مہدی حسن کو سپردِ خاک کر دیا گیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شہنشاہِ غزل مہدی حسن کو آج کراچی میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ انہیں نارتھ کراچی کے احمد شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کا طویل علالت کے بعد بدھ کو انتقال ہوگیا تھا۔

مہدی حسن کے بیٹے کی امریکہ سے آمد کے سبب ان کی تدفین میں دو روز کی تاخیر کی گئی۔ ان کی نمازِ جنازہ آج نمازِ جمعہ کے بعد النورسوسائٹی کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی ۔

اس موقع پر ان کے اہلِ خانہ اور لواحقین کے علاوہ ، ان کے ہزاروں مداح ، شاگرد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔

اس موقع پر فنکاروں سے زیادہ سیاسی شخصیات نظر آئیں جن میں اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نمایاں تھے۔

روہڑی سے آئے ہوئے مہدی حسن کے شاگرد شنکر نے روتے ہوئے کہا کہ ’میرا بھگوان مجھے چھوڑ کر چلا گیا‘۔

معروف غزل گائیک سلامت علی نے کہا کہ ’غزل کی گائیکی صرف مہدی حسن نے گائی۔ اس سے پہلے غزل کی گائیکی نہیں تھی، وہ اسلوب نہیں تھا، جیسے لفظ کو ادا کرنا ہی نہیں تھا، اور راگوں کو اس طرح سے متعارف کروانا نہیں تھا، شعر کو مکالمے سے ہم آہنگ کرنا نہیں تھا اور یہ کام صرف مہدی حسن نے کیا‘۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ موسیقار لعل محمد اقبال نے کہا کہ مہدی حسن کے مقام تک صرف سخت محنت کے بعد ہی پہنچا جاسکتا ہے اور وہ واحد تھے جن کا پس منظر کلاسیکل تھا۔

مہدی حسن کے ساتھی اور طبلہ نواز استاد بشیر خان نے بتایا کہ وہ مہدی حسن کے ساتھ انیس سو پچاس سے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بہت ملنسار تھے اور اپنے رفقاء کا بہت خیال رکھتے تھے۔

مہدی حسن کی تدفین کے تمام انتظامات متحدہ قومی موومنٹ نے کیے تھے اور ایم کیو ایم کے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد جنازے میں شریک تھی۔

اس موقع انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ اس موقع پر تعزیت کے لیے آنے والے افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مہدی حسن نے پسماندگان میں نو بیٹے اور چھ بیٹیاں اور دنیا بھرمیں ان گنت افراد کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں