’اب فلمیں پہلے ہفتے ہی پیسہ بنا لیتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 16:47 GMT 21:47 PST

را ون، ریڈي، باڈی گارڈ، ہاسپھل اور اب ایک تھا ٹائیگر۔ ان تمام فلموں میں کیا بات مشترک ہے؟

تمام فلموں نے اپنی ریلیز کے پہلے ہی ہفتے میں 100 کروڑ روپے کا بزنس کر لیا۔ ایک اور مشترک بات یہ بھی ہے کہ ان تمام بلاک بسٹر فلموں کے کاروبار میں دوسرا ہفتہ آتے آتے زبردست کمی آئی۔

فلمی کاروبار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فلموں نے اپنی کُل باکس آفس آمدنی کا تقریباً 80 سے 85 فیصد حصہ پہلے ہفتے میں ہی پوری کر لی۔

ایک زمانہ تھا، جب رمیش سپی کی فلم ’شعلے‘ ممبئی کے منروا تھیٹر میں پانچ سال تک چلی تھی۔ اداکار راجندر کمار کی تو تقریباً ہر فلم جوبلی ہٹ ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے انہیں ’جوبلی کمار‘ تک کہا جانے لگا تھا۔

نوے کی دہائی میں ریلیز ہوئی یش چوپڑا کی فلم ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ ممبئی کے ایک تھیٹر میں دس سال تک چلی۔

تو اب کیا وجہ ہے کہ بڑی بڑی کہی جانے والی فلمیں پہلے ہفتے کے بعد شائقین کو متوجہ ہی نہیں کر پاتیں؟

پچھلے چند سالوں کی کچھ بہت بڑی ہٹ فلموں پر نظر ڈالیں تو ’3 ایڈيٹس‘ ہی ایسی فلم تھی جس نے پہلے ہفتے کے بعد بھی ناظرین میں دلچسپی برقرار رکھی۔

فلم نے اپنے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بھی زبردست بزنس کیا تھا اور اس کی کل آمدنی 200 کروڑ روپے سے بھی زیادہ تھی۔ اسی وجہ سے اسے ہندی فلموں کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم مانا جاتا ہے۔

فلموں اور فلم کاروبار سے وابستہ لوگ اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔

’3 ایڈيٹس‘ ہی ایسی فلم تھی جس نے پہلے ہفتے کے بعد بھی ناظرین میں دلچسپی برقرار رکھی

اسّی کی دہائی سے اب تک مسٹر انڈیا، نو انٹری اور وانٹڈ جیسی فلمیں بنانے والے پروڈیوسر بونی کپور نے بی بی سی کو بتایا ’دراصل اب ’ایک تھا ٹائیگر‘ جیسی بڑی فلمز تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ پرنٹس کے ساتھ ریلیز ہوتی ہیں۔ ہر ایک ملٹی پلیکس میں ان کے روزانہ پچیس پچیس شو چلتے ہیں۔ تو پہلا ہفتہ ختم ہوتے ہوتے زیادہ شائقین فلم دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ جب پوری کمائی پہلے ہی ہفتے میں ہو جاتی ہے تو اب کسی کو اپنی فلم کی سلور جوبلی منانے سے کیا مطلب۔‘

بونی کپور نے بتایا کہ حالیہ ریلیز ’ایک تھا ٹائیگر‘ بتیس سو سکرینز پر ریلیز ہوئی جبکہ اسّی کی دہائی میں ریلیز ان کی فلم ’مسٹر انڈیا‘ پورے بھارت میں محض ڈھائی سو تھیٹرز میں ریلیز ہوئی تھی۔

بونی کپور کا کہنا ہے کہ ان کی فلم ’وانٹڈ‘ نے آٹھ یا نو ہفتے میں جتنے پیسے کمائے تھے اتنے پیسے ’ایک تھا ٹائیگر‘ نے چار دن میں کما لیے۔

فلم کاروبار ماہر کومل ناہٹا کہتے ہیں ’پائریسی کے ڈر سے اور پورے ملک میں خاص طور پر ملٹی پلیکس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہر کوئی پہلے ہی ہفتے میں اپنی فلم سے زیادہ سے زیادہ منافع کما لینا چاہتا ہے۔ اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ پہلے فلموں کوسات سے آٹھ ہفتے میں جتنے لوگ دیکھتے تھے اب اتنے لوگ ایک ہفتے میں فلموں کو دیکھ لیتے ہیں۔ تو فلم دوسرے ہفتے تک دم بھی توڑ دے تو کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوتی۔‘

لیکن کیا صرف یہی ایک وجہ ہے فلم کی باکس آفس پر عمر کم ہونے کی، یا کوئی اور بھی وجہ ہے؟

فلم کی ناقد نمرتا جوشی مانتی ہیں کہ آج کل کی بڑی بڑی فلموں سے بھی ناظرین جڑے ہوئے محسوس نہیں کرتے جیسے پہلے کی ہٹ فلموں کے ساتھ ہوتا تھا۔

’جب پوری کمائی پہلے ہی ہفتے میں ہو جاتی ہے تو اب کسی کو اپنی فلم کی سلور جوبلی منانے سے کیا مطلب‘

ان کا کہنا ہے ’ریڈي، باڈی گارڈ اور ایک تھا ٹائیگر نے باکس آفس پر ایک سو کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی۔ لیکن آج میں بیٹھ کر سوچوں تو مجھے ریڈي اور باڈی گارڈ کا ایک بھی ديکھا گيا سین یاد نہیں آتا۔ فلمز پیسے تو کما رہی ہیں لیکن لوگ تھیٹر سے نکلتے ہی انہیں بھلا دیتے ہیں۔ حال کی کسی بھی بڑی فلم کو آپ کلاسیک کا درجہ نہیں دے سکتے۔‘

ان کی رائے میں کچھ حد تک ناظرین بھی اس کے لیے قصوروار ہیں۔ ’پہلے شائقین فلم دیکھنے کے لیے فلم دیکھتے تھے۔ اب سوچتے ہیں کہ چلو شاپنگ کرنے نکلے ہیں، کھانے پینے نکلے ہیں تو فلم بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جیسے فلم دیکھنے اور پاپ كارن کھانے میں کوئی فرق ہی نہیں رہ گیا ہو۔ ایسے ناظرین ہی ریڈي، باڈی گارڈ یا راؤڈي راٹھور جیسی فلموں کو ہٹ کرتے ہیں۔‘

کومل ناہٹا کا خیال ہے کہ سارا کھیل ابتدائی تین دنوں کا ہو گیا ہے۔ ’بڑا سٹار لے لو، فلم کا طوفانی پروموشن کر لو، اس میں آئٹم سانگ ڈال دو بس پہلے ہفتے بھیڑ لگ جائے گی۔ اس لیے لوگ کہانی پر نہیں بلکہ فلم کی پیکیجنگ پر توجہ دیتے ہیں۔‘

تو کیا اس دور میں ایسی فلمیں بنانا مشکل ہے جو پہلے ہفتے کی حد لائن کو پار کر سکیں؟

نمرتا کہتی ہیں ’تھری ایڈيٹس اور اس سے پہلے لگان اور رنگ دے بسنتی جیسی فلموں نے دکھایا کہ کہانی میں دم ہو تو ناظرین کو فلم سے پہلے ہفتے کے بعد بھی جوڑے رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی اور فلموں کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