کشور کمار سنگیت کے ساگر تھے، جاوید اختر

کشور کمار
Image caption تیرہ اکتوبر سنہ انیس سو ستاسی کو کشور کمار اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے

بالی ووڈ کے معروف گلوکار کشور کمار کے یوم پیدائش کے موقعے سے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارتی سینما کے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے انھیں سنگیت کا ساگر کہا ہے۔

انھوں نے کہا ’کشور کمار سنگیت کے ساگر ہیں، کئی گلوکار تو محض اس ساگر کی ایک دھارا ہیں اور اس کے باوجود وہ اپنے شعبے میں انتہائی کامیاب ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشور کمار کتنے عظیم گلوکار تھے۔‘

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ جب وہ دس سال کے تھا تب انہو ں نے ان کا گایا ہوا نغمہ ’جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو‘ سنا تھا تب سے وہ ان کی آواز کے قائل ہو گئے۔

انہوں نے کہا ’میں تو ان کا بڑا پرستار ہوں اور یہ میری خوش بختی ہے کہ جب میں نے نغمہ نگار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا تو میرا پہلا ہی گیت ’دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘ کو انھوں نے ہی گایا اس طرح انھوں نے میرے نغمہ نگاری کے کیریئر کو لانچ کیا۔‘

ان کے مطابق آج ہر دوسرا گلوکار کشور کی گائیکی کی کی نقل کر رہا ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ لوگوں کو اس خطرناک بھول سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کشور اپنے ساتھ بہترین اوریجنل اسٹائل نے کر آئے تھے۔ لوگوں کو اگر ان سے کوئی چیز لینی چاہیے تو وہ ان کی اوریجنلیٹی ہے۔

چار اگست کشورکمار کا یوم پیدائش ہے اور اسی تعلق سے انھیں یاد کرتے ہوئے ان کی اہلیہ اور اپنے زمانے کی معروف اداکارہ لینا چندرورکر نے کہا کہ وہ مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ جب میں نہیں رہوں گا اس کے بعد بھی لوگ مجھے یاد کریں گے۔ میں کہتی تھی کہ ایسا نہیں ہوتا، کتنی ہی عظیم ہستیاں آئیں اور چلی گئیں، کون کس کو یاد کرتا ہے۔ لیکن جب میں آج دیکھتی ہوں کہ لوگ انھیں کے گیت گاتے ہیں اور ٹی وی پر اتنے سال بعد بھی انہیں خراج عقیدت پیش کی جاتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ ان کے پیر چھو لوں اور کہوں کہ آپ سہی کہتے تھے۔ مجھے اس وقت احساس ہی نہیں تھا کہ میں کتنے مہان انسان کی پتنی ہوں۔

لینا نے بتایا کہ جب انھیں دل کا پہلا دورہ پڑا تھا تب بھی انھوں نے ہسپتال میں بیماری کی حالت میں میرا ہاتھ پکڑ کر گایا تھا ’جیون سے بھری تیری آنکھیں مجبور کریں جینے کے لیے۔‘ میں جب کسی بات پر روتی تو وہ گانا گاتے ’دیکھ سکتا ہوں میں کچھ بھی ہوتے ہوئے، نہیں میں نہیں دیکھ سکتا تجھے روتے ہوئے۔‘

تیرہ اکتوبر سنہ انیس سو ستاسی کو کشور کمار اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔

اسی بارے میں