’پاکستان آ کر دُکھ بھی ہوا اور خوشی بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں پوپ گلوکاری کے بانی عالمگیر نے آرٹس کونسل کے صدر اور دوسرے عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار اور پاکستان میں پوپ گلوکاری کے بانی عالمگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کی جان ہے، اٹھارہ سال بعد پاکستان آنے پر انھیں انتہائی خوشی محسوس ہوئی ہے، اور آج انھیں جو عزت اور شہرت حاصل ہے وہ صرف اور صرف پاکستان ہی کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگ رہا ہے کہ جیسے وہ پاکستان سے گئے ہی نہیں تھے۔

عالمگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان آ کر انھیں دُکھ بھی ہوا اور خوشی بھی۔ خوشی اس بات کی کہ سولہ سترہ سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں نے انھیں یاد رکھا اور دکھ اس بات کا کہ وہ اتنی محبت کرنے والوں کو چھوڑ کر امریکہ چلے گئے۔

عالمگیر نے جو 1994 میں امریکہ منتقل ہو چکے ہیں کہا ہے کہ وہ امریکہ میں اپنے گردوں کے علاج کیے لیے پریشان تھے اور کنسرٹس کر کے علاج کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔ انھوں نے خاص طور پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے پچاس ہزار ڈالر دے کر ان کی مشکل آسان کر دی اور اب وہ باآسانی اپنے گردوں کی تبدیلی کا آپریشن کرا سکیں گے۔

وہ آرٹس کونسل کراچی کے صدر اور دوسرے عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جو مسکراہٹ آپ ان کے چہرے پر دیکھ رہے ہیں یہ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ اور ان کے ساتھیوں اور گورنر سندھ کی وجہ سے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں ہفتے میں تین بار ڈائیلیسس سے گزرنا پڑتا ہے ’آج بھی ڈائیلیسس ہوا ہے جس کے بعد مجھے آرام کرنا چاہیے تھا لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ جن لوگوں نے مجھے اتنی محبت دی ہے اور میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے ان کا شکریہ ادا کیے بغیر چلا جاؤں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خوشی ہے کہ کہ پندرہ، سولہ سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں نے مجھے یاد رکھا اور دُکھ ہے کہ میں ایسی محبت کرنے والوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔ عالمگیر

نامہ نگار انور سن رائے کے مطابق پریس کانفرنس کے بعد ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہاں ملنے والی محبت کو دیکھ کر تو وہ اپنی بیماری ہی بھول گئے ہیں لیکن وہ اتنے بیمار ہیں کہ بتا ہی نہیں سکتے۔ ’میں ان سب لوگوں اور اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں میری مالی اعانت میں حصہ لیا ہے‘۔

اس موقع پر آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے بتایا کے انھیں جیسے ہی عالمگیر کی مشکلات کا علم ہوا انھوں نے فوراً ہی وزارتِ ثقافت سے رابطہ کیا جو زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا لیکن گورنر سندھ نے رابطہ کرنے پر جس جذبے کا مظاہرہ کیا اس نے تو انھیں حیران ہی کر دیا۔

عالمگیر نے بتایا کہ ان کے آپریشن پر ایک لاکھ ڈالر کے لگ بھگ اخرجات آئیں گے۔ پینتیس ہزار ڈالر انہیں دوسرے لوگوں سے حاصل ہوئے ہیں۔

عالمگیر نے کہا کہ ’صحت مند ہوتے ہی پاکستان آؤں گا اور یہیں سے ایک بار پھر گانے کا کیریئر شروع کروں گا۔ اس موقع پر احمد شاہ نے کہا کہ عالمگیر جیسے ہی لوٹیں گے یہیں آرٹس کونسل میں ان کی صحت یابی کا جشن منایا جائے گا۔

عالمگیر کا کہنا تھا کہ کراچی سے تو انھیں خاص لگاؤ اور محبت ہے کیونکہ یہیں سے انھوں نے اپنے گانے کی ابتدا کی۔

پاکستان میں پوپ گلوکاری کے بانی عالمگیر 1970 میں اس وقت مستقبل کی تلاش میں کراچی آئے جس کے کچھ ہی ماہ بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ لیکن وہ بنگلہ دیش نہیں گئے۔

انھوں نے کراچی کی پی ای سی ایچ سوسائٹی کے معروف کیفے ڈی خان میں گٹار بجانا شروع کیا، جس کے معاوضے میں انھیں کھانے اور رہنے کی سہولت دی گئی۔ اسی کیفے سے ان کے لیے پاکستان ٹیلی وژن کا راستہ کھلا۔

انہوں نے ٹی وی سے پہلے مشہور ہسپانوی گانا ’گون تانا میرا‘ گایا جس نے بعد میں ’میں ہوں البیلا راہی‘ کی شکل اختیار کی اور پاکستانی موسیقی میں تبدیلی کی راہ ہموار کی۔

اس دور کا ان کا ایک اور مقبول ترین گانا ’دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں‘ تھا جو دوگانہ تھا اور جسے سکرین پر انھوں نے ایرانی رقاصہ نازو کے ساتھ پیش کیا تھا۔ اس گانے نے انتہائی مقبولیت حاصل کی۔

امریکہ ہی میں 2004 میں انھیں گردوں کی بیماری کا علم ہوا اور گردوں کی تبدیلی ہی اب ان کے لیے زندگی کا واحد راستہ ہے۔

ان کے لیے دنیا میں دیگر مقامات پر بھی فنڈ ریزنگ کے لیے شو کیے گئے ہیں جن میں خاص طور پر کینیڈا کی مقبول پوپ گلو کارہ کرسٹی ینگ کا ان کے ساتھ اردو میں گایا ہوا گانا ’ کہہ دینا آنکھوں سے‘ قابل ذکر ہے۔

اسی بارے میں