شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں مقبول ہے

دنیائے غزل کےعظیم ترین گائیکوں میں سے ایک مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی عمر چوراسی برس تھی۔

مہدی حسن کافی عرصے سے فالج کا شکار تھے اور آغا خان ہسپتال میں داخل تھے۔

یہ لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی

مہدی حسن اور آپ کی یادیں

آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بج کر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔

چوراسی سالہ مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، اٹھارہ جولائی سنہ انیس سو ستائیس کو بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔

وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گذارے، ان دنوں انہوں نے سائیکل پنکچر بنانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔

وہ پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز سنہ انیس سو باون میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔

سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔

حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔

مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔

بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش بھی کی تھی اور گزشتہ ماہ ہی ریاست کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے درخواست کی تھی کہ مہدی حسن اور ان کے اہلِ خانہ کو بھارت آنےکے لیے ویزا دیا جائے۔

اسی بارے میں