پاکستانی فنکارہ طاہرہ واسطی انتقال کرگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طاہرہ واسطی کو 1980 اور 1990 کے عشرے میں ٹیلیویژن کی صف اول کی اداکاراؤں شمار کیا جاتا تھا۔

پاکستان ٹیلی وژن کی معروف فنکارہ طاہرہ واسطی اتوار کو انتقال کرگئیں،ان کی عمر اڑسٹھ سال تھی۔

انہوں نے 1968-69 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اداکاری کا آغاز کیا اور ان کا پہلا معروف ڈرامہ سیریل ’جیب کترا‘ تھا۔ یہ ڈرامہ اردو کے مایہ ناز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی ایک کہانی پر تیار کیا گیا تھا۔

طاہرہ واسطی کی خاص پہچان ان کی پُروقار اور پُرکشش شخصیت تھی جس کی وجہ سے انہیں شاہانہ انداز کے کرداروں کے لیے انتہائی پسندیدہ قرار دیا جاتا تھا۔

طاہرہ واسطی انیس سو چوالیس میں سرگودھا میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی ۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور منتقل ہوگئیں۔

معروف ٹی وی پروڈیوسر قاسم جلالی کے مطابق وہ جتنی اچھی اداکارہ تھیں اتنی ہی اچھی مصنفہ بھی تھیں خاص کر سائنس فکشن پر وہ بہت اچھا لکھتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں کالی دیمک جو ایڈز کے موضوع پر لکھا گیا۔

ان کے شوہر رضوان واسطی جو خود بھی اپنے عہد کے معروف ٹی وی اداکار اور انگلش نیوز کاسٹر تھے گزشتہ بر س انتقال کر گئے تھے۔

رضوان واسطی کے انتقال کے بعد طاہرہ واسطی نے سماجی اور ثقافتی زندگی کم و بیش ترک کر دی تھی اور کراچی سے ان کے ایک قریبی جاننے والے نے بتایا ہے کہ وہ بالعموم افسردہ رہتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رضوان اور طاہرہ واسطی ایک یادگار تصویر

مرحومہ کی ایک صاحبزادی لیلیٰ واسطی بھی ٹیلی ویژن کے لیے کام کرچکی ہیں۔

مرحومہ کے صاحبزادے عدنان واسطی نے بتایا کہ انہیں قلب اور ذیابطیس کے عارضے لاحق تھے۔

طاہرہ واسطی کو 1980 اور 1990 کے عشرے میں ٹیلیویژن کی صف اول کی اداکاراؤں شمار کیا جاتا تھا۔

اس دور میں انھوں نے کئی مشہور ڈراموں میں کام کیا تاہم ڈرامہ سیریل افشاں میں یہودی تاجر کی بیٹی اور آخری چٹان میں ملکہ ازابیل کے کرداروں نے غیر معمولی شہرت دی۔ ان کے دیگر مشہور تاریخی ڈراموں میں غرناطہ ، شاہین اور ٹیپو سلطان شامل ہیں۔

اسی بارے میں