پشتو گلوکاروں کو معاشرتی دباؤ کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption غزالہ جاوید کا تعلق وادی سوات سے تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دو دن پہلے باپ سمیت قتل ہونے والی پشتو کی مشہور نوجوان گلوکارہ غزالہ جاوید بھی بظاہر اسی خاندانی یا معاشرتی دباؤ کا شکار ہوئی جس کا نشانہ اس سے پہلے خیبر پختونخوا کی دیگر خواتین گلوکارائیں اور فنکارائیں بنتی رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں شوبز کی دنیا میں جب بھی کوئی خوبصورت آواز یا چہرہ سامنے آیا تو بدقسمتی سے چند برسوں کے بعد اسے خاموش کر دیا جاتا رہا ہے اور ایسا ہی غزالہ جاوید کے ساتھ بھی ہوا۔

رقص سے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرنے والی تئیس سالہ نوجوان گلوکارہ نے چند سالوں کے دوران ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ یہی شہرت ان کے لیے وبال جان بن گئی۔

غزالہ جاوید کا تعلق وادی سوات سے تھا۔ دو ہزار سات اور آٹھ میں جب سوات میں عسکریت پسندی کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو غزالہ جاوید خاندان سمیت وہاں سے ہجرت کر کے پشاور منتقل ہو گئی۔

پشاور میں انہوں نے باقاعدہ طور پر گلوکاری کا آغاز کیا اور دو تین برسوں میں ہی وہ خیبر پختونخوا، دوبئی اور افغانستان میں ایک مقبول گلوکارہ کی حیثیت سے پہچانی جانے لگیں۔ لیکن شاید یہ شہرت انہیں راس نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تقریناً تین سال قبل ایمن اداس نامی ایک نوجوان گلوکارہ کو پشاور میں قتل کر دیا گیا

دو ہزار دس میں غزالہ جاوید نے جہانگیر خان نامی ایک متمول شخص سے شادی کر لی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جہانگیر خان غزالہ جاوید کے حسن اور آواز کا عاشق تھا تاہم یہ بندھن زیادہ دیر نہیں چل سکا بلکہ جلد ہی میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہوگئے۔

بتایا جاتا ہے کہ جہانگیر خان نے اس شرط پر غزالہ جاوید سے شادی کی تھی کہ وہ شوبز کی دنیا کو خیرآباد کہہ کر گھریلو زندگی اختیار کریں گی لیکن شہرت کا مزا چکھنے والی گلوکارہ کےلیے شاید یہ ممکن نہیں تھا۔ چند ماہ کے بعد دونوں کے تعلقات مزید خراب ہوئے اور غزالہ جاوید نے ایک مقامی عدالت میں تنسیخ نکاح کے لیے درخواست دائر کر دی۔ اس دوران عدالت نے خلع کا فیصلہ ان کے حق میں جاری کر دیا اور اس طرح دونوں میاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جہانگیر خان نے غزالہ جاوید سے شادی کرنے کے لیے لاکھوں روپے لٹائے تھے۔

سینیئر صحافی اور کمپئیر سید حسن علی شاہ کا کہنا ہے کہ غزالہ جاوید کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کی شادی ان کےلیے وبال جان بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہاں اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی گلوکارہ مشہور ہو جاتی ہے تو بعد میں وہی شہرت ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑے سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہیے کیونکہ بعض اوقات نہ صرف فنکارہ بلکہ ان کے خاندان والے بھی اس شادی کی وجہ سے نشانہ بنتے ہیں اور یہی کچھ غزالہ جاوید کے کیس میں بھی ہوا جس میں ان کے والد بھی مارے گئے۔

خیبر پختونخوا میں پچھلے دو تین دہائیوں سے فنکاروں اور گلوکاروں پر تواتر کے ساتھ حملے ہوتے رہے ہیں، یہ حملے چاہے ذاتی شکل میں ہو یا شدت پسندی کی وجہ سے لیکن ان میں زیادہ تر واقعات میں خواتین گلوکارائیں یا فنکارائیں نشانہ بنی ہیں جن میں بعض صف اوّل کی اداکارائیں بھی شامل ہیں۔

تقریباً تین سال قبل ایمن اداس نامی ایک نوجوان گلوکارہ پشاور میں قتل ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے بھائیوں نے مبینہ طور پر ہلاک کر دیا تھا کیونکہ ان کے بھائی نہیں چاہتے تھے کہ وہ شوبز کی دنیا میں رہے۔ اس سے قبل پشتو کی ایک اور نامور گلوکارہ نازیہ اقبال کے والد اقبال ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوئے جس کا شک گلوکارہ کے خاوند پر ظاہر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشتو گلوکارہ شکیلا ناز کے والدین صوابی میں قتل ہوئے جبکہ گلوکارہ آج بھی بیرونی ملک مقیم ہیں

تقریناً تیرہ سال قبل پشاور میں پشتو فلموں کی بانی اداکارہ یاسمین خان اپنے مکان میں قتل کر دی گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس قتل کا دعویٰ فنکارہ کے شوہر پر کیا گیا۔ اس طرح ایک اور پشتو گلوکارہ شکیلہ ناز کے والدین صوابی میں قتل ہوئے جبکہ گلوکارہ خود ملک چھوڑ کر چلی گئی اور آج بھی بیرونی ملک مقیم ہیں۔

اس طرح شدت پسندی کی وجہ سے بھی کئی فنکار نشانہ بنے ہیں یا ان میں بعض نے یہ پیشہ چھوڑ کر ملک سے باہر منتقل ہوگئے ہیں۔

الغرض اس خطے میں فنکاروں کو شدت پسندی کے ساتھ ساتھ خاندانی اور معاشرتی دباؤ کا بھی شدت سے سامنا رہا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت نے فنکاروں اور گلوکاروں کے فلاح و بہبود اور ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے جس سے مشکلات کا شکار فنکاروں کے حوصلے بحال ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں