جب تک تخلیقی عمل وارد نہیں ہوتا

علی محمد فرشی صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے بی بی سی کے لیے وقت نکالا۔ تو ابتدا یوں کرتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ ہمیں اپنے بچپن اور اس ماحول کے بارے میں بتائیں جس میں آپ کی پرورش ہوئی؟ علی محمد فرشی: ع م ف: میں راولپنڈی کے نواحی قصبے چونترا میں پیدا ہوا۔ میرے والد تحصیل تلا گنگ میں ریوڑ چراتے تھے۔ ایک روز میرے والد نے اپنے ریوڑ کو چراگاہ میں چھوڑا اور فرار کی راہ اختیار کر لی۔ بیس برس کی تلاش کے بعد ان کے بڑے بھائی نے انھیں بریلی میں جا ڈھونڈا۔ وہاں انھوں نے چار شادیاں کیں۔ میری والدہ اصغری بیگم کا تعلق سمبھل سے تھا۔ پاکستان بنا تو میری والدہ بھی والد کے ساتھ پاکستان آ گئیں۔ والدہ نے اپنے گھر میں ہی ایک درسگاہ کھول لی جس میں وہ لڑکیوں کو پڑھاتی تھیں۔ والدہ سے میرا رشتہ ماں بیٹے سے زیادہ استاد اور شاگرد کا تھا۔ میری ادبی زندگی میں میری والدہ کا کردار زیادہ اہم ہے کیونکہ سکول جانے سے پہلے میں اپنی والدہ سے ‘آرائشِ محفل’ دو بار سنی۔ ‘آرائش محفل’ نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ ۔ ۔  سوال: شاعری سے کیسے رجوع ہوا اور پھر آگے اس کی نمو کیسے ہوئی؟ ع م ف: میری ادبی زندگی کا آغاز تو افسانے سے ہوا۔ میں نے اپنا پہلا افسانہ 1973 میں کراچی میں قیام کے زمانے میں لکھا۔ اس زمانے میں، میں منٹو سے بہت متاثر تھا۔ اس کے بعد میں نے اور کہانیاں بھی لکھیں اور ان کی تعریف بھی ہوئی لیکن پھر مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر شاعر کروٹ لے رہا ہے۔ اغاز تو میں غزلوں ہی سے کیا لیکن پھر مجھے لگا کہ میں نظم بہتر کہہ سکتا ہوں۔ پہلی نظم میں نے ‘سنکونہ’ کے عنوان سے لکھی لیکن وہ شایع نہیں ہوئی۔  سوال: نظمیں آپ نے زیادہ کہی ہیں تو آپ کی نظم کو کیسے پڑھا جانا چاہیے اور نظم کہتے ہوئے کیسے عمل سے آپ گذرتے ہیں اور نظم کا تخلیقی عمل کیا ہوتا ہے؟ ع م ف: یہ ہے تو بہت پیچیدہ اور پُر اسرار اور ہر فنکار کا تخلیقی عمل انتہائی پُراسرار ہوتا ہے، بل کہ ہر تخلیق کا عمل بھی پُراسرار ہوتا ہے۔ جب تک کہ تخلیق عمل مجھ پر وارد نہیں ہوتا مجھے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ میں تخلیقی ٹرانس میں ہوں البتہ میری اہلیہ بھانپ جاتی ہیں ۔ ۔ ۔  سوال: نثری نظمیں بھی آپ نے لکھیں اور ابھی آپ نے ہمیں یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ کی کون کون سے کتابیں شایع ہوئیں اور کب کب شایع ہوئیں، نثری نظم کے حوالے سے یہ کہ نثری نظم کا نظم کیا ہوتا ہے؟  ع م ف: میں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن میں نے نظم اور نثری نظم ہی کو اپنے مزاج کے لیے موزوں پایا۔ میری پہلی کتاب ‘تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے’ 1995 میں شایع ہوئی۔ دوسری ‘دُکھ لال پرندہ ہے’ 1998 میں شایع ہوئی، تیسری، ایک طویل نظم ‘علینا’ 2002 میں شایع ہوئی، نظموں کی ایک اور کتاب ‘زندگی خودکشی کا مقدمہ نہیں’ 2004 میں شایع ہوئی۔ اس کے علاوہ ضیا جالندھری کے فن اور شخصیت کے حوالے سے ایک کام کیا جو تحقیقی حوالے سے کم اور تنقیدی حوالے سے زیادہ ہے۔ جب کہ تین شعری مجموعے چھپنے کے انتظار میں ہیں۔  نثری نظم کے نظم کے حوالے سے یہ ہے کہ اس میں مروجہ میٹر کی تو تکرار نہیں ہوتی یعنی کوئی خارجی عروضی سہارا نہیں لیتا اور اپنے تخلیقی وجدان اور داخلی آہنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے شعر کہتا ہے اس کے لیے کوئی خارجی پیمانے وضح ہو بھی نہیں سکتے اور یہ شاعری کی خالص شکل ہو گی لیکن ابھی اسے اسٹیبلش ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ ۔ ۔          تصویر کے کاپی رائٹ

