’پاکستان سے محبت کیلیے بھارت کی برائی لازم نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی اداکارہ وینا ملک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سے بے انتہا محبت کرتی ہیں اور یہ بات ثابت کرنے کے لیے بھارت کی برائی کرنا ضروری نہیں ہے۔

یہ بات انہوں بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہی۔

وینا ملک کا کہنا تھا کہ وہ ایک اداکارہ ہیں اور اداکار دنیا کے حساس ترین لوگ ہوتے ہیں۔ ’ہم اداکار اندر اور باہر ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے، یہاں کے لوگوں سے بھی پیار ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ پڑوسی ملک کی برائی کی جائے۔ مجھے دونوں ملکوں سے پیار ہے‘۔

وینا ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی ہدف طے نہیں کیا اور نہ ہی وہ آئیڈیل ازم پر یقین رکھتی ہیں۔’میری منز ل کیا ہے، یہ طے نہیں ہے اس لیے ہر دن کو پہلا اور آخری سمجھ کر جیتی ہوں‘۔

شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وینا ملک کا کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ ’ابھی موڈ اور وقت نہیں ہے، جب ہونی ہو گی ہوجائے گی۔‘

ایک پاکستانی ٹیلی وژن چینل پر ماہ رمضان میں نشر کیے جانے والے ان کے ایک پروگرام ’استغفار‘ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وینا نے کہا کہ مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے اور لوگ یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ ان کے اور مذہب کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے۔

’افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے پروگرام دیکھے بغیر اس کے بارے میں یہ رائے دینا شروع کر دی کہ وینا یہ نہیں کر سکتی۔‘

وینا ملک کا کہنا تھا کہ استغفار نامی یہ پروگرام در حقیقت ایک ’خوبصورت‘ شو تھا۔ جس کا تصور یہ تھا کہ اس کے ذریعے وہ اسلام کے بارے میں جان سکتیں۔

’صرف تیس سیکنڈ کا پرومو دیکھ کر لوگوں نے اتنا شدید ردِ عمل دیا ہے، جو بلا جواز ہے۔ اگر یہی ردِ عمل پروگرام کے بعد ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔‘

وینا ملک کا کہنا تھا کہ ’استغفار‘ نامی پروگرام میں وہ یہ بتانا چاہتی تھیں کہ ماہِ رمضان میں کیا کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی بھی مذہب یا ملک سے تعلق رکھنے والے شخص کے لیے اچھی باتیں تھیں۔ لوگ پروگرام دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں۔‘

وینا ملک نے بتایا کہ یہ پروگرام یکم رمضان سے نشر ہونا تھا تاہم چینل کو دھمکیاں ملنے کے بعد اسے روک دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں وینا ملک نے کہا کہ اداکاری ان کا پیشہ ہے اور وہ اسے نہیں چھوڑیں گی۔ انہوں نے کہا ’اداکارہ ہوں، اداکارہ ہی رہوں گی۔‘

کچھ عرصہ قبل بھارت میں کیے جانے والے متنازع فوٹو شوٹ کے بارے میں وینا ملک کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ وہ تصاویر تدوین شدہ تھیں۔ ’وہ بِکنی شوٹ تھا جسے بعد میں نیوڈ کر کے چھاپہ گیا۔‘

وینا ملک کے بقول جریدے ایف ایچ ایم کے خلاف ان کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے جس میں شاید وقت لگ جائے۔ تاہم وہ اپنی ساکھ کی خاطر اس کی پیروی کرتی رہیں گی۔

پاکستانی سیاست میں آنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وینا ملک نے کہا کہ وہ سماجی کام تو بہت عرصے سے کر رہی ہیں لیکن سیاست کے لیے وہ خود کو موزوں نہیں سمجھتیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کو خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا۔

بی بی سی کے ایک سامع کی جانب سے پاکستان نہ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر وینا ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باہر رہنے کی وجہ ان کا کام ہے۔ بقول ان کے انہیں بھارت میں بہت کام مل رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگ بلائیں گے تو وہ ضرور آئیں گی۔ انہوں نے ’استغفار‘ پروگرام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں بھی کام کر رہی ہوں مگر وہ لوگوں کو اچھا ہی نہیں لگتا‘۔

وینا ملک کا کہنا تھا کہ وہ لابی پر یقین نہیں رکھتیں نہ ہی کسی شخص کی مدد سے یہاں تک پہنچی ہیں اس لیے اپنی کامیابیوں کی وجہ وہ خود ہیں۔

اسی بارے میں