آئی ایس آئی کی جاسوس نہیں: وینا ملک

Image caption اسی تصویر کے بعد ان پر جاسوسی کا الزام عائد ہوا

بھارت میں پاکستان کی متنازعہ اداکارہ وینا ملک نے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئي ایس آئي کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔

دلی پولیس نے عدالت میں داخل کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ وینا ملک آئی ایس آئي کی جاسوس نہیں ہیں۔

ان پر جاسوسی کا الزام ایک میگزین میں ان کی ایک عریاں تصویر کی اشاعت کے بعد عائد کیا گيا تھا جس میں ان کے ایک بازو پر آئی ایس آئی کا ٹیٹو واضح طور پر کنندہ تھا۔

اس سے پہلے عدالت نے اس سلسلے میں ایک عرضی پر سماعت کے بعد پولیس کو اس معاملے کی تفتیش کرنے کے احکامات دیے تھے۔

پولیس نے تفتیش کے بعد اپنی ایکشن ٹیکن رپورٹ ( اے ٹی آر) عدالت میں داخل کی ہے جس کے متعلق مجسٹریٹ پوروا سرین نے اس مقدمے کے فریقین کو آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’جامعہ نگر کے ایس ایچ او نے ایکشن ٹیکن رپورٹ فائل کر دی ہے۔ وینا ملک کا بیان اس میں درج ہے اور اس پر مزید سماعت آئندہ دو مارچ کو ہوگي۔‘

پولیس کے مطابق وینا ملک نے جاسوسی کرنے جیسے کسی بھی الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

دلی میں جامعہ نگر علاقے کی ایک مسجد کے امام مہیدالحسن نے اپنے وکیل انور احمد کے ذریعے عدالت میں عرضی داخل کی تھی کہ جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ وہ آئی ایس آئی کی جاسوس ہیں اور ان کے خلاف ملک سے غداری کرنے کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اس عرضی میں ان کی اس نیم عریاں تصویر کا بھی ذکر ہے جس میں ان کے بائیں بازو پر آئی ایس آئی کا ٹیٹو بھی تھا۔

عدالت سے شکایت کی گئی تھی کہ ان کی اس تصویر سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کرتی ہیں۔

جب یہ تصویر پہلی بار شا‏ئع ہوئی تھی تو وینا ملک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے اسے شائع کیا گیا ہے اور انہوں نے خود ایسی تصویر نہیں بنوائی۔

اسی بارے میں