بلوچستان تنازع اور حل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ کتاب بڑی حد تک ایک آزادانہ اور غیر جانبدانہ جائزہ ہے

نام کتاب: بلوچستان تنازع اور حل

مرتب: علی عباس

صفحات: 250

قیمت: 450 روپے

ناشر: نےرےٹیو(Narratives) پرائیویٹ لیمیٹڈ۔ اسلام آباد

E-mail: info@narratives.pk

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ پاکستان کے ہر شہری کے پاس اس کا ایک الگ جواب ہے اور اگر ان جوابوں کو ملا کر کوئی ایک جواب حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی جائے تو وہ یہ ہو گا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ طے کرنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کیا؟

تاہم بحث سے قطع نظر بلوچستان کا مسئلہ سب سے پرانا اور شاید سنگین تر ہے لیکن پاکستان کے ذرائع ابلاع اُسے اتنی توجہ بھی نہیں دیتے جتنی روزانہ ہونے والے عام جرائم کو دی جاتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے ایک ماہر اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان کے پاس وہ ناظرین، سامعین اور قارئین نہیں ہیں جن کی بنا پر ریٹنگ بنتی ہے اس لیے اُسے کوریج میں وہی جگہ ملتی ہے جو مل رہی ہے۔ اگر بلوچستان کے پاس مارکیٹ کو متاثر کرنے والے ناظرین، سامعین اور قارئین ہوتے تو ذرائع ابلاغ کی پالیسی اور ایجنڈا کچھ اور ہوتا۔ یہ تصورات کہاں تک درست ہیں یہ بھی بحث اور غور طلب ضرور ہے۔

بلا شبہ وقت گذرنے ساتھ ساتھ بلوچستان کا معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوا ہے اور ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے حل کے لیے جو بھی مشورے دیے جاتے ہیں وہ سب وفاقی حکومت کو دیے جاتے ہیں لیکن کیا وفاقی حکومت ان مشوروں پر عمل کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

زیر نظر انتھولوجی میں براہِ راست اور بین السطور بھی اسی صورتِ حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر چھ مضامین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پہلا مضمون بلوچستان کے تنازعے کی مختلف جہتوں کے بارے میں ہے اور اس میں امن کے قیام اور سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے بارے حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ مضمون صفدر سیال اور عبدالباسط کی مشترکہ تحقیق اور کوشش ہے۔ صفدر سیال انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز سے وابستہ ہیں اور ’ڈائنامکس آف طالبان انسرجنسی اِن فاٹا‘ کے لیے عامر رانا کے شریک مصنف کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں ان کے شریک مضمون عبدالباسط انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز سے وابستہ رہ چکے ہیں اور وہ بھی ’ڈائنامکس آف طالبان انسرجنسی اِن فاٹا‘ کے لیے عامر رانا اور صفدر سیال کے شریک مصنف کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

دوسرا مضمون بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور قائدین کے بارے میں ہے۔ اس میں کم و بیش صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کا تعارف کرایا گیا ہے اور پس منظر بھی بتایا ہے۔ یہ مضمون علی عباس کا ہے جو اس انتھالوجی کے مرتب اور اسلام آباد سے شایع ہونے والے ماہنامہ ’تجزیات‘کے مدیرِ منتظم ہیں۔

تیسرا مضمون بلوچستان میں قوم پرستی کی تحریک کے بارے میں ہے۔ اس میں سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی آرا جمع کی گئی ہیں اور یہ کام بھی علی عباس نے کیا ہے۔

چوتھا مضمون بلوچستان کے ممنوعہ علاقوں کے عنوان سے ہے۔ یہ بنیادی طور ان علاقوں کے سفر کی روداد ہے جس پر جانے والے تمام لوگوں کی چیکنگ کی جاتی ہے، اس چیکنگ کو مقامی لوگ اپنی تذلیل کے طریقے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ مقبول احمد کی تحریر کردہ ہے جو انگریزی جریدے ’ہیرلڈ‘ سے وابستہ ہیں۔

پانچواں مضمون ’گوادر بندر گاہ کی نیلامی، ایک گھاٹے کا سودا‘ کے عنوان سے ہے بنیادی طور یہ بھی ایک رپورٹ ہے جو 2009 میں شائع ہوئی تھی اور جسے مقبول احمد اور ناصر رحیم نے مل کر ترتیب دیا تھا۔ ناصر رحیم بھی انگریزی جریدے ہیرلڈ سے وابستہ ہیں۔

چھٹا مضمون ’بلوچستان میں جاری شورش، حقائق کی تلاش‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں، کیا بلوچستان میں امن قائم ہے؟، قدرت گیس کے نئے ذخائر کی ممکنہ دریافت، دعدیدار کون ہو گا؟، نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے ڈیرہ بگٹی پر اثرات، ڈیرہ بگٹی کو کو امن کے ماڈل میں تبدیل کرنے کی کوشش، بلوچستان میں گورنس کے مسائل اور بلوچستان میں جرائم اور کرپشن کی بڑھتی ہوئی شرح کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ جائزہ عامر متین نے لیا ہے۔جو سینیئر صحافی ہیں۔ اس کتاب کے آنے تک انگریزی اخبار دی نیوز سے وابستہ تھے۔ وہ بلوچستان کے امور سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ان مضامین کو کتاب میں شامل کرتے ہوئے بلوچستان کے کن پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے حل بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ جن کے لیے ایک الگ باب درکار ہے۔

تاہم یہ کتاب بڑی حد تک ایک آزادانہ اور غیر جانبدانہ جائزہ ہے اور اس کے مطالعے سے قارئین کے سامنے بڑی حد تک بلوچستان کی ایک ایسی تصویر آتی ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا بلوچستان کے مسئلے پر سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے اور ہٹائی جا رہی ہے تو کیوں؟

اسی بارے میں