شبنم،گھوش: لمحوں میں سمٹے ہوئے سال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شبنم اور روبن گھوش بے شک طویل چودہ برسوں کے بعد پاکستان آئے ہوں لیکن انھیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے

کسی بھی فنکار کو شاید سب سے زیادہ خوشی اس وقت میسر آتی ہے جب اس کے کام کو برسوں بعد بھی اسی طرح دیکھا جاتا ہے جیسے عروج کے زمانے میں ہو۔

اداکارہ شبنم اور موسیقار روبن گھوش کم و بیش تیرہ چودہ سال بعد پاکستان آئے ہیں لیکن اس ملک سے آئے ہیں جس کے لوگوں کو میزبان ملک سے ناقابلِ بیان زیادتیوں کی شکایتیں ہیں۔ لیکن جیسے ان کا خیر مقدم کیا گیا اور ان پر جذبات بھری محبت کے پھول نچھاور کیے گئے، اس نے انھیں بھی اتنا جذباتی کر دیا کہ شبنم جیسی اداکارہ بھی حقیقی جذبات سے مغلوب ہو گئی۔

ایسا لگ رہا تھا کہ سینکڑوں فلمیں کرنے والی کامیاب اداکارہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پا رہیں، وہ اپنی بڑی بڑی چمک دار آنکھوں سے بار بار زیادہ چمکنے کے لیے بے تاب آنسوؤں کو مسکراہٹوں اور لمبی سانسوں سے روکتی رہیں۔

کراچی آرٹس کونسل کا لان اور برآمدہ ممکن حد تک مہمان جوڑے کو قریب سے دیکھنے اور خود اپنے کیمروں سے ان کی تصویریں بنانے کے لیے بے چین لڑکیوں، عورتوں اور مردوں سے بھرا ہوا تھا۔

شبنم نے خود کو اور روبن گھوش کو پیش کیے جانے والے زبردست خراجِ تحسین کے بارے میں کہا ’میں اتنی خوش ہوں کہ مجھے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔‘

اس پر لوگوں نے زبردست تالیاں بجائیں کیونکہ تیز روشنی اور کیمروں کی مسلسل چکا چوند کے باوجود پیچھے تک کھڑے لوگوں تک وہ سب کچھ پہنچ رہا تھا جو بیان نہ ہو سکنے کے باوجود دلوں تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ تقریب آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی اور ہفت روزہ نگار کے اشتراک سے ہو رہی تھی۔

نگار ایوارڈ کو پاکستان کی فلم انڈسٹری میں انتہائی نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے اور اب تک ہے۔ فلم انڈسٹری کے کسی بھی فرد کو نگار ایوراڈ ملنا ایسا ہی ہوتا تھا جیسے آسکر مل گیا۔

شبنم کہہ رہی تھیں کہ وہ دو لوگوں کی خاص طور پر ممنون ہیں۔ ان میں ایک الیاس رشیدی (نگار کے بانی) اور دوسرے اداکار وحید مراد۔ غالباً ان کی پہلی فلم سمندر تھی، جو وحید مراد کی پروڈکشن تھی اور جس کی ہدایات رفیق رضوی نے دی تھیں۔

شبنم نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان کی نئی نسل بھی انھیں جانتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن اور حکومتِ پاکستان کی شکر گزار ہیں جس نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ پاکستان کے دوسرے اداکاروں کو بھی دیا جانا چاہیے۔

شبنم نے کہا وہ لاہور کے فلم سٹوڈیوز نہیں گئیں کیوں کہ وہ ان سٹوڈیوزکی ویرانی سے پیدا ہونے والے دکھ کو برداشت نہ کر سکتیں جن سے ان کی زندگی کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔

انھوں نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ وہ اس صنعت کو بحال کرنے کے اقدام کرے تاکہ نہ صرف وہ یہاں آ کر کام کر سکیں بلکہ ان جیسے اور لوگ بھی سامنے آ سکیں۔

