’میں ہوں شاہد آفریدی‘ آفریدی کی کہانی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں کھیل سے متعلقہ پہلی فیچر فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کے پروڈیوسر ہمایوں سعید نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ یہ فلم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی زندگی پر مبنی ہے۔

جب سے ہمایوں سعید کی اس فلم پر کام شروع ہوا ہے پاکستانی میڈیا پر اس کے تعارف میں یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ فلم شاہد آفریدی کی زندگی پر مبنی ہے جبکہ ہمایوں سعید کے مطابق ایسا بالکل نہیں ہے۔ اس فلم میں شاہد آفریدی ضرور نظر آئیں گے لیکن ایک مہمان اداکار کے طور پر۔

یہ فلم کرکٹ کے شوقین ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جسے کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق ہوتا ہے اور وہ کرکٹ میں شاہد آفریدی جیسا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔

یہ کہانی اس نوجوان کی کرکٹر بننے کی کوششوں کے گرد گھومتی ہے اس نوجوان کا کردار انیس برس کے نعمان حبیب نے ادا کیا ہے۔ نعمان کرکٹ کھیلتے ہیں۔

ہمایوں سعید کے مطابق کرکٹ پر فلم سے ایک تاثر یہ ابھرتا ہے کہ شاید یہ کوئی خشک سی فلم ہو گی لیکن انہوں نے اس فلم میں کمرشل سینما کے تمام تر تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ اس فلم میں رومانس بھی ہوگا اور موسیقی بھی یعنی اس فلم میں بھارت اور پاکستان کے فلم بینوں کے مزاج کو مد نظر رکھ کر ان کی تفریح کا مکمل سامان موجود ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار اسامہ علی رضا ہیں۔

ہمایوں سعید کے مطابق انہیں اس فلم بنانے کا خیال اس لیے آیا کہ پاکستان میں سپورٹس پر کوئی فلم نہیں بنی ہے جبکہ انہوں نے اس سے پہلے سپورٹس پر ایک ٹیلی فلم بنائی تھی جو کافی پسند کی گئی جس کے بعد انہیں خیال آیا کہ پاکستان کے مقبول ترین کھیل کرکٹ کو کیوں نہ موضوع بنا کر فلم بنائی جائے۔

ہمایوں سعید جو چھوٹی سکرین پر ایک منجھے ہوئے اداکار اور پروڈیوسر کے طور جانے جاتے ہیں یہ ان کی پہلی فیچر فلم ہے انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ وہ یہ فلم بھارت میں کھیل کے موضوع پر بننے والی فلموں سے متاثر ہو کر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کرکٹ سے اتنا لگاؤ ہے کہ اگر وہ اداکار نہ ہوتے تو شاید کرکٹر ہوتے اور کرکٹ کے اپنے اسی لگاؤ کے سبب اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستانی قوم کرکٹ کی کتنی شیدائی ہے اس فلم کو بنا رہے ہیں۔

اس فلم کی عکس بندی کے لیے پاکستان کے تین شہروں سیالکوٹ، اسلام آباد اور کراچی کا انتخاب کیا گیا۔

فلم کی کاسٹ کی بابت ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ ایسے اداکار درکار تھے جو کرکٹ کھیلنا بھی جانتے ہوں اور ہمیں پوری دو ٹیمیں درکار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے ہمیں اچھے نوجوان اداکار مل گئے۔ اس فلم میں سینیئراداکار ندیم، جاوید شیخ، شفقت چیمہ، ماہ نور بلوچ، عینی جعفری اور خود ہمایوں سعید نے بھی کام کیا ہے۔

ہمایوں سعید کو اس فلم سے کافی اچھی توقعات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی اس فلم کو پزیرائی ملی تو چند اور پرڈیوسرز بھی ہمت کر کے فلم بنانے کی طرف آئیں گے اور جس طرح پاکستان میں ڈرامے نے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیا ہے اسی طرح پاکستانی فلم کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔ انہوں نے شعیب منصور کی ’بول‘ فلم کی مثال دی جسے پاکستان میں بہت زیادہ دیکھا اور سراہا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں