سارتر کے مضامین: وجودیت کا تعارف

سارتر کے مضامین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سارتر کے مضامین کو فہیم شناس کاظمی نے مرتب کیا ہے۔

نام کتاب: سارتر کے مضامین

مرتب: فہیم شناس کاظمی

صفحات: 800

قیمت: 1500 روپے

ناشر: بُک ٹائم۔

دستیاب: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی

غالباً دو دہائی پہلے لاہور کی ایک خاتون شیما مجید کو یا ان کے پبلیشر کو جن کا نام اب مجھے یاد نہیں آ رہا، ایک نیا خیال آیا کہ اردو جرائد و رسائل میں شائع ہونے والے ایسے مضامین کو کتابی شکل دی جائے جو ادھر اُدھر بکھرے پڑے ہیں۔

یہ خیال بہت عمدہ اور اہم تھا کیونکہ جرائد اور رسائل ایک عرصے کے بعد کہیں دستیاب نہیں ہوتے۔ اس لیے نہ صرف تحقیق کرنے والوں کو بلکہ نئے پڑھنے والوں کے لیے بھی ممکن نہیں رہتا کہ وہ ان مضامین تک رسائی حاصل کر سکیں۔

اس کے علاوہ ایک اور بڑی وجہ پاکستان میں لائبریریوں کی خراب ترین صورتِ حال بھی تھا۔ لیکن یہ ایک الگ اور توجہ طلب موضوع ہے۔ بہر صورت کتابیں مرتب کرنے کے اُس سلسلے کے ذریعے بہت سی نایاب تحریریں سامنے آئیں۔ لیکن ایک عرصے سے یہ سلسلہ غالباً ختم ہو چکا ہے یا رکا ہوا ہے۔

اب ایسی ہی ایک ضخیم کتاب فہیم شناس کاظمی نے مرتب کی ہے جس میں فرانسیسی وجودی فلسفی ژاں پال سارتر اور وجودیت کے بارے میں دیگر لوگوں کے اکیاون مضامین ہیں۔

وجودیت بیسویں صدی میں خاص طور پر ادب کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی ایک اہم طرزِ فکر ہے۔ یوں تو اس طرزِ فکر سے تعلق رکھنے والے فلسفیوں اور مفکرین کی ایک طویل فہرست ہے اور اس کے مذہبی، غیر مذہبی اور مارکسی مقطبہِ فکر بھی ہیں جن میں سے ہر ایک کے نمائندے نامی گرامی ہیں لیکن اس کتاب میں زیادہ تر مضامین کا تعلق سارتر اور ان کی وجودی طرزِ فکر سے ہے۔

آٹھ مضامین خود سارتر کے لکھے ہوئے ہیں، جن میں ان کا اہم ترین مضمون ’وجودیت اور انسان دوستی‘ بھی ہے۔ اس کے علاوہ سارتر کے دو انٹرویو ہیں ایک انٹرویو، انٹرویو ہی کے نام سے اور دوسرا ’ژاں پال سارتر سے آخری مکالمہ کے عنوان‘ سے ہے۔ یہ حصہ اہم ترین ہے۔

باقی مضامین میں وجودیت کا تعارف ہے اور ایسا بھی ہے کہ اگر عام پڑھنے والا توجہ سے پڑھے تو باآسانی وجودیت کے بارے میں معقول حد تک نہ صرف سارتر کے تصور وجودیت بلکہ وجودیت کے مجموعی تصور کو بھی جان اور سمجھ سکتا ہے۔

اس اعتبار سے یہ ایک اہم کتاب ہے، جو نہ صرف فلسفے اور ادب کے لوگوں اور طالب علموں کے بڑے کام کی ہے بلکہ عام پڑھنے والوں کے لیے بھی دلچسپ ثابت ہو گی کیونکہ ہمارے ہاں فلسفے کو ایک خشک اور انتہائی ناکارہ مضمون تصور کیا جاتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں گنتی کے کالج ہیں جہاں فلسفے کا مضمون پڑھایا جاتا ہے۔

تاہم اس کتاب کو مرتب کرتے ہوئے کچھ ضروری کام نہیں کیے گئے۔ ایک تو یہ کہ کچھ مضامین کے پورے حوالے موجود ہیں کہ وہ کب شائع ہوئے یا کہاں سے لیے گئے لیکن بہت سے مضامین کے بارے میں یہ تردد نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ مضامین لکھنے اور ترجمہ کرنے والوں کا تعارف بھی شامل ہوتا تو خاصی آسانی ہی نہیں ہوتی ایک ناگزیر ضرورت بھی پوری ہوتی۔

کتاب میں سارتر کے مضمون ’وجودیت اور انسان دوستی، کے دو ترجمے ہیں۔ ایک ظہور الحق شیخ نے کیا تھا جو غالباً پہلی بار ’سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی‘ کی شائع کردہ کتاب ’نئی تنقید‘ میں شائع ہوا۔ دوسرا ترجمہ قاضی جاوید کا ہے، جو پاکستان میں فلسفے کو فروغ دینے والے اہم لوگوں میں سے ہیں۔ ان کے اس ترجمے کے بارے مجھے علم نہیں کہ وہ پہلی بار کب اور کہاں شا‏ئع ہوا تھا۔ قاضی جاوید کا ترجمہ ظہور الحق شیخ کے ترجمے سے مختلف بھی ہے اور اس میں نو صفحے پر مشتمل سوال و جواب کا حصہ بھی ہے۔ اس میں بھی حوالوں کا ہونا بہت ضروری تھا۔

ایک اور مسئلہ ’ٹھکرائے ہوئے لوگ‘ کے عنوان سے شا‏ئع کیا جانے والا خلیق ابراہیم خلیق کا ترجمہ ہے۔ یہ فرانز فینن کی انگریزی میں ’ریچڈ آف ارتھ‘ کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کا پیش لفظ ہے جو سارتر نے لکھا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس کتاب کا اردو ترجمہ ’افتادگان خاک‘ کے نام سے شا‏‏ئع ہوا تھا اور سجاد باقر رضوی نے کیا تھا جس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ میری رائے میں یہ ایک طرح ایسی بھول ہے جو نہ ہوتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔

لیکن ان ساری باتوں کے باوجود پڑھنے والوں کے لیے اس کتاب کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس قیمت ذرا زیادہ ہے۔

اسی بارے میں