47 سالہ ہیروئن، بالی وڈ بدل رہا ہے کیا؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 11:36 GMT 16:36 PST
شیرین فرحاد فلم کا ایک پوسٹر

فرح خان بالی وڈ کی معروف کوریوگرافر اور ہدایت کارہ ہیں

نام: فرح خان۔ عمر: سینتالیس برس اور تین بچوں کی ماں۔۔۔

ہندی فلموں میں ہیروئن کی یہ کوئی بہترین مثال نہیں ہے۔ لیکن بالی وڈ کی نامور کوریوگرافر اور ہدایت کارہ فرح خان نے ایک مثال قائم کرتے ہوئے سینتالیس برس کی عمر میں اس جمعے کو ریلیز ہونے والی فلم ’شیریں فرہاد کی تو نکل پڑی‘ میں ہیروئن کا کردار ادا کیا ہے۔

اس فلم میں فرح خان کے ساتھ مزاحیہ اداکار بمن ایرانی ہیرو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

فلم کے پرومو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ رومانوی کامیڈی ہے یعنی چالیس برس سے زیادہ عمر کے ایک جوڑے کی لو سٹوری ہے۔

فرح خان بالی وڈ کی سب سے مشہور کوریوگرافر ہیں اور ہدایت کار کے طور پر انہوں نے ’میں ہوں نا‘ اور ’اوم شانتی اوم‘ جیسی مقبول ترین فلمیں بنائی ہیں۔

شیریں فرہاد کے بارے میں فرح خان کہتی ہیں ’اگر کوئی چالیس سے اوپر کے فنکاروں کے ساتھ ایک رومانی فلم بنا رہا ہے اور لوگ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس سے اچھی بات تو کچھ ہو ہی نہیں سکتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ایک سینتالیس سال کی شادی شدہ عورت جو تین بچوں کی ماں ہے اور وہ ایک رومانی فلم میں ہیروئن کے طور پر اپنی شروعات کرنے والی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری واقعی بدل رہی ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے۔‘

فرح خان کا کہنا ہے کہ جب فلم کے پرڈیوسر سنجے لیلا بھنسالی اور فلم کی ہدایت کار بیلا بھنسالی نے انہیں اس کردار کی پیش کش کی تو انہوں نے ان سے تھوڑا وقت مانگا کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی تھیں کہ وہ یہ کیسے کر پائیں گی۔ لیکن پھر ان کے خاوند نے کہا انہیں یہ کردار ایک چیلنج کے طور پر کر لینا چاہیے۔

فرح مانتی ہیں کہ ان کے لیے یہ فلم کافی بڑا چیلنج تھی۔

فرح خان کا کہنا ہے کہ ’ایک تو شیريں کی طرح نظر آنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ پارسی خاتون کے کپڑے پہننا اور وہ سب کچھ کرنا جو کہ میں عام طور پر نہیں کرتی۔ جیسے کہ شروعات میں شوٹنگ کے دوران میں ممبئی کی زبان بولنے لگتی تھی جو کہ پارسی خواتین نہیں بولتی ہیں۔‘

حالانکہ فرح خود پارسی ہیں لیکن انہیں پارسی زبان نہیں آتی۔

فرح خان کا کہنا ہے کہ فلم میں اداکاری کرنے کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ہدایت کار کے طور پر اداکاروں سے کام کرانا آسان ہے لیکن خود اداکاری کرنا مشکل کام ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ پریشانی میک اپ کرنے میں ہوتی تھی اور دوسری سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کسی اور عورت کی طرح دکھائی دینا اور اس کی طرح چيزوں کو محسوس کرنا۔

فرح خان کے اس کردار کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ بالی وڈ میں اس سے پہلے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ سینتالیس برس کی بھی ہیروئن ہوسکتی ہے۔ بالی وڈ میں ابھی تک ہیروئن کا تصور ایک کم سن، خوبصورت لڑکی کا ہے جس کا وزن بھی چالیس کلو گرام سے زیادہ نہ ہو تو اچھا ہے۔

لیکن فرح خان نے اب یہ رجحان توڑ دیا ہے۔ انہیں اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیئے کہ اب وہ تمام خواتین جو اپنے وزن اور عمر کی وجہ سے کبھی ہیروئن بننے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں، اب وہ بھی امید کرسکتی ہیں کہ کوئی انہیں بالی وڈ ہیروئن بننے کی پیش کش کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