’درگاہ کسی فلم کی تشہیر کے لیے نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلمی اداکاروں کی حاضری سے درگاہ کا نام بے وجہ تنازعات میں آتا ہے:سجادہ نشین

اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سجادہ نشین دیوان زین العابدین نے فلم اور ٹی سیریلز کی کامیابی کے لیے منت مانگنے آنے والے فلمی ستاروں کی درگاہ آمد پر سخت تنقید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم یہاں اس قسم کی حرکت کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر علماء سے رائے حاصل کی جائے گی۔

اس کے برعکس معین الدین چشتی درگاہ کے خادموں کی انجمن نے دیوان زین العابدین کے خیالات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس مقدس درگاہ کی روایت کے خلاف ہے۔

معین الدین چشتی درگاہ کے موروثی سجادہ نشین کا یہ بیان بھارت کی ٹیلی ویژن سیریل بنانے والی معروف شخصیت ایکتا کپور کی جمعہ کو درگاہ پر حاضری کے بعد آیا۔

واضح رہے کہ انہوں نے اپنی آنے والی فلم ’کیا کُول ہیں ہم‘ کی کامیابی کے لیے درگاہ پر حاضری دی تھی۔

سجادہ نشین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ کسی فلم کی تشہیر کے لیے نہیں ہے اور یہ اسلامی اور صوفیانہ تعلیمات کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس مقدس مقام پرکسی فلم کی کامیابی کی دعا کے لیے اجازت نہیں دے سکتے۔

سجادہ نشین کا کہنا ہے ’یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اورعلماء کی اس جانب توجہ مبذول کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ پتہ نہیں علماء اس بارے میں خاموش کیوں ہیں۔‘

اداکارہ قطرینہ کیف اور گلوکار ہمیش ریشمیا کی مثال پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح حاضری سے درگاہ کا نام بے وجہ تنازعات میں آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر لوگ منتیں مانگنے آتے ہیں

واضح رہے کہ جب دو ہزار سات میں ہمییش ریشمیا نے درگاہ پر حاضری دی تھی تو انھوں نے برقعہ پہنا تھا۔

درگاہ کے دیوان کا کہنا تھا ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج کی فلم کس قدر عریاں ہوتی ہیں۔ آپ ان کی زبان دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ذو معنی مکالمے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اس قسم کی فلموں کی تشہیر کے لیے اس جگہ کا استعمال کرتا ہے تو یہ اسلامی اقدار اور شریعت کے خلاف ہے۔‘

لیکن خادموں کی انجمن کے سربراہ حسام الدین چشتی نے ان کے بیان کو خارج کرتے ہوئے کہا ’یہ مقام سب کے لیے کھلا ہے پتہ نہیں وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔‘

خادموں کی انجمن کے سابق سکریٹری محمود حسن چشتی نے کہا ’درگاہ کا دروازہ تمام طرح کے مذاہب، مسلک اور لوگوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ کوئی کس طرح ان کی آمد پر پابندی لگا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں فلم سٹار، فنکار، پرفارمرز صدیوں سے آتے رہے ہیں۔ ’پتہ نہیں اچانک خان صاحب نے اس طرح کا بیان کیسے دے دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ درگاہ پر فلم والوں کو آنے سے منع کرنا درست نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ سجادہ نشین اور درگاہ کے خادمین کے درمیان ماضی میں تنازعات رہے ہیں۔

اسی بارے میں