’ کہتے کہتے چلا گیا کہ ملنے آ رہا ہوں‘

مہدی حسن کے دوست تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مہدی حسن کے گا‎‎ؤں میں انکی موت کی خبر کے بعد دکھ کا ماحول ہے

پاکستان کے مشہور غزل گلوکار مہدی حسن کی خبر جنگل کی آگ جیسی ہے جو بھارت میں ان کے پشتینی گا‎ؤں لونا پہنچی تو وہاں غم کی لہر دوڑ گئی۔

بھارت کی ریاست راجستھان کے جھنجھونو ضلع کے لونا گاؤں میں جب یہ سے خبر آئی تھی کہ مہدی حسن بیمار ہیں اور اپنے علاج کے لیے بھارت آنے کے خواہشمند ہیں انکے گاؤں والے اور انکے بچپن کے ساتھی ان کی صحت یابی کے لیے دعا کررہے تھے۔ لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ اب مہدی حسن نہیں صرف ان کے اس دنیا سے جانے کی خبر آئے گی۔

ان کے بچپن کے دوست نارائن سنگھ نے جب مہدی حسن کی موت کی خبر سنی تو ان کا گلا بھر آیا، انہوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا، ' مہدی مجھے یہ کہتے کہتے چلا گیا کہ میں تم سے ملنے آرہا ہوں۔ میری آنکھوں میں تو بس آنسو ہیں'۔

نارائن سنگھ نے شاعرانہ انداز میں کہا ' وہ آتا مل کر جاتا، چلا گیا ملنے والا، چلا گیا گانے والا، قیامت تک اس کی غزل رہے گی چلا گیا گانے والا'۔۔

نارائن سنگھ نے اپنی مادری زبان مارواڑی میں کچھ غزلیں لکھی تھیں اور انہیں انتظار تھا کہ جب انکا دوست آئے گا تو وہ ان غزلوں کو مہدی حسن کو پیش کریں گے۔

لونا گاؤں کے سابق سرپنچ کررارام کا کہنا ہے ' مہدی حسن ہمارے گا‎ؤں کی شان تھا۔ ہم سب کی دعا تھی کہ وہ جلد بھارت آجائے اور صحت مند ہوجائے لیکن بھگوان کو کچھ اور ہی منظور تھا'۔

نارائن سنگھ کو یہ یاد نہیں کہ وہ آخری بار مہدی حسن سے کب ملے تھے۔ مہدی حسن کچھ برسوں پہلے لونا آئے تھے اور وہاں اپنے گاؤں والوں سے ملے تھے اور گاؤں میں دفن اپنے خاندان کے لوگوں کر قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی گئے تھے۔

چوراسی برس کے مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، اٹھارہ جولائی سنہ انیس سو ستائیس کو بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔

وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گذارے، ان دنوں انہوں نے سائیکل پنکچر بنانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔

وہ پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز سنہ انیس سو باون میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔

اسی بارے میں