’منا بھائی ایم بی بی ایس کو نہ کہہ دیا تھا‘

بمن ایرانی تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption بمن ایرانی کی نئی فلم ' فراری کی سواری' جلد ہی ریلیز ہونے والی ہے

بالی وڈ کے مقبول ترین مزاحیہ ادکار بمن ایرانی کا کہنا ہے کہ ہندی نہ بول پانے کی وجہ سے پہلے انہوں نے ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ فلم میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔

چوالس سال کی عمر میں اپنی پہلی ہندی کمرشل فلم ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ میں کام کرنے والے اداکار بمن ایرانی کہتے ہیں کہ جب فلم کے ڈائریکٹر راجو ہیرانی ان کے پاس اس فلم کی تجویز لے کر آئے تو انہوں نے یہ فلم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

بی بی سی سے ایک خاص بات چیت میں بمن ایرانی نے کہا ’منا بھائی سے پہلے میں نے ایک انگریزی فلم ’لیٹس ٹاک‘ کی تھی، اسی فلم کو دیکھ کر منا بھائی کے پروڈیوسر ودھو ونود چوپڑا اور ہدایتکار راجو ہیرانی میرے پاس آئے تھے۔ لیکن میں نے منا بھائی فلم میں کام کرنے منع کردیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے ’اس وقت مجھے خود پر یقین نہیں تھا۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں ڈاکٹر استھانہ کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ میری ہندی بھی کمزور تھی۔ مجھے لگا کہ اگر کوئی بھی سین کرتے وقت اس میں کچھ تبدیلی لانے کی ضرورت ہوئی اور کمزور ہندی کی وجہ سے وہ نہیں کر پایا تو میں کردار کے ساتھ انصاف نہیں کر پا‎ؤں گا۔ اس لیے میں نے پہلے ہندی سیکھی۔‘

بمن ایرانی کا کہنا ہے کہ فلموں میں آنے سے پہلے وہ ایک فوٹوگرافر تھے۔ اسی سے ان کا گھر چلتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں فلموں کے آفر آتے تھے لیکن وہ سوچتے تھے کہ اگر پندرہ دن تک پیسے نہیں کمائے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔

تو پھر انہوں نے دوبارہ فلموں میں آنے کا فیصلہ کیسا کیا؟

بمن ایرانی کہتے ہیں ’میرے اندر بیٹھے شخص سے ہی مجھے ہمت ملی۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا دشمن آپ کا خود کا ڈر ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کسی بھی چیز سے ڈر نہیں لگتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو خود پر ضرورت سے زیادہ یقین ہے اور اگر آپ بالکل ہی ڈر جائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو خود پر یقین ہی نہیں ہے۔‘

بمن ایرانی نے بی بی سی سے کو بتایا کہ ان کے ہر کردار جس نے ان کے مداحوں کے دلوں کو پر چھاپ چھوڑی ہے ان تمام کرداروں کے لئے پہلے انہوں نے منع ہی کیا تھا۔

بمن کہتے ہیں ’میرے جس بھی کردار نے لوگوں کے دلوں پر چھاپ چھوڑی میں اسے کرنے سے پہلے بہت ہی ڈرا ہوا تھا اور میں نے ہر اس رول کو منع بھی کیا تھا۔ میں نے ’كھوسلا کا گھوسلا‘ کو منع کیا، جیسا کی میں نے پہلے بھی بتایا ’منا بھائی‘ کو منع کیا یہاں تک کی میں نے ’تھری ایڈيٹس‘ کو بھی منع کیا تھا۔ میری جو آنے والی فلم ہے ’پھراري کی سواری‘ میں نے تو اسے بھی انکار کر دیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے ’میرا خیال ہے کہ پہلے کسی بھی فلم کو منع کر لو، اگر خدا کی مرضی ہوئی تو وہ رول میرے پاس واپس آئے گا۔ پہلے سے ہی مجھے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کیونکہ اگر وہ میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تو اس رول میں کوئی دم ہی نہیں ہے۔‘

ان کی نئی فلم ’پھراري کی سواری‘ اس ہفتے ریلیز ہونے والی ہے۔

بمن ایرانی نے گزشتہ دس سالوں میں دس سے بھی زیادہ یادگار کردار ادا کیے ہیں جو کہ کسی بھی اداکار کے لیے ایک اہم بات ہے۔

بمن ایرانی کا شمار بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے جو مزاحیہ اور سنجیدہ کردار بخوبی ادا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں