پاکستان میں نمائش کا قانونی حق ہے:شرمین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شرمین عبید چنائے کی فلم آسکر جیتنے والی پہلی پاکستانی فلم ہے

پاکستان کی آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ کے پروڈیوسرز نے کہا ہے کہ انہیں فلم کی پاکستان میں عام نمائش کا قانونی حق حاصل ہے اور انہوں نے نمائش نہ کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔

شرمین عبید چنائے اور ڈینیئل جونگ نے یہ بات تیزاب سے متاثرہ افراد کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے فلم کی پاکستان میں نمائش رکوانے کے لیے قانونی نوٹس بجھوائے جانے کے بعد اپنے مشترکہ بیان میں کہی ہے۔

اس فلم کی تیاری میں ’دی ایسڈ سروائیورز فاؤنڈیشن پاکستان‘ (اے ایس ایف) نے تعاون کیا تھا اور اسی تنظیم نے اپنے وکیل کی وساطت سے فلم ’سیونگ فیس‘ کے پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

تنظیم کے مطابق فلم میں کام کرنے والی خواتین کو خدشہ ہے کہ اگر اس کی نمائش پاکستان میں ہوئی تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

شرمین چنائے اور ڈینیئل جونگ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلم میں کام کرنے والے تمام افراد یہ بات جانتے تھے کہ فلم پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز کی جائے گی اور انہوں نے اس سلسلے میں رضامندی کی دستاویز پر دستخط بھی کیے تھے۔

بیان کے مطابق فلم میں کام کرنے والی خواتین میں سے صرف ذکیہ نامی خاتون نے ابتدائی طور پر فلم کو پاکستان میں ریلیز نہ کرنے کی درخواست کی تھی لیکن بعد ازاں انہوں نے بھی تحریری طور پر اسے پاکستان میں دکھانے کی مکمل اجازت دی تھی اور ان کی درخواست پر ان کے خاندان کی تحفظ کے لیے فلم میں کچھ تدوین بھی جائے گی۔

فلم کے پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ سیونگ فیس کی پاکستان میں نمائش کا قانونی حق رکھتے ہیں لیکن فلم کی پاکستان میں نمائش کے خلاف مہم کے بعد وہ اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہوگی کہ اگر سیونگ فیس اس ملک میں ہی نہ دکھائی جائے جہاں وہ بنی ہے‘۔

اس سے قبل اے ایس ایف کے وکیل نوید مظفر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم پروڈیوسرز نے پاکستان میں اس فلم کی نمائش کے حوالے سے فلم میں کام کرنے والے افراد سے اجازت نہیں لی۔

نامہ نگار نوشین عباس سے بات کرتے ہوئے نوید مظفر خان کا کہنا تھا کہ دستاویزی فلم بنانے سے پہلے شرمین عبید چنائے کے ’دی ایسڈ سروائیورز فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے ساتھ کچھ معاہدے ہوئے تھے جن کے مطابق اس فلم میں کام کرنے والے تمام افراد صرف اس شرط پر کام کرنے پر رضا مند ہوئے تھے کہ اس فلم کی پاکستان میں کسی قسم کی پبلک سکریننگ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی شرط بالکل واضح ہے کہ اس فلم کی پاکستان میں نمائش سے ان افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں کئی افراد کے اس حوالے سے کیس چل رہے ہیں اور اس صورتِ حال سے بچنے اور اپنی جان کو بچانے کےلیے انہوں نے یہ شرط عائد کی تھی۔

اسی بارے میں