شیطان کہاں رہتا ہے؟

پاؤلو کوئلو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئلو کو کہانی بیان کرنے پر انتہائی دسترس حاصل ہے۔

نام کتاب: شیطان اور لڑکی

THE DEVIL AND MISS PRYM

مصنف: پاؤلو کوئلو

ترجمہ: ابو فرح ہمایوں

صفحات: 112

قیمت: 200 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ، نوید سکوائر۔ اردو بازار۔ کراچی

ای میل:citybookurdubazaar@gmail.com

اس ناول میں ایک ایسے گاؤں کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کے لوگ اپنے مستقبل کے لیے ایک عورت کو بے مصرف قرار دے کر قتل کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ناول میں اچھے اور برے یا خیر اور شر کے معیاروں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اگر ہمیں اچھے اور برے یا خیر اور شر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو اور زندگی میں یہ تو ہر قدم پر ہوتا ہی ہے، لیکن کبھی دونوں کے درمیان فرق بہت واضح ہوتا ہے اور کبھی بہت چھپا ہوا، غیر واضح اور انتہائی نازک۔ ہمیں علم بھی نہیں ہو پاتا کہ ہم نے خیر کو چنا ہے یا شر کا انتخاب کیا ہے۔

شر میں کشش اور لذت ہوتی ہے، انفرادی و اجتماعی فائدے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر فائدے میں کسی دوسرے کا نقصان ہوتا ہے لیکن ہمیں دوسروں کے نقصان بہت معمولی اور غیر اہم محسوس ہوتے ہیں۔ کوئلو کا ناول انھی مسائل کے گرد گھومتا ہے۔

ناول کی کہانی ایک گاؤں میں رونما ہو رہی ہے جس کا نام وسکوس ہے اور جس کی آبادی چند سو لوگوں پر مشتمل ہے اور جس کی زندگی نہ تو انتہائی خراب ہے اور نہ ہی بہت اچھی۔ کیوں کہ نہ تو وہاں کوئی بہت امیر ہے اور نہ ہی غریب۔ گاؤں میں ایک اجنبی آتا ہے۔ گاؤں کے واحد ہوٹل میں ٹھہرتا ہے۔ ہوٹل کو بتائی گئی تفصیل کے مطابق اس کا نام کارلوسں ہے اور وہ ارجنٹینا سے آیا ہے۔ اس کے پاس سونے کی گیارہ بھاری سلاخیں ہیں۔ اس کی ملاقات گاؤں میں ایک لڑکی شانتل سے ہوتی ہے جس کے والدین بچپن ہی میں مر چکے ہیں اور اب وہ اکیلی رہتی ہے اور گاؤں کے اُسی ہوٹل میں کام کرتی ہے جس میں کارلوس ٹھہرا ہے۔

کارلوس اُسے پیشکش کرتا ہے کہ اگر وہ گاؤں والوں کو کسی ایک قتل پر آمادہ کر لے تو وہ سونے کی ایک سلاخ اُسے اور باقی دس سلاخیں گاؤں والوں کے لیے دے دے گا جس سے وہ سب خوش حال ہو جائیں گے۔ کارلوس اس کام کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مقرر کرتا ہے۔ شانتل اس کی پیشکش قبول کر لیتی ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی اُس میں کشاکش بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف اچھی زندگی کے خواب آ کھڑے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ایک انسانی قتل میں شرکت کا جرم۔ لیکن اس کشاکش کے باوجود وہ کام شروع کر دیتی ہے اور گاؤں کا پادری، میئر، میئر کی بیوی اور ہوٹل کی مالکہ سب اس کام پر تیار ہو جاتے۔

وہ قتل کے لیے گاؤں کی برٹا نامی ضعیف عورت کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے رائے میں ایک وہی ہے جس کا نہ تو کوئی مستقبل ہے اور نہ مصرف۔ خود اُس کے سوا اس کا کوئی نہیں۔ اس میں پانچ دن گذر جاتے ہیں۔ چھٹے دن گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے۔ میئر اور پادری معاملے کو اس طرح بیان کرتے ہیں گاؤں کے لوگ اپنے بہتر مستقبل کے لیے برٹا کے قتل پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ آخری شام جب برٹا کو قتل کرنے کے لیے لایا جاتا ہے تو شانتل کا ذہن تبدیل ہو جاتا ہے وہ لوگوں کو اُس جرم کا احساس دلاتی ہے جس پر انھیں اکسایا جا چکا ہے اور قتل منسوخ ہو جاتا ہے۔

کارلوس لوگوں سے قتل کیوں کرانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے پاؤلو کوئلو نے جو اسباب بیان کیے ہیں وہ مناسب نہیں ہیں۔ اُس کے بیوی بچوں کو دہشت گردو نے اغوا کر کے قتل کیا اور خود بھی مارے گئے۔ اس بات کا دوسروں میں قتل کا پچھتاوا پیدا کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر اس نے خود قتل کیا ہوتا اور اسے اِس پر ایسا پچھتاوا ہوتا جسے سہنے کے لیے وہ دوسروں میں بھی یہی پچھتاوا پیدا کرنا چاہ رہا ہوتا تو کہانی کی منطق زیادہ معقول دکھائی دیتی۔

کوئلو کو کہانی بیان کرنے پر انتہائی دسترس حاصل ہے۔ ان کی کتابیں لاکھوں میں فروخت اور پچاس سے زائد زبانوں میں تراجمہ ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں ادبی اہمیت حاصل نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ میرے پاس اس کا دو ٹوک جواب نہیں ہے۔ اگر کوئی فوری جواب دینا ہی ہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ انسان اور اس کی روحانی اور سماجی پیچیدگیوں کے معاملات اٹھاتے تو ہیں لیکن کہیں اُسے لطف انگیزی پر قربان کر دیتے ہیں، شاید۔

ناول کا ترجمہ رواں ہے، پروف ریڈنگ پر توجہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن کتاب دیدہ زیب ، دلچسپ اور ہمارے مقبول لکھنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے۔

اسی بارے میں