تازہ ہوا کا ایک جھونکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس نمائش کو دیکھنے کے لیے بہت سی برقعہ پوش خواتین بھی آئیں

صوبہ خیبر پختونخواہ میں قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع شہر، ڈیرہ اسماعیل خان میں ’آرٹ فار پیس‘ یعنی فن برائے امن کے موضوع پر جدید مصوری اور خطاطی کی ایک نمائش منعقد ہوئی۔

تین روز تک جاری رہنے والی اس نمائش میں میں پانچ مصوروں کے تقریباً پینسٹھ فن پارے رکھے گئے۔

نمائش کے کیوریٹر اور معروف مصور عجب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نمائش کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ اس علاقے میں امن کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پر جو شدت پسندی کی چھاپ لگ چکی ہے اس کو ختم کر کے آرٹ کے ذریعے یہ پیغام دنیا کو دیا ہے کہ پاکستان کے اس علاقے میں لوگ بہت نرم مزاج اور امن کو پسند کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس نمائش میں جن مصوروں کے فن پارے رکھے گئے تھے ان کو اب تک اکتیس قومی ایوارڈ مل چکے ہیں اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں آرٹ کا کوئی ادارہ یا کسی یونیورسٹی میں کوئی آرٹ ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے لیکن یہاں آرٹ اور مصوری سے لوگوں کا لگاؤ اتنا ہے کہ اس میں وہ اپنا نام خود ہی پیدا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نمائش میں میں پانچ مصوروں کے تقریباً پینسٹھ فن پارے رکھے گئے

اس نمائش میں ریشم گل ، فاروق سیال ، محمد شریف تنویر شہروز اور عجب خان کے فن پارے پیش کیے گئے جن میں زیادہ تر فن پارے آئل پینٹنگز کے تھے۔

اس نمائش کو دیکھنے تمام طبقہِ فکر کے لوگ آئے جس میں سول اور ملٹری بیورکریسی کے اعلی افسران ، یونیوسٹی اور کالجوں کے پروفیسر اور اساتذہ، غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں کےعلاوہ وکلا، اور طلبا کی کثیر تعداد شامل تھی۔

خوش آئند بات یہ تھی کہ اس نمائش کو دیکھنے کے لیے بہت سی برقعہ پوش خواتین بھی آئیں۔

نمائش دیکھنے آنے والے افراد کا کہنا تھا کہ یہ ایک تبدیلی ہے، اس علاقے میں جہاں اب مصوری کی کم ہی نمائشیں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ماحول میں وہ لوگ رہ رہے ہیں اس میں اس طرح کی نمائش تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