اردو کے معروف شاعر شہر یار نہیں رہے

Image caption شہر یار کی شاعری حالات کی عکاس ہے

بھارت میں اردو کے مشہور شاعر اخلاق محمد خان شہر یار کاانتقال ہوگيا ہے وہ چھہتر برس کے تھے اور کافی دنوں سے علیل تھے۔

پیر کی شام کو انہوں نے علی گڑھ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانسیں لیں۔ شہر یار کو برین ٹیومر بھی تھا۔

ادب و شاعری میں ان کی خدمات کے لیے بھارتی حکومت نے سنہ دو ہزار آٹھ میں انہیں گیان پیٹھ جیسے اعزاز سے نوازہ تھا۔

بھارت کی بدلتی تصویر کو جن ادیبوں یا شعراء نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے ان میں اردو کے شاعر شہر یار خان کا بھی شمار ہوتا ہے۔

سنہ انیس سو ستاسی میں ان کی کتاب ’خوابوں کے در بند ہیں‘ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی انعام سے بھی نوازہ گیا تھا۔

شہر یار کی پیدائش سنہ انیس سو چھتیس میں ریاست اترپردیش کے ضلع بریلی میں ہوئی اور وہ ملک کے ایسے چوتھے اردو ادیب تھے جنہیں گيان پیٹھ جیسے انعام سے نوازا گيا۔

انیس چھتیس میں جب وہ پیدا ہوئے اسی وقت لکھنؤ میں ترقی پسند ادب کی بنیاد رکھی گئی تھی اور عوام کے حالات پر مبنی شہر یار کی شاعری بھی ترقی پسند ادب کی عکاسی کرتی ہے۔

اردو شاعری اور مشاعروں کا تعلق بہت گہرا ہے لیکن شہر یار اس سے متفق نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جو بھی تبدیلیاں ہوئیں اردو شاعری میں وہ کسی نا کسی طرح ظاہر ہوئیں اور وہ ان کی شاعری میں بھی وہ جھلکتی ہیں۔

شہر یار نے امراؤ جان، انجمن اور گمن جیسی فلوں کے نغمے بھی لکھے تھے لیکن وہ خود کو فلمی شاعر نہیں مانتے تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دوست مظفر علی کے کہنے پر فلموں کے نغے لکھے تھے۔

اسی بارے میں