لطف اللہ خان انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آخری ایام میں وہ ان آوازوں کو ڈیجیٹائزڈ کررہے تھے

پاکستان میں مختلف آوازوں کا ذخیرہ رکھنے کے ضمن میں معروف شخصیت لطف اللہ خان سنیچر کو کراچی میں پچانوے برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

انہوں نے آوازوں کو ذخیرہ کرنے کا کام اس قدر محنت اور لگن سے انجام دیا تھا کہ وہ ایک خزانے کی شکل اختیار کرگیا تھا۔

ان کے ذخیرے میں برصغیر کی مختلف اہم شخصیات کی پانچ ہزار آوازیں تھیں۔

آوازوں کے اس ذخیرے میں قائدِاعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاستدانوں اور فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی اور پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری جیسے شعراء کی آوازیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے فیض احمد فیض کا مکمل کلام ان کی آواز میں ریکارڈ کیا ہوا تھا۔

ان کے پاس برصغیر کے نامور شعراء ، موسیقاروں کے علاوہ مذہبی شخصیات کی آوازوں کا بھی ذخیرہ تھا جس میں مولانا احتشام الحق تھانوی کی آواز میں قرآن کی مکمل تفسیر سب سے اہم ہے۔

لطف اللہ خان نے زیادہ تر افراد کی آوازیں انہیں اپنے گھر بلاکر ریکارڈ کیں تاہم جن شخصیات کو وہ نہیں بلا سکے ان کی آوازیں انہوں نے ریڈیو پاکستان اور آل انڈیا ریڈیو سے حاصل کیں۔

انہوں نے چار کتابیں بھی تصنیف کیں جن میں انہوں نے ان شخصیات اور اپنے کام کے بارے میں لکھا۔

آخری ایام میں وہ ان آوازوں کو ڈیجیٹائزڈ کررہے تھے اور ٹیپ سے ڈی وی ڈی میں منتقلی کا سارا کام وہ خود ہی انجام دیتے تھے۔

آخری اطلاعات تک وہ صرف سات سو کے قریب شخصیات کی آوازیں ہیں ڈی وی ڈی پر منتقل کر پائے تھے۔