وفا کا تذکرہ: عشق اور محبت کا اسلوب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نام کتاب: وفا کا تذکرہ

مصنف: شاہ محمد مری

صفحات: 184

قیمت: 250 روپے

ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلیکیشن، پی او بکس 26 ، کوئٹہ بلوچستان

شام محمد مری کو میں نے پہلی بار کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والی عالمی اردو کانفرنس کے دوران سُنا جہاں وہ فہمیدہ ریاض کی کتاب ’بھاگتی دوڑتی‘ کی رسم اجرا کے واحد مقرر اور مضمون پڑھنے والے تھے۔

جس طرح وہ رسمِ اجرا ہوئی وہ کسی بھی طرح فہمیدہ ریاض اور ان کی کتاب سے متناسب نہیں تھی لیکن شاہ محمد مری کا مضمون کم از کم مجھے دلچسپ لگا۔ وہ مضمون بھی ان کی اس کتاب ’وفا کا تذکرہ‘ میں شامل ہے۔ میں ان مضامین کو خاکے کہنا زیادہ پسند کروں گا۔ کیوں کہ وہ ہر شخصیت کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں کہ آپ کی ظاہر اور ماحول سے ہی نہیں اس شخصیت کی ذات سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کتاب کو چار حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ان حصّوں کو عنوانوں سے تقسیم نہیں کیا لیکن اس کا اندازہ آپ کو فہرست سے ہو جائے گا۔ ہر حصے کے بعد ایک سطر کا خلا ہے۔

پہلے حصے میں چار خواتین ہیں، دو معروف اور دو غیر معروف۔ پہلا مضمون کوکو عالیہ، دوسرا فہمیدہ ریاض اور تیسرا فاطمہ حسن کے بارے میں ہے جبکہ چوتھا ثبینہ رفعت پر۔ اوّل تو ان کے عنوان ہی خاصا اشارہ دے دیتے ہیں، جیسے: ایک چھوٹی سے کتاب کی دیوانی: فہمیدہ ریاض، بے کل شہر میں شانت آتما: فاطمہ حسن یا محبت سکھانے والی اُستانی: ثبینہ رفعت۔

دوسرے حصے میں، نابغۂ روزگار: مشتاق احمد یوسفی، ایک عالم شخص: افتخار عارف، یک نفری فوج کا سپہ سالار: فخر زمان اور ترے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا: احمد فراز۔

تیسرے حصے میں، علامہ: عبدالعلی اخوندزادہ، کتاب کا مصنف: طاہر محمد خان، دانش سے معانقہ: عطا شاد، بھیڑ پال: بزدار اللہ بخش، گدّا: بمقابلہ عزیز بگٹی، بکریاں مجھے اچھی لگتی ہیں: ڈاکٹر علی دوست اور فطرت کے مقاصد کا نگہبان: وحید زہیر۔

چوتھے حصے میں، بحث کا عادی: اکرام احمد، متحرک ورکر: سائمن غلام قادر، سنجیدہ انقلابی: ڈاکٹر سعید مستوئی اور زہر قطرہ قطرہ: ڈاکٹر امیر الدین شامل ہیں۔

ان میں سے کچھ کو تو ہر وہ آدمی یقینی طور پر جانتا ہی ہے جو اردو پڑھتا ہے، صرف بولنا کافی نہیں ہے لیکن دوسرے وہ ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر شاہ محمد مری نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ’میری یہ تصنیف ان خواتین و حضرات کے تذکرے پر مشتمل ہے جو تقریباً تقریباً میرے ہم عصر ہیں۔ وہ یا تو ذرا سینیئر ہوں گے یا بالکل ہی ہم عمر ہوں گے۔ ایک طرح کے دوست، جن سے کئی باتوں پر اختلاف رہا ہو گا اور بہت سے مشاغل و رایوں میں ہم آہنگی نہ رہی ہو گی مگر دوست تو دوست ہی ہوتا ہے‘۔

