’نہ کنگفو آتا ہے اور نہ ہی خوبصورت ہوں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ریکھا جیسا مجرا میرے بس کی بات نہیں

کرینہ کپور تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption کرینہ کپور کا یہ پہلا مجرہ ہے

کرینہ کپور اپنی آنے والی فلم ’ایجنٹ ونود‘ میں پہلی بار مجرا کرتی نظر آئیں گی۔ کرینہ کے فلمی کیرئیر کا یہ پہلا مجرا ہے اور اس مجرے کو بالی وڈ کا ’ماڈرن‘ مجرا کہا جا رہا ہے۔

گلابی لباس میں کرینہ اس مجرے میں لگ تو بہت خوبصورت رہی ہیں لیکن اس مجرے کو دیکھ کر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ یہ کیسا مجرا ہے۔

یہ سوال صرف ایک عام شائقین کے ذہن میں ہی نہیں آتا بلکہ خود کرینہ کپور کہتی ہیں ’یہ مجرا ادارکارہ ریکھا کو نذر ہے‘۔ کرینہ کا کہنا ہے کہ فلم امراؤجان میں ریکھا نے جیسا مجرا کیا ہے وہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

کرینہ آپ ہی کیا ہم سب یہی کہہ رہے ہیں ریکھا جیسا مجرے کی بات چھوڑیے، آپ کی بس کی بات مجرا ہی نہیں ہے!

شاہ رخ میں صلاحیت نہیں

Image caption شاہ رخ خان کی فلم 'ڈان ٹو' برلن فلم فیسٹول میں دکھائی گئی تھی

شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ ان میں اداکاری کی ایسی کوئی صلاحیت نہیں ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہالی وڈ میں کام کر سکیں۔

حال ہی میں شاہ رخ کی فلم ڈان ٹو برلن فلم فیسٹول میں دکھائی گئی تھی اور وہاں فلم کو بے حد پسند کیا گیا۔

اس کے بعد جب شاہ رخ سے پوچھا گیا کہ وہ ہالی وڈ کی فلموں میں کام کرنا پسند کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنے اچھے اداکار نہیں ہیں کہ وہ ہالی وڈ میں کام کریں۔

شاہ رخ خان کا کہنا تھا نہ تو انہیں کنگفو آتا ہے اور نہ ہی وہ خوبصورت ہیں۔

کچھ نہیں بدلے گا

تصویر کے کاپی رائٹ official website
Image caption بپاشا باسو کی نئی فلم ' جوڑی بریکر' جلد ہی ریلیز ہونے والی ہے

اداکارہ بپاشو باسو کا کہنا ہے کہ ودیا بالن کی فلم ’ڈرٹی پکچر‘ نے بھلے ہی یہ احساس دلایا ہو کہ بالی وڈ میں ہیرو کی جگہ ہیروئن نے لی ہے لیکن ایک فلم سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بالی وڈ میں اس طرح کی ایک آدھی فلمیں بنتی ہیں۔

بپاشا کے مطابق جب اس طرح کی فلمیں آتی ہیں تو لوگ ہیروئن کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن اصلیت یہ ہے کہ بالی وڈ میں ہمیشہ ترجیح ہیرو کو ہی دی جاتی ہے اور دی جاتی رہے گی۔

غالب کا تیسرا ملازم

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گلزار نے غالب کے خطوط پر مشتمل ایلبم کا اجراء کیا ہے

مشہور نغمہ نگار گلزار کا کہنا ہے کہ وہ غالب کے ملازم ہیں اور غالب کی پینشن لے رہے ہیں جو خود غالب نہیں لے پائے۔

گلزار نے یہ بات غالب کے خطوط پر مشتمل البم کے اجراء کے موقع پر کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب کی زندگی میں دو ملازم تھے جو ان کا کام کرتے تھے اور اب تیسرا ملازم خود گلزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ دو ملازم تو اس دنیا سے چلے گئے لیکن وہ ابھی غالب کی ملازمت کر رہے ہیں۔