منٹو کی طوائف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’منٹو میاں جس نے خریدنا ہے وہ خریدے اس کے بارے میں اتنے بیہودہ طریقے سے لکھنے کی ضرورت کیا ہے‘

اگرچہ تمہاری چند ہی تحریریں طوائفوں کے بارے میں ہیں لیکن جن لوگوں نے تمہارے بارے میں سن رکھا ہے وہ یہی سمجھتے ہوں گے کہ تم ساری عمر ایک ہاتھ میں ادھا پکڑے طوائفوں کے کوٹھوں میں جھانکتے رہتے تھے۔

عدلیہ جانتی ہے کہ بعض دفعہ کہانی لکھنے والے کو ایسی چیز کا ذکر کرنا پڑتا ہے جن کی اجازت ہمارا مذہب اور معاشرتی اقدار نہیں دیتیں۔ اگر ایک کہانی میں ایک آدھ حرام چیز کا ذکر ہو جائے تو شاید ہم برداشت بھی کر جائیں لیکن منٹو میاں تم ایک دفعہ شروع ہوتے ہے تو رکتے ہی نہیں۔

اپنی بدنام زمانہ کہانی ہتک کو ہی لے لو۔ کہانی کے پہلے ہی حصے میں سوگندھی شراب بھی پی چکی ہے، مقامی داروغہ اس کی ہڈیاں بھی بھنبھوڑ چکا ہے۔ جو روپے اس کو اس جسمانی مشقت کے بدلے ملے تھے وہ اس نے اپنی چست چولی میں ٹھونس رکھے ہیں۔

اب ذرا گنو کہانی کا پہلا پیرا بھی پورا نہیں ہوا اور آدھ درجن سے زائد حرام چیزوں کے متعلق تم ہمیں بتا چکے ہو۔ اب یہاں پہ کچھ رک کر تھوڑی لطیف بات کر دیتے؟ کوئی سبق آموز قصہ سناتے، جسم فروشی کی لعنت کے اسباب بیان کرتے لیکن تم تو سیدھا سوگندھی کی بغل میں جا گھسے جو تمہیں ایسی لگتی ہے جیسے کسی نے نچی ہوئی مرغی کی کھال کا ایک ٹکڑا وہاں پر رکھ دیا ہو۔

اب ایسی چیزیں پڑھ کر کوئی اخلاقی سبق تو کیا حاصل کرے گا، چکن تکہ کھاتے ہوئے بھی ابکائی آنے لگتی ہے۔ اور یہ سب تم ہمیں کس لیے بتا رہے ہو؟ بقول تمہارے ویشیا کے کوٹھے پر ہم نماز یا درود پڑھنے تو نہیں جاتے، وہاں ہم اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں جا کر ہم اپنی مطلوبہ جنس بے روک ٹوک خرید سکتے ہیں۔ لیکن منٹو میاں جس نے خریدنا ہے وہ خریدے اس کے بارے میں اتنے بیہودہ طریقے سے لکھنے کی ضرورت کیا ہے۔

ہاں بھئی آج کل بھی طوائف ہوتی ہیں۔ کتنی ہیں، کون ہیں، کہاں سے آئی ہیں۔ ہم نہیں جانتے نہ جانا چاہتے ہیں۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ کوٹھوں کا زمانہ نہیں رہا، ہوم ڈلیوری کا کام جاری ہے۔ طوائف منگوانا ایسا ہی ہے جیسے گھر بیٹھے فون اٹھا کر چکن تکہ منگوالو۔

ویسے آج کل زیادہ تر برقعہ پوش ہوتی ہیں۔ طوائف برقعہ کیوں پہنے گی؟ بھئی آنے جانے میں سنا ہے آسانی ہوتی ہے۔ برقعے کے نیچے سنا ہے اتنے کم کپڑے پہنے ہوتے ہیں کہ تمہاری موذیل بھی شرما جائے۔ دیکھا ہمیں کن باتوں پر لگا دیا۔ ہمیں تو گھن آتی ہے۔ کبھی تمہارے کرداروں سے کبھی اپنے آپ سے اور تم کہتے ہو ’کون ہے جو یہ تصویریں دیکھ کر لذت حاصل کرنے کے واسطے ان دیشاؤں کے کوٹھے پر جائے گا‘۔

میاں تم ہم لوگوں کو جانتے نہیں کہ ہم کہاں کہاں سے کیسے کیسے لذت حاصل کر سکتے ہیں۔ تمہیں یاد ہے کہ ہتک کے آخر میں سوگندھی اداس ہے اور کتے کے ساتھ لپٹ کر سوجاتی ہے۔ کیا اس کہانی میں پہلے حرام چیزوں کی کمی تھی کہ آخر میں ایک حرام کتا بھی ڈال دیا اور اسلامی جمہوریہ کے شہریوں کے ذہنوں میں کیسے کیسے برے خیال آنے لگے۔

اسی بارے میں