسی کیفیات اور جمالیات کا اظہار کر سکتے ہیں بلکہ انہیں اس بات پر بھی اکسایا ہے کہ وہ اس نوع کا اظہار کرنے والوں کا جینا بھی اجیرن کر دیں۔

سحر انصاری نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’حرفِ برہنہ سے گریز‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے، شاید اسی گریز کا نتیجہ ہے کہ لکھنے والے آہستہ آہستہ مریضانہ صوفی منشی اور بیمارانہ رومانیت کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ یقیناً اس گریز نے ایک طرح کی خود احتیاطی یا سیلف سینسر شپ کو پیدا کیا ہے۔

میری ناقص رائے میں ادب کے لیے اس سے مہلک کوئی اور بات نہیں ہو سکتی۔ ادب نے کبھی بھی اور کہیں بھی سیاسی تبدیلیاں پیدا کرنے میں براہِ راست ہتھیاروں اور ذرائع کا کردار ادا نہیں کیا۔ ادب سوچنے سمجھنے سے علاقہ رکھنے والے محدود لوگوں کے ذہنی اور فکری مکالموں میں شریک ہوتا ہے اور انہیں انفرادی و اجتماعی سوچ میں پیدا ہونے اور ہو سکنے والی تبدیلیوں کے امکانات کے بارے میں بتاتا ہے اور پھر وہ اس سے ممکنہ سماجی، اخلاقیاتی، نفسیاتی، فلسفیانہ اور سیاسی نتائج اخذ کرتے ہیں۔

اب اگر اس اہم ذریعے پر ہی پہرے بٹھا دیے جائیں گے تو ظاہر ہے کہ ہمارے دوسرے نتائج اور فیصلے بھی درست نہیں ہو سکیں گے اور ہم بتدریج زوال کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ کچھ باتوں کے اظہار کے لیے حرفِ برہنہ ہی درکار ہوتے ہیں اور ان سے گریز در حقیقت اظہار سے گریز ہے۔ اب اگر اظہار پر خارجی پابندیوں کو ہم غلط سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے نتائج اچھے نہیں نکلتے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ داخلی پابندیوں کے نتائج اچھے ہوں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہم اس تضاد کا شکار ہیں۔

غزل کے حوالے سے یہ ساری باتیں مجھے اس لیے اہم لگتی ہیں کہ یہ واحد ہئیت ہے جسے اظہار کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ غزل کے پورے حجم کے مقابلے میں نظم بہت ہی کم ہے۔ افسانہ اور ناول تو اس سے بھی کم ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلے ساٹھ سال میں اردو نے جو بڑے پیدا کیے ہیں وہ ویسے ہی بڑے ہیں جیسے بالشتیوں میں ہو سکتے ہیں۔

یہ میرا احساسِ کمتری یا دوسری زبانوں سے محض مرعوبیت نہیں ہے بلکہ اس کا احساس خاص طور پر ان تراجم کو پڑھ کر اور زیادہ ہوتا ہے جو اب اردو میں ہونے لگے ہیں۔ ذرا خود ہی سوچیں اگر اردو والوں کے لیے ’لفظوں سے خوفزدہ لوگ‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو کیا غلط ہو گا؟

اب ذرا ایسے لوگوں کو ذہن میں لائیں جو لفظوں سے ڈر کر بھاگ رہے ہوں یا اپنے پستول، بندوقیں اور توپیں اٹھائے گھروں کے دروازوں پر بیٹھے ہوں کہ کہیں لفظ ان کہ گھروں میں گھس کر کوئی گڑ بڑ نہ کر دیں۔

صابر ظفر کی غزلوں کا یہ مجموعہ غزل لکھنے والوں کے لیے بھی اہم ہے اور غزل پڑھنے والوں کے لیے بھی۔ غزل لکھنے والوں کے لیے اس لیے کہ وہ آئندہ کے لیے ’کرنے اور نہ کرنے‘ کو جان سکیں اور پڑھنے والوں کے لیے اس لیے کہ اس میں ان کے لیے گریز کے باوجود بھی بہت کچھ ہے، بس انہیں اپنے تخیل کی طاقت کو ذرا زیادہ استعمال کرنا پڑے گا۔

کتاب مجلد ہے، اچھی چھپی ہے، تقریباً غلطیوں سے پاک ہے اور قیمت انتہائی مناسب ہے۔

اسی بارے میں