منٹو کی سدابہار کہانیاں، لاہور کے سٹیج پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منٹو کی کہانیوں آج کے مسائل سے اتنی ہی مطابقت رکھتی ہیں جتنی کہ انگریز راج میں رکھتی تھیں۔

منٹو کا صد سالہ جشنِ ولادت ادبی محفلوں سے نکل کر تھیٹر کی دنیا میں آن پہنچا ہے۔ لاہور کی الحمراء آرٹس کونسل میں منٹو کی معروف کہانیوں پر مبنی تماثیل پیش کی جا رہی ہیں۔

’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس بے دھیانہ دی گورنمنٹ آف منگ دی دال‘ جیسے بے معنی الفاظ سعادت حسن منٹو کے معروف افسانے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے مرکزی کردار بشن سنگھ کے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا یہ دیوانہ اب منٹو کے دنیا بھر کے فرزانوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کے منہ سے نکلے ہوئے یہ بے معنی الفاظ طرح طرح کی تاویلات سے نوازے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کی سرحد پر نو مینز لینڈ میں منہ کے بل گر کے پرلوک سدھارنے والا پاگل سکھ بشن سنگھ ادب کی دنیا میں زندہ جاوید کردار بن چکا ہے۔ اس کی دیوانگی پکار پکار کر ان لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا پیغام دے رہی ہے جو خود کو عاقل و بالغ سمجھتے ہیں لیکن عملاً وہ جس جہالت اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کے لیے سنہ انیس سو سینتالیس کے فسادات کی ایک جھلک دیکھنا کافی ہے۔

منٹو کی اس کہانی کو پاکستان اور ہندوستان میں فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے کئی بار استعمال کیا گیا ہے لیکن اسے سٹیج پر پیش کرنے کی ہمت سب سے پہلے اجوکا نے کی ہے۔

بش سنگھ کا کردار ادا کرنے والے فنکار نسیم عباس کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ تقسیمِ ہند کے موقعہ پر جنم لینے والے المیہ کو بیان کرتا ہے۔ اس سے کے پڑھنے سے علم ہوتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر ہونے والے فسادات نے جہاں ایک طرف عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا وہیں جیلوں اور پاگل خانوں جیسے مقامات پر رہنے والے افراد پر بھی شدید اثر ہوا ہے۔

چودہ مئی سے سترہ مئی تک لاہور کی الحمراء آرٹس کونسل میں پیش کیے جانے والے اس منٹو میلے میں ’نیا قانون‘ دکھایا جارہا ہے۔

منٹوکی یہ معروف کہانی سنہ انیس سو پینتیس کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔

منگو کوچوان اپنے ٹانگے میں سوار ہونے والے دو وکیلوں کی گفتگو سن کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نام سے جو نیا قانون آرہا ہے وہ ہندوستان کو انگریز کی غلامی سے آزاد کر دے گا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ کو جب ایک انگریز اس کے ٹانگے میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو منگو یہ سمجھ کر اس گورے کی پٹائی کردیتا ہے کہ انگریز راج ختم ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ قانون تو وہی پرانا ہے چنانچہ منگو کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس کہانی کی سدا بہار حیثیت سنہ انیس سو سینتالیس میں ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی جب آزادی کے بعد عوام کو امید ہوئی کہ اب نیا قانون آجائے گا۔

پاکستان میں سنہ انیس سو اٹھاون کا سال بھی ایسی ہی خوش امیدی لے کر آیا اور عوام نے ایوب خان کو ایک ایسا نجات دہندہ سمجھ لیا جو نئے قانون کے ذریعے ساری قوم کو راہ راست پر لے آئے گا۔

پھر سنہ انیس سو ستر اور سنہ انیس سو ستتر میں بھی لوگ نئے قانون کا انتظار کرتے رہے اور جس فوجی آمر نے بھی عزیز ہم وطنو! کہہ کر قوم سے خطاب کیا عوام نے اس سے نئے قانون کی امیدیں وابستہ کر لیں۔

منٹو کی کہانی اسی لیے کبھی پرانی نہیں ہوتی کہ پرانا قانون کبھی نیا قانون نہیں بنتا۔ اجوکا تھیٹر کے صداکار و اداکار فرقان مجید کہتے ہیں کہ منٹو کا لکھا ہوا ادب کسی ایک دور کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ہم جس دور میں بھی اسے پڑھتے ہیں وہ اسی دور کا معلوم ہوتا ہے۔

’نیا قانون‘ کی کہانی کو سٹیج کے لیے شاہد محمود ندیم نے ڈھالا ہے اور نسیم عباس نے ہدایات دی ہیں۔

تقسیمِ ہند کے موضوع پر لکھے گئے کھیل ’سیاہ حاشیے‘ کی ہدایتکاری مدیحہ گوہر نے انجام دی ہے اور ناٹک کے نقطہِ نظر سے منٹو کی مشکل ترین کہانی ’کھول دو‘ کی ہدایتکاری کا ذمہ بھی مدیحہ گوہر نے لیا ہے۔

ان ڈراموں کے ساتھ ساتھ کچھ کہانیوں کو پڑھ کر بھی سنایا گیا ہے جن میں ’آخری سیلوٹ، پردے کی باتیں، دیکھ کبیرا رویا اور انکل سام کے خطوط‘ شامل ہیں۔

کہانی کی قرآت میں جن فنکاروں نے حصہ لیا ان میں نسیم عباس، فرقان مجید، نوید شہزاد اور نعیم طاہر شامل ہیں۔

اسی بارے میں