راجیش کھنہ نے جس فلم کو ہاتھ لگایا سونا بن گئی

راجیش کھنہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتقال کے وقت راجیش کھنہ کی اہلیہ اور ان کے دونوں بیٹیاں ان کے قریب تھیں

راجیش کھنہ کو بالی وڈ کا پہلا سپر سٹار کہا جاتا ہے اور انیس سو ساٹھ اور ستر کےعشرے میں انہوں نے جس فلم میں بھی کام کیا وہ باکس آفس پر ہٹ ہوئی۔

ایسا نہیں کہ ان سے پہلے بڑے سٹار نہیں ہوئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور، سب نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا لیکن فلمی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جس جنون کا شکار راجیش کھنہ کے چاہنے والے ہوئے، بالی وڈ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بالی وڈ میں اداکاری کو ایک نیا انداز بخشا، ’آنند‘ جیسی بے مثال فلموں میں رومانی اور’ٹریجک‘ کرداروں کو کچھ اس طرح نبھایا کہ وہ ان کی پہچان بن گئے۔

اپنے عروج پر انہوں لگاتار پندرہ سپر ہٹ فلمیں دیں اور فلموں کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ریکارڈ ابھی تک کوئی نہیں توڑ سکا ہے۔

راجیش کھنہ کا جنم انیس سو بیالیس میں پنجاب کے شہر امرتسر میں ہوا تھا۔ ان کے کرئیر کا آغاز انیس سو چھیاسٹھ میں چیتن آنند کی فلم ’آخری خط‘ سے ہوا لیکن انیس سو انتہر میں ’آرادھنا‘ کی ریلیز کے بعد وہ راتوں رات سٹار بن گئے۔ اس گولڈن جوبلی فلم میں انہوں نے باپ اور بیٹے کا ڈبل رول نبھایا تھا اور ان کا وہ سر کو ایک خاص انداز میں جھٹکنا، وہ منفرد چال، وہ غمگین آنکھیں اور وہ مخصوص ادائیں شائقین کے دلوں میں اتر گئیں۔

اس کے بعد ہٹ فلموں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس کا زور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ بالی وڈ میں صرف راجیش کھنا کی گونج تھی اور پروڈیوسر انہیں سائن کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار تھے۔

دو راستے، خاموشی، آنند اور سفر جیسی فلموں سے انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ کردار کی گہرائی میں بھی اترسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راجیش کھنہ بہت دن سے گمنامی کی زندگی گزار رہے تھے

کسی بھی سپر سٹار کی طرح انہوں نے اپنے دور کی مقبول ترین اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا لیکن شرمیلا ٹیگور اور ممتاز کے ساتھ ان کی جوڑی سب سے زیادہ ہٹ ہوئی۔ ہدایت کار شکتی سامنت، موسیقار آر ڈی برمن اور گلوکار کشور کمار کے ساتھ ملکر انہوں نے کٹی پتنگ اور امر پریم جیسی ناقابل فراموش فلمیں بنائیں۔

لیکن زنجیر کے بعد امیتابھ بچن کا سورج چڑھنا شروع ہوا اور ستر کی دہائی کے ساتھ ہی راجیش کھنہ کا سنہری دور بھی ختم ہونے لگا تھا، ان کی فلمیں باکس آفس پر فلاپ ہونے لگیں کیونکہ بالی وڈ کو ’اینگری ینگ مین‘ امیتابھ بچن میں اپنا نیا سپر سٹار مل گیا تھا۔

انیس سو تہتر میں انہوں نے’بابی‘ کی نمائش سے پہلے ہی ڈمپل کپاڈیا سے شادی کا اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ڈمپل اس وقت صرف سولہ سال کی تھیں، راجیش کھنا سے پندر سال چھوٹی۔ لیکن یہ شادی زیادہ دن نہیں چلی اور ڈمپل نے راجیش کھنہ کو چھوڑ کر دوبارہ فلموں میں کام کرنا شروع کیا لیکن کبھی طلاق نہیں لی۔

اسی کے عشرے میں بھی انہوں نے تین ہٹ فلمیں دیں لیکن ان کی اداکاری کو سب سے زیادہ ’اوتار‘ میں پسند کیا گیا جس میں انہوں نے ایک خود دار موٹر مکینک کا کردار ادا کیا تھا۔

انیس سو اکیانوے میں راجیش کھنہ نے راجیو گاندھی کے کہنے پر سیاست کی دنیا میں قدم رکھا اور کانگریس کے ٹکٹ پر نئی دلی سے پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے لیکن ان کا یہ رول زیادہ دن نہیں چل سکا۔

راجیش کھنہ طویل عرصے سے گم نامی کی زندگی گزار رہے تھے لیکن جیسا انہوں نے اپنی فلم آنند کے ایک ڈائیلاگ میں امیتابھ بچن سے کہا تھا: زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ ہے جہاں پناہ! اسے نہ تو آپ بدل سکتے ہیں اور نہ میں۔۔۔کون کب کیسے اٹھے گا، یہ کوئی نہیں بتاسکتا ہے۔۔۔اور اس کے بعد وہ ہنستے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں