ایشیائی مصنفین کا اعلٰی اعزاز خاتون کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایشیائی مصنفین کا سب سے بڑا اعزاز، مین ایشین لِٹریری پرائز، تاریخ میں پہلی دفعہ ایک مصنفہ کے نام کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی مصنفہ، کیونگ سُوک شِن کو خاندانی مسائل کے متعلق، اُن کے ناول پر یہ اعزاز دیا گیا۔

کیونگ سُوک شِن جنوبی کوریا کی معروف مصنفہ ہیں لیکن پہلی مرتبہ وہ ایشیا کی بہترین مصنفہ قرار پائی ہیں۔

انہیں مین ایشین لِٹریری پرائز، ’پلیز لُک آفٹر مام‘ یعنی ماں کا خیال رکھنا نامی ناول پر دیا گیا۔

ناول ایک خاندان کے بارے میں ہے جس کی سربراہ لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ مصنفہ نے اِس کہانی کے ذریعے، قدیم اور روایتی جنوبی کوریا کا، جدید اور مصروف جنوبی کوریا سے موازنہ کیا ہے۔

شِن نے ایوارڈ حاصل ہونے پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اعزاز سے انہیں ایک نئی ابتداء کا احساس ہوا ہے۔

شِن کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے ماں کوسوچنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اپنے آپ کو سوچنا۔ یہ کسی بھی شخص کا عکس ہوتا ہے۔‘

یہ ایوارڈز ایشیا کے تمام ناول نگاروں کے لیے تھے جن کے ناول یا تو انگریزی میں لکھے گئے یا ان کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔

ممتا، جدت اور سماجی خود پرستی کے موضوعات پر مبنی ناول کے بارے میں فیصلے کے لیے، اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ اب تک ناول کی بیس لاکھ کاپیاں بِک چکی ہیں اور اسے لکھنے والی خاتون، کیونگ سُوک شِن، ایشیا کا سب سے بڑا ادبی اعزاز جیتنے والی پہلی مصنفہ بنی ہیں۔

اس ایوارڈ کے لیے پاکستان سے مصنف جامی احمد اپنے ناول ’وانڈرنگ فیلکن‘ کے لیے نامزد تھے۔ بھارتی مصنف جانوی برواہ ’ری برتھ‘ ، راہول بھٹہ چاریہ ’سلے کمپنی آف پیپل ہُو کیئرز‘ اور ایمتوو گھوش ’ریور آف سموک‘ کے لیے نامزد کیے گئے تھے۔

اس ایوارز کا آغاز دو ہزار سات میں کیا گیا اور پہلا اعزاز چینی مصنف جیانگ رونگ کو ان کی تصنیف ’وولف ٹوٹیم‘ کے لیے ملا۔

اسی بارے میں