فیض احمد فیض، چند دریافتیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سانجھ پبلی کیشنز نے اس کتاب کو عمدہ شائع کیا ہے لیکن اس کا مطالعہ اور بھی مزے کا ہے

نام کتاب: فیض احمد فیض، چند دریافتیں

مصنف: اشفاق بخاری

صفحات: 248

قیمت: 360 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

فیض احمد فیض صاحب پر نسبتاً کم وقت میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ کسی اور اردو شاعر پر شاید ہی لکھا گیا ہو۔ ان سے بڑے شاعر بھی دیدہ ور کی پیدائش میں حائل مشکلوں کا گِلا کرتے چلے گئے۔ اس سال شائع ہونے والی یہ پہلی کتاب ہے جو فیض صاحب پر آئی ہے۔

اس کے مصنف اشفاق بخاری ہیں جو ایک عمر تک تدریس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد اب سبکدوش ہو چکے ہیں۔ سابق لائل پور اور اب فیصل آباد میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک عرصے سے لائل پور کے بارے میں کتابوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ یہ اس سلسلے کے چھٹی کتاب ہے۔ جس میں انھوں نے لائل پور کے حوالے سے فیض صاحب کو اور فیض صاحب کے حوالے سے ان کے خاندان اور دوستوں کو دیکھا اور دکھایا ہے۔

فیض صاحب کب کب لائلپور آئے اور کیوں آئے اور جب جب آئے تب کیا کیا ہوا، اس کتاب میں اس کی ساری تفصیل ہے۔

اس میں یہ بھی ہے جب فیض صاحب 1929 میں لائلپور آئے تو مائل بہ عشق دل کس کے حسن کا اسیر ہوا۔ لیکن عشق کو تماشا نہ کرنے کے وصف نے کبھی کچھ کھُلنے ہی نہیں دیا، بس ادھورے کاموں کے بہانے ادھورے رہ جانے والے عشقوں میں ڈال دیا لیکن ابہام کے حسن سے آراستہ کرنا فراموش نہ کیا۔

بس ایک بار انھوں نے امرتا پریتم سے بات کرتے ہوئے یہ ضرور کہا:

’لے ہن تینوں دساں، میں پہلا عشق اٹھارہ ورہیا دی عمر وچ کیتا سی، ’نقش فریادی‘ کی ساری نظمیں میں نے اسی عشق میں لکھی تھیں‘۔

’لیکن اسے زندگی میں حاصل کیوں نہیں کیا؟‘

’ہمت کب ہوتی تھی اس وقت زبان کھولنے کی۔ اس کا بیاہ کسی ڈوگرے جاگیردار کے ساتھ ہو گیا‘۔

اس کی کچھ اور تفصیل بھی ہے جو پاکستان ٹائمز کے ایک مضمون میں شائع ہوئی۔ وہ اس کتاب میں ہے۔

اس کتاب میں دوسری بڑی تفصیل فیض صاحب کے والد سلطان محمد خان کی ہے۔ جو کسی بھی طرح ناول کے مواد سے کم نہیں ہے۔

سلطان محمد خان افغانستان میں میر منشی یا چیف سکریٹری بن گئے تھے۔ اس کے بعد وہ افغانستان سے لندن چلے گئے تو امیر عبدالرحمٰن نے انہیں برطانیہ میں افغانستان کا سفیر مقرر کر دیا۔

اشفاق بخاری نے اس کتاب میں اس حوالے سے فیض صاحب پر ڈاکٹریٹ کرنے والی روسی محققہ لڈمیلا واسٹیلیوا کا بھی محاسبہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ انھوں نے فیض صاحب کے والد کے حوالے سے جن باتوں کو حقائق میں شامل کیا ہے وہ درست نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک لڈمیلا ہی کیا دوسرے محققوں نے بھی یہ حقایق لڈمیلا سے لیے ہیں جو غالباً للیاس ہملٹنLilias Hamilton کے ناول A Vizier’s Daughter سے لیے گئے تھے۔

للیاس ہملٹن ایک آئرش نرس تھیں جو کلکتہ (کولکتہ) میں امیر عبدالرحمٰن سے ملیں اور وہ للیاس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں افغانستان چلنے کی دعوت دے اور افغانستان میں اپنا ذاتی معالج بنا لیا۔ سلطان محمد خان سے للیاس کی ملاقات کابل میں ہی ہوئی جو پُر اعتماد تعلق میں تبدیل ہو گئی۔

للیاس ہملٹن نے اپنے ناول میں یہ سارا پس منظر استعمال کیا ہے۔ ان کا یہ ناول 1900 میں شائع ہوا تھا۔اشفاق بخاری کا کہنا ہے کہ ناول کے واقعات و حالات کو تاریخی حقایق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

کتاب میں اس پورے معالعے کا اشفاق بخاری نہ صرف تناظر اور تفصیل بیان کی ہے بلکہ تجزیہ بھی کیا ہے اور دلکش انداز میں۔

اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں نہ صرف اس دور کا لائل پور جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے بل کہ لائل پور میں فیض صاحب کے دوست اور دوست داری بھی دکھائی دیتی ہے۔

پھر ایسی بھی چھوٹی چھوٹی تفصیلات ہیں جو فیض صاحب کی شخصیت کے مخلتف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ مثلاً فیض صاحب خواجہ خورشید انور کے ساتھ امرتسر سے لائل پور میں عبدالرشید کی شادی میں شرکت کے لیے آئے۔

عبدالرشید اُس پولیس انسپکٹر عبدالعزیز کا بڑا بیٹا تھا جس نے بھگت سنگھ کے ایک ساتھی کو حراست کے دوران یہ مشورہ دیا کہ ’اپنے ساتھیوں سے دغا نہ کرنا، یہ گورے تو کام نکلنے کے بعد آنکھیں بدل لیں گے‘۔ اسی بنا پر انسپیکٹر عبدالعزیز کو اس تھانے سے ہٹا دیا گیا لیکن ثبوت نہ ملنے پر مزید کارروائی نہ کی گئی۔

سانجھ پبلی کیشنز نے اس کتاب کو عمدہ شائع کیا ہے لیکن اس کا مطالعہ اور بھی مزے کا ہے۔ فیض کی حیات پر تحقیق کرنے والوں کو تو یہ کتاب ضرور ہی پڑھنی چاہیے۔

اسی بارے میں