میزان: ایک مختلف مصور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میزان اور اس کی مصوری صرف نئے مصوروں ہی کے لیے نہیں ان سارے تخلیقی کام کرنے والوں کے لیے ایک مثال ہے

میزان الرحمان اپنی نوع کا منفرد مصور ہے، وہ ایک ایسا لاوا ہے جو رنگوں کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

ان کی پینٹنگز کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے اس کی محسوسات اور جذبات نے رنگوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔

اس لیے ہمیں اس پینٹنگز کے ناموں پر نہیں جانا چاہیے۔اگر اس پینٹنگز کے ناموں پر جائیں گے تو لگے گا کہ وہ کسی این جی او کے نعرے بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں گو کہ اس کی پینٹنگز اس بات سے بالکل الگ ہیں۔

میزان کی پینٹنگز جذبات اور محسوسات کا آئینہ ہیں اور صرف ایسے دیکھنے والے کو یہ جذبات محسوس نہیں ہوں گے جن کے جذبات کا خانہ خالی ہو گا یا جو مصوری سے کسی مخصوص مقاصد کا تقاضا کرتے ہیں۔

میزان مصوروں اور فنکاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو مصوری پڑھ کے نہیں، کر کے سیکھتے ہیں۔اس لیے آپ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ مصوری کے قدیم ترین طریقے کی جدید ترین شکل ہے۔

میزان ان مصوروں کے راستے پر چل رہا ہے جو اپنے شعور کی گرفت اور معنی و تصور کو مصور کرنے کی لذت سے آزاد ہوتے ہیں اگر وہ واضح طور پر نہ بھی جانتے ہوں تو بھی ان کے اندر کہیں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ اس سے مصوری اکثر و بیش تر خراب ہی ہوتی ہے۔ مصوری میں یہ بیماری کہاں سے آئی اور آتی ہے اس پر بات پھر کبھی۔

پاکستان میں مصوری کا بڑا حصہ آرائشی مصوری پر مشتمل ہے، اس میں ایک بڑی تبدیلی سیاسی سماجی صورتِ حال میں میں تبدیلی سے آئی اور اسی کی دہائی سے آنے والی اس تبدیلی کا اثر یہ پڑا کہ ملک کے بڑے بڑے نامی گرامی مصور بھی خطاطی کو اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھنے لگے لیکن میزان نہ تو خطاطی کرتا ہے اور نہ ہی اس کی مصوری آرائشی ہے۔

اس لیے مجھے لگتا ہے کہ میزان کو اس وقت کا انتظار کرنا ہو گا جب اس کا نام فیشن بن جائے گا اور اس کا نام فیشن ضرور بنے گا لیکن تب تک اس کے اندر جلتی ہوئی یہ آگ کتنی بچے گی اس بارے میں کچھ نہں کہا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نمائش میں موجود میزان الرحمان کی دو انسٹالیشن سمیت اڑتیس پینٹنگز کو نیم تجریدی اور ایکسپریشنسٹ بھی کہا جا سکتا ہے

میزان کی نمائش دیکھنے کے لیے کراچی کے پینٹنگز پنڈتوں میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ کسی پینٹنگز پنڈت نے اس کی مصوری پر نہیں لکھا، کیوں کہ اس کی مصوری ان کے لیے ایک چیلنج ہے، ایک ایسا چیلنج جو بندھے ٹکے اصولوں سے باہر آنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بندھے ٹکے اصولوں سے باہر نکل کر بات کرنے کے لیے خود آپ کے اندر ایک تخلیقی قوت اور اس پر یقین کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

میزان کی مصوری بنے بنائے اصولوں کے برخلاف ہے اس لیے اسے پہلے سے موجود اصولوں پر پرکھنا ممکن نہیں اور یہ کام مصوری کو فرموں میں فٹ کرنے والے نقادوں سے نہیں ہو سکتا۔

پاکستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں مصوروں کی اکثریت پہلے سے موجود اصولوں اور طریقوں کی پیروی میں ہی عافیت محسوس کرتی ہے، یہی بات مصوری کے نقادوں کو سہولت دیتی ہے، اسی بھائی چارے اور گٹھ جوڑ سے دونوں کا کام ہو جاتا ہے اور تشہیر کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے ہیں۔

مصور کی تشہیر نہ ہو تو اس کی پینٹنگز فروخت نہیں ہوتیں، پینٹنگز نہ فروخت ہوں تو وہ کیا کرے؟ ایک تجربہ کار اچھا خاصا فروخت ہونے والے مصور نے مجھے بتایا تھا کہ کراچی میں مصوری کے خریدار گیلریوں کو چلانے والوں اور نقادوں کے مشوروں پر پینٹنگز خریدتے اور بیچتے ہیں، یہ کاروبار بھی سٹاک مارکیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، مصوروں کی مقبولیت اور ان کی پینٹنگز کی قیمتیں بھی اسی طرح اوپر نیچے ہوتی ہیں جیسے شیئرز کے بھاؤ اتارے اور چڑھائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں آزادی سٹاک مارکیٹ سے زیادہ ہے کیوں کہ یہاں کوئی ریگولیٹری باڈی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میزان مصوروں اور فنکاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو مصوری پڑھ کے نہیں، کر کے سیکھتے ہیں

نمائش میں موجود میزان الرحمان کی دو انسٹالیشن سمیت اڑتیس پینٹنگز کو نیم تجریدی اور ایکسپریشنسٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کی مصوری کو کچھ مصوری کو کچھ مصوروں کے قریب بھی قرار دی جا سکتی ہے لیکن یہ بات صرف وہی کر سکتے ہیں جو مصور سے واقف نہ ہوں۔

میں میزان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس نے خدا بخش ابڑو یا کے بی ابڑو کے سٹوڈیو میں رنگوں اور برش سے تعلق بنانا شروع کیا تھا، اس کے بدلے میں اُسے سٹوڈیو کے کچھ کام کرنا پڑتے تھے، کہنے کو وہ دوسرے کام تھے لیکن تھے آرٹ ہی کا حصہ۔ یہی اس کی تعلیم کا راستہ تھی اور یہی اس کی تربیت کا ذریعہ۔ اس بات کو اب بیس سال ہونے کو آ رہے ہیں۔

میزان اور اس کی مصوری صرف نئے مصوروں ہی کے لیے نہیں ان سارے تخلیقی کام کرنے والوں کے لیے ایک مثال ہے جو اپنے دل کی بات کرنا چاہتے ہیں اور کسی کی پیروی بھی نہیں کرنا چاہتے۔

اسی بارے میں