’تخلیقی عمل کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں ہوتا‘

آفتاب اقبال شمیم
Image caption آفتاب اقبال شمیم

آفتاب اقبال شمیم اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں۔ ان کا ادبی سفر نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے، اب تک ان کی نظموں کے چار مجموعے: فردا نژاد، زید سے مکالمہ، گم سمندر، اور میں نظم کہتا ہوں، کے نام سے شایع ہو چکے ہیں۔ ان سے ایک مختصر ملاقات اور گفتگو۔

سوال: آفتاب شمیم صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے بی بی سی اردو کے لیے وقت نکالا، امید ہے کہ آپ گفتگو سے ہمیں اور ہمارے سننے اور پڑھنے والوں کو بہت کچھ جاننے کا موقع ملے گا۔ سب سے پہلے تو آپ ہمیں اپنے بچپن اور اُس ماحول کے بارے میں بتائیں جس نے آپ کو بنایا اور تراشا؟

محبتیں تو کیں مگر ان کا چرچا نہیں کیا: مکمل انٹرویو

آ ا ش: اب تو میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں آبِ قدیم کے ساحلوں سے چل کر آیا ہوا آدمی ہوں۔ 16فروری 1933 کو میں جہلم شہر میں پیدا ہوا ۔ ۔ ۔

سوال: یہ بتایے کہ شاعری طرف رخ کیسے ہوا؟

آ ا ش: یہ تو ظاہر ہے کہ گھر کا ماحول ادبی تھا، والد گھر پر کچھ ادبی رسائل لایا کرتے تھے۔ عالم گیر، ہمایوں، نیرنگِ خیال اور زمانہ، اس طرح رسائل گھر پر ہوتے تھے، میں والد کے سامنے تو انہیں کھول نہیں سکتا تھا لیکن چُھپ کر پڑھا کرتا تھا اب یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ ان کا اثر مجھ پر کیا پڑتا تھا لیکن ان کا پڑھنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ میٹرک کرنے کے بعد جب میں جہلم سے راولپنڈی منتقل ہوا تو یہاں کالج کے دنوں میں مجھے بڑی پذیرائی حاصل ہوئی، ایک تو مجھے کالج میگزین کا سٹوڈنٹ ایڈیٹر بنا دیا گیا اور دوسرا مجھے اردو کی مجلس کا نائب صدر بنایا گیا ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کی پہلی تخلیق کیا تھا اور کب اور کہاں شایع ہوئی؟

آ ا ش: یہ انیس سو ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔ جب میں نے ایک طویل نظم لکھی، جس کا عنوان تھا ‘ستمبر کا شہر’ وہ نظم میں نے ڈاکٹر وزیر آغا کو بھیجی جو اس وقت ادبی دنیا کے ایڈیٹر تھے۔ چند ہی دنوں کے بعد مجھے ایک خط ملا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ میری عمر کتنی ہے اور یہ کہ میں نے اس نظم کا عنوان ‘ستمبر کا شہر’ کیوں رکھا ہے؟ تو میں نے انھیں اس کا جواب بھیجا جس کے بعد ان کا ایک طویل خط آیا ۔ ۔ ۔

سوال: عام طور پر نوجوانوں میں شاعری کی ابتدائی تحریک رومانی نوعیت کو ہوتی ہے، تو یہ بتائیں آپ بھی کسی ایسے صدمے سے دوچار ہوئے یا آپ کو شاعری نے کسی اور طور پر تحریک کیا؟

آ ا ش: یہ تو بہر طور زندگی کا ایک حصہ ہے اور خاص طور پر عہد جوانی میں تو آپ غمِِ دل میں تو مبتلا ہوتے ہیں۔ ہم جس دور میں رہ رہے تھے اس میں غزل کی بڑی مخالفت ہوئی۔ ترقی پسندوں نے کہا کہ یہ جذبات کی شارٹ ہینڈ ہے، کلیم الدین احمد نے کہا کہ یہ ایک وحشی صنفِ سخن ہے۔ اور عشق و محبت ہمیشہ سے غزل کا مرکزی موضوع رہا ہے۔ تو ہمارے دور میں ان مسائل کو زیادہ اہمیت دی گئی جو ابھر کر سامنے آ رہے تھے ۔ ۔ ۔

سوال: اس زمانے تک مغربی شاعروں کا اور خاص طور پر انگریزی شاعروں کا بھی بہت اثر شروع ہو چکا تھا تو یہ بتائیں کہ آپ کو بھی کسی شاعر نے متاثر کیا؟

آ ا ش: میری تو ابتدا ہی اس وقت ہوئی جب یہاں لسانی تشکیلات کے حوالے سے مغربی تحریکوں کا بڑا چرچا تھا تو اس دور میں ان تحریکوں سے ایک تعلق پیدا کرنا، انھیں سمجھنا اور جانچنا، اس پر ہم لمبی بحثیں کیا کرتے تھے۔ ۔ ۔

سوال: آپ کی نظم، ایک تو یہ کہ تخلیقی حوالے سے، کہ کیسے لکھتے ہیں اور پھر یہ کہ آپ اپنے ریڈر یا قاری سے کیا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انہیں کیسے پڑھے یا پڑھنے کی کوشش کرے؟

آ ا ش: تخلیقی عمل کوئی باقاعدہ منصوبہ تو نہیں ہوتا، یہ عمل اچانک ہو جاتا ہے، کہ آپ بہت سی بحثیں کر چکے ہیں، بہت سی شاعری پڑھ چکے ہیں، بہت سا غم جھیل چکے ہیں، تو نظم خود کو ظاہر کرنے کے لیے آپ کے اندر ایک کرب پیدا کرتی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے ہاں یہ واردات کیسے ہوتی ہے؟

آ ا ش: اچانک ہی ہو جاتی ہے، کبھی یہ نہیں کہ پہلے سے طے کر کے۔ یا مضمون سوچ کر، پھر اس پر لکھنے بیٹھ گئے۔ ایک خیال آتا ہے اس کی رو میں بہہ کی آپ لکھتے چلے جاتے ہیں کبھی پوری نظم آ جاتی ہے کبھی آدھی رہ جاتی ہے۔ تو جتنی میں نے پوری نظمیں لکھی ہیں اتنی ہی میں نے آدھی بھی لکھی ہیں؟

سوال: پڑھنے کے بارے میں کیسے پڑھی جائے آپ کی نظم؟

آ ا ش: نظم کے پڑھنے کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا، نظم کو پڑھنے کے لیے اس کے جو زیادہ پوٹنٹ، اہم حصے ہیں، جو مرکزی ہیں، ان پر آپ کو زیادہ (سٹریس) زور دینا ہے، ان کو آپ کسی اور انداز سے پڑھتے ہیں، کسی اور کی نظم آپ پڑھیں، ایسے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ نے نثری نظم یا نثری شاعری بھی کی ہے تو آپ کے خیال میں نثری نظم کا نظم کیا ہوتا ہے؟

آ ا ش: پہلی بات تو میں یہ کہوں گا کے نثری نظم جدید نظم کا ایک تسلسل ہے اور اُس کی ایک توسیع بھی ہے۔ شروع میں نثری نظم کو قبول نہیں کیا گیا اور ہمارے ہاں کلاسیک سے جڑے ہوئے جو لوگ تھے انہوں نے اسے یک دم رد کر دیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نثری نظم نے اپنے آپ کو منوایا ہے ۔ ۔ ۔

اسی بارے میں