’سبھاش گھئی سرکاری زمین واپس کریں‘

سبھاش گھئی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سبھاش گھئی ایک مشہور ہدایت کار ہیں

ممبئی ہائی کورٹ نے فلم پروڈیوسر سبھاش گھئی سے کہا ہے کہ وہ ولاس راؤ دیش مکھ کے دورِ اقتدار میں انہیں فلم سکول بنانے کے لیے الاٹ کی گئی زمین حکومت کو واپس کر دیں۔

عدالت نے مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی اور موجودہ بھارتی کابینہ کے رکن ولاس راؤ دیش مکھ پر تنقید کی کہ انہوں نے سبھاش گھئی کو بہت کم قیمت پر حکومتی زمین الاٹ کی۔

ولاس راؤ دیش مکھ نے سنہ دو ہزار چار میں جو وہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی تھے، سبھاش گھئی کو بیس ایکڑ کا ایک پلاٹ الاٹ کیا تھا جو کہ حکومتی جائیداد تھی۔

سبھاش گھئی کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف وہ سپریم کورٹ کا رخ کریں گے جبکہ ولاس راؤ دیش مکھ کا کہنا ہےکہ وہ عدالت کے حکم نامے کو دیکھے بغیر اپنی رائے نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ اس بارے میں ممبئی کے مقامی کسانوں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن داخل کی گئی تھی ۔

ممبئی ہائی کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا ’مسٹر دیش مکھ نے سبھاش گھئی کو زمین الاٹ کرنے میں واضح طور پر اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے‘۔

ججوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے’جہاں شفافیت اور سمجھداری کے تمام اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے‘۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری زمین کی صحیح قیمت کے برعکس گھئی کو سستے داموں زمین دے دی۔

سبھاش گھئی کا کہنا ہے کہ وہ غلطی پر نہیں انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ سے انہیں انصاف ملے گا۔

سبھاش گھئی بالی وڈ کے بہترین ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے رام لکھن، سوداگر، ہیرو جیسی مقبول فلمیں بنائی ہیں۔.