جُھریوں بھرے چہرے والی اداکاری نہیں کر سکتیں؟

ریکھا، ہیما مالنی، شبانہ اعظمی، میرل سٹریپ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بالی وڈ میں اکثر شادی شدہ اداکاراؤں کو فلمیں نہیں ملتی ہیں

’جب آسکر فاتح کے طور پر میرا نام پکارا گیا تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ آج نصف سے زیادہ امریکی یہی سوچ رہا ہوگا .... ایسا نہیں ہو سکتا، پھر سے اس کا نام‘۔

اگر کسی فلمی اداکارہ کو لوگ سترہ بار آسکر کے لیے نامزد ہوتے دیکھ چکے ہوں تو آسکر ایوارڈ لیتے وقت ان کے دل میں ایسا خیال آنا لازمی ہے۔

یہاں بات ہو رہی ہے باسٹھ سالہ ہالی وڈ اداکارہ میرل سٹریپ کی جنہیں کچھ دنوں پہلے ’دی آئرن لیڈی‘ کے لیے آسکر ایوارڈ ملا ہے۔ ان کی سترہ آسکر نامزدگیوں میں سے کئی انہیں چالیس اور پچاس برس کی عمر کے بعد ملیں۔

میرے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ کیا بھارت کے پاس میرل سٹریپ ہے ؟ یہاں اس سوال کے معنی یہ نہیں کہ ہندوستانی سنیما میں باصلاحیت اداکارہ نہیں ہیں۔ یہاں بہترین اداکارائیں ہیں بھی اور لوگ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے بھی ہیں۔

لیکن عمر کے ایک خاص حصے میں داخلے کے بعد بھارت میں اداکاراؤں کو خدا حافظ کہنے کا رواج رہا ہے۔

ہالی وڈ میں میرل سٹریپ، جوڈی ڈینچ، ہیلن مرن، جیسے اداکارائیں چالیس اور پچاس کی عمر پار کرنے کے بعد اداکاری کر رہی ہیں۔

برطانیہ کی جوڈی ڈینچ کو چونسٹھ سال کی عمر میں ’شیکسپیئر ان لو‘ جیسی فلم میں ملکہ الزابتھ اول کا اہم کردار ملا جس کے لیے انہوں نے آسکر جیتا۔ اکسٹھ سال کی عمر میں ’دی کوئین‘ میں اہم ترین کردار ادا کرنے والی اداکارہ ہیلن مرن بھی ایسی ہی ایک مثال ہیں۔

وہ آج بھی اہم کردار کرتی ہیں اور آسکر پاتی ہیں لیکن ہندوستانی سنیما میں عمردراز اداکاراؤں کی ایسی قدر نہیں ہوتی ہیں۔ یشتر کو ماں اور دیگر چھوٹے موٹے کردار سے زیادہ نہیں ملتے یا یہ کہیں کہ انہیں دھیان میں رکھ کر سکرپٹ ہی نہیں لکھا جاتا۔

وحیدہ رحمن ، ریکھا، شبانہ اعظمیٰ، شرمیلا ٹیگور، ہیما مالنی ، ڈمپل کپاڈیا اور ان کے بعد کی نسل کی سری دیوی، مادھوری دکشت، جوہی چاولہ، تبو ۔۔۔ یہ سب کی سب بہترین اداکارائیں ہیں۔

لیکن کتنی فلمیں یا کتنے کردار ہیں جو چالیس یا پچاس سالہ اداکاراؤں کو ان کی صلاحیت کے مطابق ملے ہوں۔

قصور شاید اس ذہنیت کا ہے جو چالیس برس سے زیادہ عمر کے مرد سپرسٹارز کو اپنے سے آدھی عمر کی ہیروئن کے ساتھ رومانس کرتے تو دیکھ سکتی ہے پر ادھیڑ عمر کی ہیروئن کا تصور نہیں کر سکتی۔

عام فلموں میں تو چھوڑیے، غیر روایتی فلموں میں بھی ان اداکاراؤں کو اچھے کردار نہیں ملتے۔

کچھ فلمیں ایسی ضرور ہیں جن میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بڑی عمر کی مگر باصلاحیت اداکاراؤں کو بھی ان کے حساب سے کام دیا جائے۔ اس میں شبانہ اعظمیٰ کی گاڈ مدر اور ہنی مون ٹریولز پرائیویٹ لمیٹیڈ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جنوبی بھارت کی فلموں کی مشہور اداکارہ شوبھنا نے ’دوست، مائی فرینڈ‘ سے اپنی شناخت بنائی اور ماں اور بیوی کا کردار بخوبی ادا کیا۔

آج کے بھارت میں کرینہ کپور اور پرینکا چوپڑہ جیسی ہیروئنوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل رہا ہے لیکن ابھی وہ جوان ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج سے پندرہ بیس سال بعد جب وہ شاید ’خان سپرسٹارز‘ کی عمر کی ہوں گی تو کیا تب بھی انہیں ایسی ہی مضبوط کردار ملیں گے؟

اسی بارے میں