’تین شعراء اور ایک آواز‘

تصویر کے کاپی رائٹ 777
Image caption لندن میں فیض احمد فیض کے صد سالہ جشن پیدائیش کے بعد فیض کلچرل فاؤنڈیشن یو کے نے اس تقریب کا انعقاد کیا

اس وقت پاکستان میں نہ ترقی پسند مصنفین کی کوئی تحریک چل رہی ہے اور نہ ہی بائیں بازو کی کوئی قدرے طاقتور سیاسی جماعت موجود ہے، مگر پھر بھی اگر تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو فیض احمد فیض، حبیب جالب یا استاد دامن جیسے ترقی پسند شعرا کے خیالات، اشعار یا تلمیہات کے ذریعے۔

لندن میں فیض احمد فیض کے صد سالہ جشن پیدائیش کے بعد فیض کلچرل فاؤنڈیشن یو کے نے فیض سمیت ان کے ہم عصر ترقی پسند شعرا، استاد دامن اور حبیب جالب، کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: تین شعراء اور ایک آواز!

اگرچہ اس تقریب میں بہت ساری آوازیں تھیں جن میں ان شعراء کے نظریہ انقلاب اور تبدیلی کے فلسفوں پر بات کرنے کیلئیے سر فہرست سینیٹر اعتزاز احسن، پروفیسر امین مغل، ہمراز احسن، صحافی مجاہد بریلوی اور ایوب اولیا تھے تاہم لال بینڈ اور ڈاکٹر رادھیکا چوپڑا نے ان شعرا کے کلام کو جس طرح خوبصورت سروں اور ڈھول دھمکّے کے ساتھ پیش کیا، اسے ایک تاریخی موقع کہا جا سکتا ہے۔

فیض احمد فیض نے حیدرآباد دکن (انڈیا) سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک ہمخیال دوست، مخدوم محی الدین کی جب موت کی خبر سنی تو مخدوم ہی کی ایک غزل کے پہلے مصرعے پر ان کی یاد میں ایک غزل کہی تھی۔ مخدوم کی غزل کا پہلا شعر کچھ یوں تھا:

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

جشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض نے مخدوم محی الدین کی اس غزل کے پہلے مصرعے کو اپنی غزل کا بھی پہلا مصرعہ قرار دیا اور اپنا شعر اس طرح کہا:

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چاندنی دل جلاتی رہی رات بھر

لندن کی یہ تقریب اس لحاظ سے شاید منفرد تھی جہاں غزل گو مغنّیہ، ڈاکٹر رادھیکا چوپڑا، نے ان دونوں غزلوں کو اپنی خوبصورت اور سحر انگیز آواز میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے فیض کی چند اور نظموں کے ساتھ جبیب جالب کے غزل بھی گائی۔

اسی تقریب میں پاکستان سے آنے والے لال بینڈ نے آج کے مقبول اندازِ موسیقی میں فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی شاعری خوب دھوم دھڑکے کے ساتھ گائی۔ تیمور رحمان جو کے پاکستان میں فعال بائیں بازو کی تنظیم کے ایک رہنما ہیں، لال بینڈ کے بانی اور لیڈر بھی ہیں۔ ان کے مقبول انداز کی گائیکی کے دوران تقریب کے شرکا نے دھمال نما رقص بھی کیا۔

’تین شعرا اور ایک آواز‘ کرنے والی فیض کلچرل فاؤنڈیشن یو کے، ترقی پسند خیالات رکھنے والے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی ایک تنظیم ہے جس کا باقاعدہ قیام تو گزشتہ برس عمل میں آیا مگر عملاً یہ تنظیم اس وقت وجود میں آچکی تھی جب اس نے آج سے تین برس قبل فیص احمد فیص کا صد سالہ جشنِ پیدائیش منانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