اس کتاب کی اہم ترین بات شاہ محمد مری کا اسلوب ہے۔

جب کسی علاقے کی تاریخ، جغرافیہ اور کلچر آپ میں رچا بسا ہوتا ہے تو تحریر خود بخود اُس گہرائی اور حُسن تک جا پہنچتی ہے جو شعوری طور پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان خاکوں میں ایک فطری پن ہے اور یہ فطری پن پوری کتاب میں چشموں کی طرح جگہ جگہ پھوٹ پڑتا ہے:

’ماقبلِ جاگیرداری سماج میں رونا یا فریاد کرنا مرد کے لیے بہت نازیبا اور غیر مستحسن کام ہے۔ ملیچھ بن جاتا ہے آدمی یہ حرکت کر کے۔ آنکھوں کا ڈبڈبا جانا مردانگی، غیرت اور بکوچیت کے دائرے سے گر جانے کا مقام ہوتا ہے۔ اُس کے لیے بندوق کی ابدی شعلہ فشانی، جوانوں کا شجرِ زندگانی سے ٹوٹ کر گرتے رہنا، سفید خوبصورت دستاروں کالی ماتمی پگڑیوں میں بدلتے رہنا، آنکھوں کا سرمہ اپنے ہی ہاتھوں سے کھرچ نکالنا، چھلا بنائی ہوئی خوبصورت بلوچی داڑھی کو اپنے ہاتھوں سے بکھیر ڈالنا اور جوان حسیناؤں کی کشیدہ کی ہوئی ’جیغ‘ کو بیوگی کی غمزدہ پوشاک میں بدلنے کے لیے اپنے ہاتوں سے اکھاڑتے رہنا ہی آج کے بد قسمت بلوچ سماج کی نشانیاں ہیں‘۔

دیکھیں کتنی آسانی سے شاہ محمد مری نے نہ صرف ہمیں یہ بتایا ہے کہ آج کا بلوچستان کس زمانے میں ہے اور یہ کہ رُکے ہوئے وقت میں افتاد کے مارے بلوچستان پر کیا گزر رہی ہے۔

ایک اور دلچسپ بات شاہ محمد مری کا تصورِ عشق ہے۔

’ایک فیوڈل، کھوکھلے غیرت زدہ معاشرے میں عشق بذاتِ خود سب سے بڑی مزاحمت اور انقلاب ہوتا ہے۔ میر، ملا، تھانے دار، میجر جس نظام کی رکھوالی کرتے ہیں عاشق اُسی کو تو کھوکھلا کیے جاتے ہیں‘۔

اب وحید زہیر پر لکھے گئے خاکے میں جب وہ یہ کہتے ہیں تو اس کے معنی کیا ہوتے ہیں ’وحید کے داد کے عشق نے عشق کو وحید کا آبائی پیشہ بنا کر اس کی جینز میں سمو دیا‘۔

لیکن تھوڑی سی کم اعتمادی ہے جو کہیں کہیں شاہ محمد کو اضافی تشریح پر مجبور کر دیتی ہے:

’وحید کو گھر والے ’کا کا‘ کہتے ہیں۔ یہ پنجابی والا ’کا کا‘ نہیں ہے بلکہ ہماری بلوچی والا لفظ ہے۔ ہمارے ہاں یہ لفظ گھرانے میں سب سے پیارے لڑکے کے لیے استعمال ہوتا ہے‘۔ ایسی وضاحتوں سے کچھ ناسمجھوں کو مدد ضرور مل سکتی ہے لیکن اس کے لیے حسن کو قربان کر دینا شاید ادب کے لیے قابلِ قبول نہ ہو۔

غرض یہ کتاب صرف پڑھنے والوں کے لیے ہی ایک دلچسپ مطالعہ نہیں، لکھنے والوں کے لیے بھی بہت کچھ رکھتی ہے۔ کاش یہ کتاب کچھ زیادہ توجہ سے اور زیادہ اچھی چھپی ہوتی۔

خود شاہ محمد مری نے کہا ہے کہ اس کتاب میں انھوں جو باتیں بیان کی ہیں ان میں سے ’ہر بات روح کو چھیدتی ہوئی نکلی ہے‘ اور میں کہوں گا کہ ان کی ’ہر بات روح کو چھیدتی ہوئی نکلتی ہےاور ہر اچھا پڑھنے والا یہی محسوس کرے گا۔‘

اسی بارے میں