علی محمد فرشی صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے بی بی سی کے لیے وقت نکالا۔ تو ابتدا یوں کرتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ ہمیں اپنے بچپن اور اس ماحول کے بارے میں بتائیں جس میں آپ کی پرورش ہوئی؟

علی محمد فرشی: ع م ف: میں راولپنڈی کے نواحی قصبے چونترا میں پیدا ہوا۔ میرے والد تحصیل تلا گنگ میں ریوڑ چراتے تھے۔ ایک روز میرے والد نے اپنے ریوڑ کو چراگاہ میں چھوڑا اور فرار کی راہ اختیار کر لی۔ بیس برس کی تلاش کے بعد ان کے بڑے بھائی نے انھیں بریلی میں جا ڈھونڈا۔ وہاں انھوں نے چار شادیاں کیں۔ میری والدہ اصغری بیگم کا تعلق سمبھل سے تھا۔ پاکستان بنا تو میری والدہ بھی والد کے ساتھ پاکستان آ گئیں۔ والدہ نے اپنے گھر میں ہی ایک درسگاہ کھول لی جس میں وہ لڑکیوں کو پڑھاتی تھیں۔ والدہ سے میرا رشتہ ماں بیٹے سے زیادہ استاد اور شاگرد کا تھا۔ میری ادبی زندگی میں میری والدہ کا کردار زیادہ اہم ہے کیونکہ سکول جانے سے پہلے میں اپنی والدہ سے ‘آرائشِ محفل’ دو بار سنی۔ ‘آرائش محفل’ نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ ۔ ۔

مکمل انٹرویو سننے کے لیے یہاں کلک کریں

سوال: شاعری سے کیسے رجوع ہوا اور پھر آگے اس کی نمو کیسے ہوئی؟

ع م ف: میری ادبی زندگی کا آغاز تو افسانے سے ہوا۔ میں نے اپنا پہلا افسانہ 1973 میں کراچی میں قیام کے زمانے میں لکھا۔ اس زمانے میں، میں منٹو سے بہت متاثر تھا۔ اس کے بعد میں نے اور کہانیاں بھی لکھیں اور ان کی تعریف بھی ہوئی لیکن پھر مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر شاعر کروٹ لے رہا ہے۔ اغاز تو میں غزلوں ہی سے کیا لیکن پھر مجھے لگا کہ میں نظم بہتر کہہ سکتا ہوں۔ پہلی نظم میں نے ‘سنکونہ’ کے عنوان سے لکھی لیکن وہ شایع نہیں ہوئی۔

سوال: نظمیں آپ نے زیادہ کہی ہیں تو آپ کی نظم کو کیسے پڑھا جانا چاہیے اور نظم کہتے ہوئے کیسے عمل سے آپ گذرتے ہیں اور نظم کا تخلیقی عمل کیا ہوتا ہے؟

ع م ف: یہ ہے تو بہت پیچیدہ اور پُر اسرار اور ہر فنکار کا تخلیقی عمل انتہائی پُراسرار ہوتا ہے، بل کہ ہر تخلیق کا عمل بھی پُراسرار ہوتا ہے۔ جب تک کہ تخلیق عمل مجھ پر وارد نہیں ہوتا مجھے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ میں تخلیقی ٹرانس میں ہوں البتہ میری اہلیہ بھانپ جاتی ہیں ۔ ۔ ۔

سوال: نثری نظمیں بھی آپ نے لکھیں اور ابھی آپ نے ہمیں یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ کی کون کون سے کتابیں شایع ہوئیں اور کب کب شایع ہوئیں، نثری نظم کے حوالے سے یہ کہ نثری نظم کا نظم کیا ہوتا ہے؟

ع م ف: میں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن میں نے نظم اور نثری نظم ہی کو اپنے مزاج کے لیے موزوں پایا۔ میری پہلی کتاب ‘تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے’ 1995 میں شایع ہوئی۔ دوسری ‘دُکھ لال پرندہ ہے’ 1998 میں شایع ہوئی، تیسری، ایک طویل نظم ‘علینا’ 2002 میں شایع ہوئی، نظموں کی ایک اور کتاب ‘زندگی خودکشی کا مقدمہ نہیں’ 2004 میں شایع ہوئی۔ اس کے علاوہ ضیا جالندھری کے فن اور شخصیت کے حوالے سے ایک کام کیا جو تحقیقی حوالے سے کم اور تنقیدی حوالے سے زیادہ ہے۔ جب کہ تین شعری مجموعے چھپنے کے انتظار میں ہیں۔

نثری نظم کے نظم کے حوالے سے یہ ہے کہ اس میں مروجہ میٹر کی تو تکرار نہیں ہوتی یعنی کوئی خارجی عروضی سہارا نہیں لیتا اور اپنے تخلیقی وجدان اور داخلی آہنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے شعر کہتا ہے اس کے لیے کوئی خارجی پیمانے وضح ہو بھی نہیں سکتے اور یہ شاعری کی خالص شکل ہو گی لیکن ابھی اسے اسٹیبلش ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ ۔ ۔

اسی بارے میں