شبانہ خواتین کے لیے مضبوط کرداروں کی حامی

 شبانہ اعظمی تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption شبانہ اعظمی نے متوازی سینما میں اپنی ‏غیر معمولی پہچان بنائی ہے۔

بھارت کی معروف اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی نے کہا ہے کہ فلموں میں خواتین کے کردار کو مضبوط اور مؤثر ڈھنگ سے دکھائے جانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک زمانہ وہ تھا جب سن ساٹھ کی دہائی میں ’میں چپ رہوں گی‘ جیسی فلمیں بنتی تھیں جن میں خواتین کو ظلم و ستم سہتے ہوئے انہیں صابر و شاکر دکھایا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس زمانے کی فلموں میں خواتین کی خاموشی کو ان کی خوبی سمجھا جاتا تھا اور ان کے مطابق یہ بات انتہائی غلط تھی۔

یاد رہے کہ شبانہ اعظمی نے بالی ووڈ کی فلموں کے ساتھ ساتھ متوازی سینما میں خود بھی زبردست کردار نبھائے ہیں۔

انھوں نے یہ باتیں ممبئی میں خاتون قلم کار بھاونا سومیہ کی کتاب کے رسم اجرا کے موقع پر کہیں۔

شبانہ اعظمی نے اس کے ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا کہ ’بدلتے وقت کے ساتھ ہندوستانی فلموں میں خواتین کردار کی پیشکش میں مضبوطی آئی ہے تاہم اس ضمن میں مزید کوشش کی ضرورت ہے‘۔

شبانہ اعظمی نے کہا کہ ’آج کہانی اور دی ڈرٹی پکچر جیسی فلمیں بن رہی ہیں جن میں خواتین کے کردار کو مؤثر ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے‘۔

انھوں نے فلموں میں خواتین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندی فلم کے شروعاتی دور میں ناڈیا سریکھی جیسی خواتین اداکار نے ’ہنٹر والی‘ جیسے کلیدی کردار کیے جو کافی مضبوط ہوا کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ’مدر انڈیا‘ جیسی فلمیں آئیں جن میں نرگس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستانی فلم انڈسٹری میں نوتن اور مینا کماری جیسی اداکارائیں بھی ہوئیں جن کے کردار کے گرد فلمیں گھومتی تھیں تاہم پھر بھی خواتین کے کردار مضبوط نہیں ہوتے تھے اور انہیں ظلم و ستم برداشت کرتے دکھایا جاتا تھا‘۔

شبانہ نے کہا کہ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں کمرشیل سینما کے بجائے متوازی سینما نے خواتین کو اتنے مضبوط رول فراہم کیےکہ ان جیسی اداکارائیں کافی کم پیسوں میں بھی ان فلموں میں کام کرنے کےلیے تیار ہو جایا کرتی تھیں۔

شبانہ ا‏عظمی موجودہ دور میں آنے والے بدلاؤ سے مطمئن تو ہیں لیکن ان کے خیال سے خواتین پر مرکوز مزید فلمیں بننی چاہیئیں۔

اسی بارے میں