لندن کے بڑے بڑے پنڈتوں کا کہنا ہے کہ فیض کے جشن پیدائیش کی تقریب بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد تقریب تھی جس میں کم از کم دو ہزار شہریوں نے ٹکٹ خرید کے شرکت کی۔ جو کہ برطانیہ میں غالباً پاکستانیوں کی اس طرح کی سب سے بڑی تقریب تھی۔ تا ہم گزشتہ سنیچر کو ہونے والی ’تین شعرا اور ایک آواز‘ کی اس تقریب میں بھی کانوائے حال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے فیض احمد فیض، استاد دامن اور حبیب جالب کے اشعار کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سوشلسٹ سوچ کے یہ لوگ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھتے رہے اور اسے کے لیے انہوں نے قربانیاں دیں۔ مگر پاکستان اس وقت ایک نیشنل سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے۔

تقریب میں استاد دامن کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے پروفیسر امین مغل نے کہا کہ جہاں فیض نے ترقی پسند خیالات کو کلاسیکل شاعری کے انداز میں پیش کیا تو وہاں حبیب جالب نے مقبول عام اور کلاسیکل شاعری کے درمیان پل کا کردار اد کیا، مگر استاد دامن نے عوامی انداز کی شاعری کے ذریعے ترقی پسند خیالات کو عام لوگوں کی زبان کا حصہ بنا دیا۔

مجاہد بریلوی نے حبیب جالب سے متعلق اپنے مضامین کو جمع کر کے ایک کتاب ’جالب جالب‘ شائع کی اور اس تقریب میں انھوں نے اسی میں سے چند ایک اقتباسات پیش کیے۔

پاکستانی ڈائیسپورا کا ہر وہ فرد جس کا ماضی میں یا حال میں کبھی بھی ترقی پسند خیالات سے کوئی تعلق ہے یا رہا ہے، اس کے لیے اب فیض، جالب یا استاد دامن اپنی جگہ پر خود استعارے بن گئے ہیں جن کی بات کرکے وہ تبدیلی کے اپنے خوابوں کی تعبیر دھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر اب سوچنا یہ ہے کہ ماسوائے چند دانشوروں کے جن میں سر فہرست پروفیسر امین مغل کا نام آتا ہے، ان ترقی پسند شعرا پر بات کرنے والی بڑی شخصیات میں کون ہے جو روایتی طور پر ترقی پسند کہلانے کا حقدار ہے۔ ’تین شعرا اور ایک آواز‘ تقریب کے شرکا کے ذہنوں میں اب یہ سوال ضرور ’خراب کاری‘ کر رہا ہے۔

جس وقت فیض احمد فیض کے ہمعصروں نے ترقی پسند مصنفین کی تحریک شروع کی تھی اس وقت ایک امید تھی، سر خ سویرے کی باتیں ہوتی تھیں، سامراج اور ملا کا اتحاد ان ترقی پسند لوگوں کا بڑا مخالف تھا۔ مگر اب سامراج اور ملا بظاہر بر سرِ پیکار ہیں، سرخ سویرے کے جگہ مذہبی شدت پسندی کے سیاہ بادل چھائے نظر آرہے ہیں۔

ایسے حالات میں ترقی پسندوں کے استعارے ہی ایک بڑی قوت سمجھے جا رہے ہیں۔ فیض، جالب یا دامن کی بات کرنے والے نہ روایتی طور پر ترقی پسند ہیں نہ ہی سرخ سویرے کے نقیب ہیں اور نہ ہی انقلاب کا ذکر اب ان کی زبان پر آتا ہے۔

اب بقول شخصے لبرل، بائیں بازو کی طرف جھلاؤ رکنے والے لیفٹسٹس، موقع پرست، دائیں بازو کے آزاد خیال، مذہبی انتہا پسند، سرمایہ دار، جاگیردار، انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے، عدلیہ کی آزادی کا رونا رونے والے، اور شاید آئی ایس پی آر (پاکستانی فوج کا ترجمان ادارہ) سبھی فیض اور جالب کی شاعری کو اپنے اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔

اسی بارے میں