نصیر الدین شاہ لاہور میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے اداکاروں کو تربیت دیتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا سب سے زیادہ زور’ریاض‘ پر تھا

سینتیس برس قبل نشانت، منتھن اور بھومیکا سے اپنے فلمی کرئیر کا آغاز کرنے والے نصیر الدین شاہ نے 1994 تک ایک سو فلموں میں کام مکمل کر لیا تھا اور اب یہ گنتی تیزی سے دو سو کے ہندسے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

شعیب منصور کی فلم’خدا کے لیے‘ کو وہ اپنی زندگی کی اہم ترین فلم قرار دیتے ہیں۔

انہیں افسوس ہے کہ وہ شعیب کی دوسری فلم ’بول‘ میں کام نہ کر پائے۔ تاہم پاکستان میں ملنے والے ایک تیسرے موقعے کو انہوں نے ہاتھ سے نہ جانے دیا اور فلم ’زندہ بھاگ‘ میں کام کرنے کے لیے وہ آج کل لاہور آئے ہوئے ہیں۔ اس فلم کا سکرپٹ اور ہدایات مینو فرجاد کی ہیں

نصیر الدین شاہ کے علاوہ فلم کی تقریباً تمام کاسٹ نئی ہے چنانچہ انہیں تربیت دینے کے لیے شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے نصیر الدین شاہ نے دس دن کی ایک ورکشاپ دی اور اور نوجوان اداکاروں کو فن کے بنیادی رموز سمجھائے۔

فلم ’زندہ بھاگ‘ کی کہانی تین ایسے نوجوانوں کے گرد گھومتی ہے جو بیرون ملک جا کر دولت کمانا چاہتے ہیں تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

ان کی اس خواہش میں کوئی کھوٹ نہیں لیکن معاشرے کی استحصالی قوتیں اس معصوم سی تمنا کو بھی پورا نہیں ہونے دیتں۔

نئے اداکاروں کو تربیت دیتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا سب سے زیادہ زور’ریاض‘ پر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ جس طرح ایک گلوکار کو ریاض درکار ہوتا ہے اسی طرح اداکار کے لیے بھی اپنے اعضائے نطق سے واقفیت اور ان کے درست استعمال کا طریقہ جاننا بہت ضروری ہے۔

نصیر الدین شاہ اس بات کو بالکل تسلیم نہیں کرتے کہ ادکار کو اپنے کیریکٹر میں گم ہو جانا چاہیے اور اپنی ہستی کردار میں ضم کر دینی چاہیے۔گویا کردار میں ڈوب جانا ان کے نزدیک ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نصیرالدین کے لیے موجودہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ پہلی بار پنجابی زبان میں کوئی رول نباہ رہے ہیں

خود کو کسی ذاتِ اولٰی میں ضم کر دینا صرف صوفیوں اور یوگیوں کا کام ہے۔ اداکار کا یہ وظیفہ نہیں۔اداکار کو اپنی شخصیت میں رہتے ہوئے ایک اور شخصیت کا تاثر دینا ہوتا ہے۔ فطری اداکاری کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سچ مچ وہ بن جائیں جس کی آپ نمائندگی کر رہے ہیں، بلکہ آپ کو اپنے آپ میں رہتے ہوئے اس کردار کا محض تاثر ابھارنا ہوتا ہے۔

نصیر الدین شاہ کا کردار موجودہ فلم میں یقیناً منفی نوعیت کا ہے یعنی محلے کا ایک بدمعاش جو نوجوانوں کو اپنی شخصیت کے زور پر مسحور کر لیتا ہے۔لیکن بقول نصیرالدین شاہ انہیں سیدھے سادے شریف اور با اصول لوگوں کے کردار کرنے میں وہ مزہ نہیں آتا جو کسی ٹیڑھے میڑھے کردار میں ڈھل کر حاصل ہوتا ہے۔

نصیرالدین کے لیے موجودہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ پہلی بار پنجابی زبان میں کوئی رول نباہ رہے ہیں۔

انہیں امید ہے کہ پاکستان عنقریب جدید فلم سازی کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرے گا کیونکہ یہاں محنتی فن کاروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

اسی بارے میں