الف لیلہ: واہ کیا کہانیاں ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیریز کے ایڈیٹر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں جو اردو کے معروف نقاد، ناول و افسانہ نگار ہیں

نام کتاب: الف لیلہ

مترجم: رتن ناتھ سرشار

صفحات: جلد اوّل 342، جلد دوم 321، جلد سوم 464، جلد چہارم 566

قیمت: جلد اوّل 795 روپے، جلد دوم 795 روپے، جلد سوم 895 روپے، جلد چہارم 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ کراچی

الف لیلہ دنیا میں کہانیوں کی مشہور و مقبول ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ اسے شام میں لکھا گیا۔ کس نے لکھا؟

کسی ایک نے یا زیادہ نے یا یہ کہانیاں وہاں کے قصہ گو سنایا کرتے تھے جسے وہاں کے کسی مصنف نے لکھ کر ایک جگہ جمع کر دیا، اس بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد یہ ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچی اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔

بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس نام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

الف لیلہ کی کہانیوں کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سمرقندکا ایک بادشاہ شہریار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے ہی بدظن ہوگیا، اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ روزانہ ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کرا دیتا۔ آخر اس کے ایک وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو بمشکل راضی کر کے شہریار سے شادی کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اوکسفرڈ یونیورسٹی کا ایڈیشن انتہائی عمدہ ہے۔ عام خریداروں کے لیے اس کی قیمت کچھ زیادہ ہو سکتی ہے لیکن عمدگی کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے

اُس نے پہلی رات ہی سے بادشاہ کو ایک کہانی سنانا شروع کی۔ رات ختم ہوگئی مگر کہانی ایک ایسے موڑ پر تھی کہ بادشاہ شہرزاد کو ہلاک کرنے سے باز رہا۔ ہر رات شہرزاد کہانی شروع کرتی اور صبح کے قریب اسے ایک ایسے موڑ پر ختم روکتی کہ اس میں ایک نئی کہانی کا تجسس بھرا سرا دکھائی دیتا اور اتنا دلچسپ ہوتا کہ بادشاہ اس کے بارے میں جاننے کے لیے شہرزاد کا قتل ملتوی کرتا چلا گیا۔

یہ سلسلہ اتنا ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گیا اس دوران بادشاہ اور شہر زاد کے تعلقات میں تبدیلی آتی گئی اور ان کے ہاں دو بچے ہوگئے اور بادشاہ کی بدظنی جاتی رہی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ عرب مورخ محمد بن اسحاق نے کتاب الفہرست میں کہانیوں کی جس کتاب کا ذکر ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے ہوا ہے وہ دراصل الف لیلہ ہی ہے اور اس میں جو کہانی بطور نمونہ ہے وہ الف لیلہ کی پہلی کہانی ہے۔

کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ الف لیلہ پہلے ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے موجود تھی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں مرتیبین نے یہ تفصیل بیان کرنے پر توجہ ضروری نہیں سمجھی اگرچہ رتن ناتھ سرشار کے بارے میں خاصی تفصیل موجود ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے صرف پہلی جلد پر کام کیا تھا جب کہ دوسری جلد مولوی محمد اسمٰعیل نے تیار کی‘۔ لیکن اوکسفرڈ کی چاروں جلدوں پر رتن ناتھ سرشار ہی کا نام ہے۔ کیوں ہے؟ اس بارے کچھ نہیں کہا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یورپ میں سب سے پہلے ایک فرانسیسی ادیب آنتون گلاں کو اس کتاب کا مخطوطہ 1690 میں ملا اور اس نے اس کا فرانسیسی ترجمہ گیارہ سال بعد شائع کیا، یہی ترجمہ اردو سمیت کم و بیش دوسری زبانوں میں ہونے والے تمام تراجم کی بنیاد بنا۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں الف لیلہ اور اس نوع کی دوسری کتابوں کے انتہائی سستے اور خراب ایڈیشن ملا کرتے تھے لیکن اب وہ ایڈیشن بھی دکھائی نہیں دیتے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سرشار کی الف لیلہ کا ایک تلخیص شدہ ایڈیشن انتظار حسین اور سید وقار عظیم ترتیب دیا تھا جو لاہور سے 1962 میں شائع ہوا تھا اس میں مولوی اسمٰعیل کی تیار کردہ دوسری جلد کی کہانیاں شامل نہیں تھیں۔ اب یہ ایڈیشن بھی دستیاب نہیں ہے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے چار جلدوں شائع ہونے والی الف لیلہ کے بارے میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رتن ناتھ سرشار ہی کی پہلی جلد ہے یا اس میں دوسری تمام کہانیاں بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں الف لیلہ اور اس نوع کی دوسری کتابوں کے انتہائی سستے اور خراب ایڈیشن ملا کرتے تھے

چوتھی جلد 784ویں رات پر ختم ہوتی ہے اور پانچویں جلد زیر طبع ہے، ہو سکتا ہے کہ پانچویں جلد میں اس باتوں کا بھی خلاصہ کر دیا جائے لیکن ان باتوں سے کا چار جلدوں میں شامل کہانیوں کی دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں۔

الف لیلہ کی اہمیت یہ ہے کہ عام لوگ تو اس کا لطف اٹھا ہی سکتے ہیں فکشن لکھنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی زبان ضرور ایسی ہے جو اردو کے بہت سے اساتذہ کے لیے بھی امتحان ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب کو اردو جاننے سے دلچسپی رکھنے والے ہر گھر میں ہونا چاہیے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی کا ایڈیشن انتہائی عمدہ ہے۔ عام خریداروں کے لیے اس کی قیمت کچھ زیادہ ہو سکتی ہے لیکن عمدگی کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے۔

سیریز کے ایڈیٹر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں جو اردو کے معروف نقاد، ناول و افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’شب خون‘ کے مدیر رہے ہیں جب کہ ایڈیٹر اجمل کمال ہیں جو پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ’آج‘ کے مدیر ہیں اور اپنے ترجموں کے علاوہ تنقیدی مضامین اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں