زہرہ سہگل: قصّہ ایک صدی کا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برِ صغیر پاک و ہند میں سنیما کی عمر سو برس ہونے کو ہے اور اگلے سال سنیما کی صد سالہ تقریبات منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ لیکن زہرہ سہگل نے سالِ رواں ہی میں اپنی زندگی کے سو برس مکمل کر لیے ہیں اور یوں وہ فن کی دوڑ میں ہندوستانی سنیما سے بھی ایک برس آگے نکل گئی ہیں۔

نئی نسل کے فلم بینوں نے تو زہرہ سہگل کو فلم بینڈ اٹ لائک بیکھم، سایہ، ویر زارا، سانوریہ اور امیتاب بچن کی لندن میں بننے والی فلم ’چینی کم‘ میں ہی دیکھا ہے لیکن پرانے شائقین جانتے ہیں کہ زہرہ پچھلے اسّی برس سے تھیٹر، فلم اور ٹیلی ویژن میں کام کر رہی ہیں۔ اس پڑھاپے میں بھی اُن کی حسِ مزاح قابلِ داد ہے۔

وہ نئی نسل کو مخاطب کر کے اکثر کہا کرتی ہیں ’تم مجھے اب دیکھ رہے ہو جب میں بوڑھی اور بد صورت ہوں کاش تم مجھے تب دیکھتے جب میں جوان اور خوبصورت تھی۔‘

زہرہ کا جنم 1912 میں سہارن پور کے ایک زمیندار گھرانے میں ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہیں لاہور بھیج دیا گیا تاکہ وہ کوئین میری کالج میں داخلہ لے سکیں جہاں اشرافیہ کی بیٹیاں ہی تعلیم حاصل کر سکتی تھیں۔ کوئن میری کالج کے بعد انہوں نے اعلٰی تعلیم کے لیے یورپ جانے کی ٹھانی اور کار کے ذریعے ایران اور پھر شام سے ہوتی ہوئی مصر پہنچیں اور وہاں اسکندریہ کی بندرگاہ سے بحری جہاز پر سوار ہو کر یورپ کی راہ اختیار کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زہرہ کے شوہر کامیشور فلموں میں آرٹ ڈائریکٹر تھے اور زہرہ خود کوریوگرافی کا فریضہ انجام دیتی تھیں

جرمنی میں انہوں نے تین برس تک جدید رقص کی تربیت حاصل کی اور وہیں اُن کی ملاقات معروف ہندوستانی رقاص اُودے شنکر سے ہوئی جو کہ یورپ کے مختلف شہروں میں اپنا بیلے ٰ شیو - پاروتیٰ پیش کر رہے تھے۔

زہرہ اِس رقص کو دیکھ کر اتنی متاثر ہوئیں کہ 1935 میں وہ اودے شنکر کے طائفے میں شامل ہو گئیں اور جاپان، مصر، امریکہ وغیرہ کا دورہ کیا۔ 1940 میں جب اودے شنکر واپس ہندوستان آئے تو زہرہ نے اُن کے ثقافتی مرکز میں ملازمت اختیار کر لی اور نوجوانوں کو رقص سکھانے لگیں۔ یہیں اُن کی ملاقات نو عمر ڈانسر اور پینٹر کامیشور سہگل سے ہوئی۔ جب دوستی بڑھی اور شادی کا ارادہ ہوا تو ہر طرف سے مخالفت کے تیر برسنے لگے لیکن بلآخر زہرہ کے گھر والے مان گئے اور 14 اگست 1942 کو اُن کی شادی ہوگئی جس میں پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی شرکت کرنی تھی لیکن وہ ’ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک میں شمولیت کے باعث اس شادی سے چند روز پہلے گرفتار کر لیے گئے۔

جب اودے شنکر کا ثقافتی مرکز بند ہو گیا تو زہرہ اور کامیشور لاہور آگئے اور یہاں اپنا ڈانس سکول کھول لیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ہندو مسلم تفرقے سے گھبرا کر یہ دونوں بمبئی چلے گئے جہاں زہرہ کی اپنی بہن عذرا بٹ پہلے سے پرتھوی تھیٹر میں کام کر رہی تھیں۔

زہرہ نے بھی پرتھوی تھیٹر میں ملازمت اختیار کر لی اور تھیٹر گروپ کے ساتھ ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا۔ ان ہی دنوں زہرہ نے فلم دھرتی کے لال اور نیچا نگر میں بھی کام کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زہرہ نے 1935 میں اودے شنکر کے ثقافتی مرکز میں رقص کی تدریس سے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغا کیا

یہ دونوں فلمیں بائیں بازو کے دانش وروں اور کارکنوں کی محنت کا ثمر تھیں۔ زہرہ کے شوہر فلموں میں آرٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے لگے اور زہرہ نے کوریو گرافی کا فریضہ سنبھال لیا۔

ان ہی دنوں گورودت بھی بطور ڈایریکٹر فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کر رہے تھے۔ زہرہ سہگل نے اُن کی پہلی فلم بازی میں کوریو گرافی کی جس کے بعد راج کپور نے اپنی فلم آوارہ میں خواب والے منظر کا معروف ڈانس ’گھر آیا میرا پردیسی‘ زہرہ ہی سے کوریوگراف کرایا۔

1959 میں اُن کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ 1962 میں وہ ایک سکالرشپ پر لندن گئیں اور وہاں ٹیلی ویژن کے بہت سے پروگراموں میں حصّہ لیا مثلاً مائند یور لینگویج، جیول اِن دی کراؤن، تندوری نائٹس وغیرہ۔ اِن کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی برطانوی فلموں میں بھی کردار ادا کیے۔

1990 کی دہائی میں زہرہ واپس وطن آگئیں۔ 1993 میں پاکستان کے اجوکا تھیٹر کی طرف سے انہوں نے معروف سٹیج ڈرامے ’ایک تھی نانی‘ میں اپنی بہن عذرا بٹ کے ہمراہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ یہ اِن بہنوں کی سچی کہانی تھی جو 1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت جدا ہوئیں اور پھر چالیس سال بعد دوبارہ ملیں۔

عذرا بٹ کا 2010 میں ترانوے برس کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا اور یوں دونوں بہنوں کی وہ جوڑی ٹوٹ گئی جس نے 1945 میں پرتھوی راج کے تھیٹر گروپ میں اکٹھے کام شروع کیا تھا۔

سو برس کی عمر میں بھی زہرہ سہگل میں نوجوانوں جیسا دم خم ہے اور سٹیج ڈرامے کے اختتام پر وہ اکثر حاضرین کو حفیظ جالندھری کی معروف نظم ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ سنا کر محظوظ کرتی ہیں۔

انہیں اب تک فنونِ لطیفہ کے جن اعزازات سے نوازا گیا ہے اُن میں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ، پدم شری، پدم بھوشن اور کالی داس سمان جیسے وقیع ایوارڈز شامل ہیں۔

اسی بارے میں