روبن گھوش نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بات شروع کی اور ماضی کی یادوں گم ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ دن کہاں سے آئیں گے جب مہدی حسن جیسے گلوکار ان کے ساتھ بیٹھ کر گانوں کی ریہرسل کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا ایک زمانے میں کولکتہ، بمبئی اور لاہور فلم کے بڑے مرکز تھے اور نورجہاں، رشید عطرے اور جی اے چشتی جیسے فنکار کولکتہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے پاکستانی فم انڈسٹری کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

جب روبن گھوش گفتگو ختم کر کے تالیوں کی گونج میں جانے ہی والے تھے تو تقریب کے میزبان اقبال لطیف نے ان سے ان کے مشہور گانے ’دو شرمیلے نین‘ کی دھن گنگنانے کی فرمائش کی، جس پر انھوں نے گانے کا مکھڑا سنایا۔ یہ گانا مہدی حسن نے گایا تھا اور فلم چاہت کے لیے اسے رحمٰن اور شبنم پر فلمایا گیا تھا۔

شبنم اور روبن گھوش سے انتہائی گہرا تعلق رکھنے والے اور غالباً سب سے زیادہ فلمیں بھی شبنم ہی کے ساتھ کرنے والے نرم مزاج اور انکسار پسند اداکار ندیم نے کہا کہ ان کی تمام تر کامیابی شبنم کی اداکاری اور روبن گھوش کی موسیقی کی مرہونِ منت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شبنم انتہائی لگن، محنت اور سنجیدگی سے کام کرنے والی اداکارہ ہیں اس کا اندازہ آپ لوگ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ انہوں ایسی زبان میں اتنی ساری فلمیں کی ہیں جو ان کی مادری زبان نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ شبنم اور روبن گھوش بے شک طویل چودہ برسوں کے بعد پاکستان آئے ہوں لیکن انھیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے۔

انہوں نے اس خیال سے اتفاق کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مشترکہ فلمیں بننی چاہیں اور بنگلہ فلمیں بھی پاکستان آنی چاہیں انہیں یہاں اردو میں ڈب کر کے دکھایا جا سکتا ہے۔

ان سے قبل اداکار مصطفیٰ قریشی کہا کہ وہ روبن گھوش اور شبنم کا خیر مقدم تو وہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں ہونے والی زبردست تقریب میں کر ہی چکے ہیں لیکن اب یہ کہنا چاہیں گے کہ جیسے یہ دونوں مہدی حسن، زیبا اور لہری سے ملنے گئے ہیں اور دوسرے لوگوں سے بھی ملے ہیں ہم بھی اسی طرح بنگلہ دیش آنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کئی ہدایکاروں، اداکاروں اور فلم انڈسٹری کے ٹیکنیشنوں کے نام لیتے ہوئے، جن کے ساتھ وہ کام کر چکے ہیں کہا کہ ان سے ہمارا بھی وہی رشتہ ہے جو شبنم اور روبن گھوش پاکستانی فنکاروں کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان کی نئی نسل بھی انھیں جانتی ہے: شبنم

مہمان خصوصی سندھ حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر رضا ہارون نے مہمان جوڑے کی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ روبن گھوش اور شبنم پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ ہیں اور ہم ان کا کراچی میں خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے اپنے بنگالی بھائیوں کے ساتھ زیادتیاں نہ کی ہوتیں تو شبنم اور روبن گھوش کو کبھی یہاں سے وہاں منتقل نہ ہونا پڑتا۔

آخر میں مہمانِ خصوصی نے شبنم اور روبن گھوش کو نگار ایوارڈ اور کئی اور ایوارڈ بھی پیش کیے گئے۔

اس موقع پر سلمیٰ وحید مراد، منور سعید، گلوکار عالمگیر کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ، نائب صدر اعجاز فاروقی، ناپا کے ارشد محمود، اداکارہ بندیا، زیبا شہناز اور نواب حسن نے بھی مہمانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کی میزبانی اقبال لطیف نے کی۔

اسی بارے میں