شرمین کی تیزاب پھینکنے کے خلاف مہم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی پہلی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے نے خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں تیزاب سے متاثرہ خواتین پر بنائی گئی دستاویزی فلم پر پچھلے دنوں شرمین کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

شرمین عبید چنائے نے وطن واپسی پر پہلی بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان یادگار لمحوں کو بیان کیا جو انہوں نے آسکر کی تقریب میں گذارے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنی ٹیم اور شوہر کے ساتھ آسکر کی تقریب میں پہنچی تو کافی نروس تھیں۔

’ تقریب میں ایران کے فلم ساز بھی موجود تھے جب ایرانی فلم کو ایوارڈ ملا تو ہمیں بھی کچھ امید ہوئی، جب فیس سیونگ کا نام آیا تو میرے دل کی دھڑکن رک گئی اور دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں میں خود اپنی آواز سن رہی ہوں مگر جب ڈائریکٹر ڈینئیل جیونج نیچے اترنے لگ تو مجھے یقین ہوا کہ ہم جیت چکے ہیں۔‘

شرمین نے بتایا کہ وہاں میڈیا نے اکثر یہ سوال کیے کہ پاکستان میں لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے، کیا وہاں جشن ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ بہت سارے لوگوں نے پوری رات تقریب دیکھی ہوگی، اور لوگوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی ، اس کے ساتھ اس ایوارڈ سے نوجوانوں کی ہمت افزائی ہوگی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شرمین عبید نے فیس سیونگ کو امید کی کہانی قرار دیا اور بتایا کہ انہوں نے پندرہ مہینے تک پاکستان کے مختلف علاقوں میں فلم بندی کی، وہ یہ بیان نہیں کرسکتیں کہ تیزاب سے متاثرہ جن خواتین کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے وہ کتنی بہادر ہیں۔

’ ہم نے اس فلم میں یہ دکھایا ہے کہ پاکستان اپنے مسئلے خود حل کرسکتا ہے اور اس نے تیزاب پھینکنے کے خلاف قانون سازی کی ہے۔‘

تیزاب پھینکنے کے واقعات کے خلاف اپنی مہم کے بارے میں شرمین نے بتایا کہ برطانوی تنظیم اسلامک ریلیف، ایسڈ سرؤور سوسائٹی، ڈاکٹر محمد جواد اور فیس سیونگ فلم میکرز اس رجحان کے خلاف عوام میں شعور اور آگاہی کے لیے مہم چلائیں گے جس کے تحت اردو اور سرائیکی میں ریڈیو سے پیغامات نشر ہوں گے اس کے علاوہ پمفلیٹ تقسیم کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شرمین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ تیزاب کی کھلی عام فروخت پر پابندی عائد کی جائے، بقول ان کے اس قسم کی قانون سازی بنگلہ دیش میں ہوئی جس کے بعد اس قسم کے واقعات میں پچیس فیصد کمی ہوئی۔

انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کا امیج خراب کرنے کے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ تمام مسائل دبانے سے ختم ہیں ہوتے مسائل تبھی حل ہوں گے جب ان پر کھل کر بات کی جائے گی۔

شرمین نے بتایا کہ فیس سیونگ کو اردو میں ڈبنگ کے بعد پاکستان میں ریلیز کیا جائے گا، اس سے پہلے ضروری ہے کہ جو خواتین اس میں شامل ہیں ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ پاکستان میں خواتین یہ کھل کر بات نہیں کرتی ہیں۔

اسی بارے میں