افغان فوٹوگرافر کی تصویر کےلیے پُلِٹزر ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسعود حسینی نے بتایا کہ جس دوران انہوں نے یہ انعام یافتہ تصویر اتاری اس وقت ان کا بایاں بازو زخمی تھا

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے افغان فوٹوگرافر مسعود حسینی نے ’بریکنگ نیوز فوٹوگرافی‘ کی کیٹیگری میں پُلِٹزر ایوارڈ جیت لیا ہے۔

اکتیس سالہ مسعود حسینی کو یہ ایوارڈ کابل کے ایک مزار میں خودکش دھماکے کے بعد ایک خوف زدہ روتی ہوئی لڑکی کی ’دل سوز تصویر‘ اتارنے پر ملا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسعود حسینی نے اپنی انعام یافتہ تصویر کے متعلق کہا ’یہ تصویر شاید میری تمام تصاویر میں سب سے زیادہ درد بھری ہے۔‘

انہوں نے بتایا ’چھ دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کی بات ہے جب کابل میں عاشورہ کی تقریبات جاری تھیں اور ایک خودکش بم دھماکہ ہو گیا۔ میں اس دھماکے سے اتنے کم فاصلے پر تھا کہ دھماکے سے مجھے شدید صدمہ پہنچا اور میں زخمی بھی ہو گیا۔‘

سنہ انیس سو اکاسی میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیدا ہونے والے مسعود حسینی صرف چھ ماہ کے تھے جب سرد جنگ کے باعث ان کا خاندان لاکھوں افغان مہاجرین کی طرح ایران میں جا بسا۔ وہ سنہ دو ہزار سات سے اے ایف پی کے لیے کام کر رہے ہیں اور تب ہی سے افغانستان میں طالبان کے خلاف جاری جنگ کی تصاویر اتار رہے ہیں۔

مسعود حسینی نے بتایا کہ جس دوران انہوں نے یہ انعام یافتہ تصویر اتاری اس وقت ان کا بایاں بازو زخمی تھا اور ان کی کوشش بس اتنی تھی کہ کسی طرح وہ اپنے سامنے کے منظر کی تصویر کھینچ پائیں۔

انہوں نے کہا ’پھر مجھے رنگ برنگے کپڑے اور ایک لڑکی نظر آئی جسے میں نے دھماکے سے پہلے بھی دیکھا تھا۔ وہ خوف اور تباہی کے درمیان چیخیں مار رہی تھی اور اس کے ارد گرد اس کے رشتہ داروں، ساتھیوں اور سہیلیوں کی لاشیں تھیں۔‘

مسعود حسینی کے بقول ’اس دن سے میری یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس دن لی گئی اپنی تصویروں کو نہ دیکھوں اور جب بھی میں اس سبز رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ترانہ نامی لڑکی کے بارے میں سوچتا ہوں میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں