سِم سِم ہمارا کو جاری رکھنے کی کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ میں بچوں کے مقبول پروگرام سیسمی سٹریٹ کو پاکستان میں فنڈز کی عدم دستیابی کے باوجود جاری رکھنے کے لیے کوشش شروع کردی گئیں ہیں۔

یہ پروگرام گزشتہ دسمبر میں شروع کیا گیا لیکن اب اس کو جاری رکھنے میں فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

امریکہ کے بین الاقوامی ادارے یو ایس ایڈ نے پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس منصوبہ کے لیے رقم فراہم کی تھی۔ تاہم رفیع پیر تھیٹر نے اس امید کا اظہار کیا ان کا ادارہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد دیگر مالی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس کار آمد پروگرام کو جاری رکھے گا۔

امریکہ کے مقبول پروگرام ’سیسمی سٹریٹ‘ کو پاکستان میں مقامی رنگ میں ڈھال کرکے’سِم سِم ہمارا‘ کے نام سے اردو میں پیش کیا جارہا ہے اور گزشتہ برس دس دسمبر کو شروع ہونے والے بچوں کے اس پروگرام کی اب تک چوبیس اقساط نشر کی جاچکی ہیں۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پاکستانی ’سیسمی سٹریٹ ‘ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ نے ترقیاتی امداد دینےوالے امریکی ادارے یو ایس اے کے تعاون سے تیار کیا اور یہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر ہر سنیچر کی شام کو پیش کیا جارہا ہے۔

رفیع پیر تھیٹر کے ایک عہدیدار فیضان پیزادہ کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے رفیع پیر تھیٹر کے ساتھ امریکی ادارے کے ساتھ ان کا جو معاہدہ ہوا تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے۔

ان کے بقول امریکی ادارے کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ جب تک فنڈز دستیاب ہیں یہ پروگرام جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انہوں نے بتایا کہ رفیع پیر تھیٹر نے اس پروگرام کو حاصل کے لیے ایک کڑے مقابلے حصہ میں لیا اور سینکڑوں کی تعداد میں موجود دیگر اداروں کے باوجود رفیع پیر تھیٹرکو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ بچوں کا مقبول پروگرام ان کے حصہ میں آیا جس کے بعد دو سال قبل اس پروگرام کو شروع کرنے کے لیے امریکی ادارے سے معاہدہ ہوا۔

ان کے بقول امریکی ادارے نے پاکستانی سیسمی سٹریٹ کو شروع کرنے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کی تھی جس میں سے ستر لاکھ ڈالر رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ اور تیس لاکھ ڈالر سیسمی ورکشاب کو ملے۔

فیضان پیزادہ کے مطابق امریکی ادارے یو ایس ایڈ کی مالی مدد سے سیسمی سٹریٹ کی طرز پر چلنے والا یہ پروگرام اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

فیضان پیرزہ نے بتایا کہ یہ پروگرام اب عنقریب ختم ہونے والا ہے اور اس پروگرام کی نئی چھبیس اقساط کی تیاری رواں ماہ جون میں شروع ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی ادارے کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے باوجود اس پروگرام کو جاری رکھنے کےلیے کوشش جاری ہیں۔

بچوں کے معروف پروگرام سیسمی سٹریٹ کو اُردو میں پیش کرنے کی اولین کوشش آج سے پنتیس برس قبل شعیب ہاشمی اور ان کی ٹیم نے کی تھی لیکن وہ اس وقت محدود ذرائع کا بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کا تھا اس لیے پروگرام کی مقبولیت بھی محدود ہی رہی۔

اسی بارے میں